قطب مینار: انڈیا کا سب سے اونچا مینار متنازع کیوں ہے؟

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا

قطب مینار انڈیا کی سب سے مقبول اور نمایاں یادگار عمارتوں میں سے ایک ہے۔ اور یہ ملک میں مسلم حکمرانی کے دور کے ابتدائی فن تعمیر میں سے ہے۔ لیکن اب ایک عدالت فیصلہ کرے گی کہ کیا دہلی کے قطب مینار کمپلیکس میں صدیوں پہلے منہدم کیے گئے مندروں کو بحال کیا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل یہ مینار بارہویں صدی میں تعمیر کیا گیا اور اس کی بلندی 73 میٹر یعنی 240 فٹ ہے۔ لال اینٹوں سے بنی اس عمارت میں کل 379 سیڑھیاں ہیں۔

فتح کا یہ مینار، دہلی کے پہلے سلطان قطب الدین ایبک نے سنہ 1192 میں ہندوؤں کو شکست دینے کے بعد تعمیر کروایا تھا اور یہ افغان فن تعمیر کی طرز پر بنے میناروں سے متاثر تھا۔

ان کے بعد بھی تین حکمرانوں نے اس کی تزئین و آرائش کی اور اس کی بلندی میں توسیع کی گئی۔

مؤرخ ولیم ڈیلریمپل کہتے ہیں کہ دہلی کی اراولی ہل کے پہاڑی علاقے میں ایک دوربین کی طرح دکھائی دینے والا قطب مینار 'آمد کا فخریہ اور فاتحانہ بیان' تھا۔

آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ایک سینیئر افسر جے اے پیج کے سنہ 1926 میں لکھے گئے ایک نوٹ کے مطابق اس مینار پر مشتمل قلعہ بند کمپلیکس کی ایک متنازع تاریخ ہے۔ وہاں موجود 27 ہندو اور جین مندروں کو منہدم کر دیا گیا تھا اور ان کا ملبہ اس جگہ پر دہلی کی پہلی مسجد کی تعمیر کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ ان مندروں میں سے ایک کے چبوترے کو برقرار رکھا گیا تھا اور اسے مسجد کی تعمیر میں ضم کر دیا گیا تھا۔

اس کمپلیکس میں قطب مینار کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ اس کمپلیکس میں 1600 سال پرانا 20 فٹ اونچا لوہے کا ستون ہے، جس نے صدیوں سے ہر طرح کے موسم اور وقت کی تباہ کاریوں کا سامنا کیا ہے، اس میں پانچ محرابیں اور دہلی کے سلطانوں میں سے ایک کا مقبرہ بھی ہے۔

اس کمپلیکس میں موجود عمارتوں میں ہندو اور مسلمان فن نقش نگاری استعمال کی گئی ہے۔ اپنے نوٹ میں جے اے پیج نے کہا تھا کہ اس یادگار عمارت میں 'قدیمیت اور فن نقش نگاری' کے اعتبار سے دہلی کی تاریخ کی سب سے اہم اور قابل ذکر باقیات ہیں۔

آٹھ سو سال بعد اب انڈیا میں عدالت اس درخواست کی سماعت کر رہی ہے کہ اس کمپلیکس میں ماضی میں منہدم کیے گئے 27 مندروں کو بحال کیا جائے۔

نومبر میں، ایک سول عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان پر مختلف ادوار پر کئی سلطنتوں کی حکمرانی رہی ہے اور ماضی میں کی گئی غلطیاں 'ہمارے حال اور مستقبل کے امن کو خراب کرنے کی بنیاد نہیں ہو سکتیں۔'

اب درخواست گزار نے اس عدالتی فیصلے کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کیا ہے اور موقف اپنایا ہے کہ 'جب مسجد سے بہت پہلے اس جگہ پر ایک مندر موجود تھا تو اسے بحال کیوں نہیں کیا جا سکتا؟‘ ہری شنکر جین کا ماننا ہے کہ ہندو دیوتا اب بھی اس کمپلیکس میں موجود ہیں۔

آثار قدیمہ کے ماہر اس کمپلیکس کی حیثیت کے متعلق واضح ہیں اور اس یادگار کو وفاقی قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اس کی حیثیت کو تبدیل یا واپس نہیں کیا جا سکتا۔' لیکن اسی طرح کے دیگر تنازعات جنھیں ہندو قوم پرست گروہوں کی حمایت حاصل ہے وارانسی اور متھرا کے شہروں میں مسمار کی گئی ہندو عبادت گاہوں پر تعمیر کی گئی مساجد پر جنم لے رہے ہیں۔

مورخین کا کہنا ہے کہ 12ویں صدی کے اواخر سے مسلم بادشاہوں نے اور کم از کم 7ویں صدی سے ہندو بادشاہوں نے دشمن بادشاہوں یا باغیوں کی سرپرستی والے مندروں کو لوٹا، نئے سرے سے تعمیر کیا یا تباہ کیا تھا۔

مورخ رانا صفوی کہتی ہیں کہ 'ہر حکمران نے سب سے بڑی مذہبی علامتوں کو تباہ کر کے اپنی سیاسی طاقت اور اپنی سامراجی طاقت پر مہر ثبت کرنے کی کوشش کی۔ ایسا نہیں ہے کہ تمام مندروں کو تباہ کر دیا گیا تھا، صرف انھیں تباہ کیا گیا تھا جن کی سیاسی اہمیت تھی۔'

یہ بھی پڑھیے

قطب مینار کیوں بنایا گیا؟ رانا صفوی کہتی ہیں کہ اس کی ایک وجہ اسے کمپلیکس میں مسجد کے مینار کے طور پر استعمال کرنا ہو سکتی ہے جس کا مقصد مؤذن کی جانب سے مسلمانوں کو نماز کے لیے بلانا ہو سکتی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کی ایک اور ممکنہ وجہ دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے فوجی واچ ٹاور کے طور پر استعمال کرنا ہو سکتی تھی۔ تاہم، اس کی تعمیر کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ فتح کا مینار تھا، جو غزنی کے میناروں کی طرح تھا اور اسی سے متاثر تھا۔

یہ مضبوط مینار دو مرتبہ آسمانی بجلی گرنے سے بھی محفوظ رہا ہے، ایک واقعے میں اس کی چوتھی منزل کو نقصان پہنچا تھا اور اس وقت کے سلطان نے اس کی مرمت کرواتے ہوئے اس کی اینٹوں کو پتھر اور سنگ مر مر سے تبدیل کر دیا تھا۔ اور اس کی دو اضافی منزلیں بھی تعمیر کی گئی تھیں۔ اور اس کی بالائی منزل پر ایک چبوترا بنایا گیا تھا۔

اس چبوترے نے اس کی بلندی میں 12 فٹ کا اضافہ کیا تھا لیکن ایک زلزلے میں وہ نیچے آ گرا تھا۔ یہ مینار دو شدید زلزلوں میں بھی محفوظ رہا ہے۔

آج قطب مینار دہلی کی تاریخی یادگار سے کچھ بڑھ کر ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ دہلی کے باسیوں کی کئی نسلوں کی یادداشت کا حصہ ہے۔

رانا صفوی کو آج بھی یاد ہے جب انھوں نے سنہ 1977 میں پہلی مرتبہ یہاں کا دورہ کیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ 'میں نے اس کی پہلی منزل پر چڑھ کر اس وقت کے خوبصورت دیہی علاقوں کو دیکھا تھا۔ میری بڑی بہنیں 1960 کی دہائی میں اس سے پہلے کے دورے کی بات کرتی ہیں جب ہم مینار کی چوٹی تک گئے تھے۔'

اس مینار کو جو شہر کی ایک مشہور سیر و تفریح کی جگہ ہے، 1981 میں اس وقت زائرین کے لیے بند کر دیا گیا تھا جب اس کی تنگ سیڑھیوں پر بھگدڑ کے ایک واقعے میں 45 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تر سکول کے بچے تھے۔

یہ یادگار شہر کے ایک مہنگے علاقے میں واقعہ ہے جس کے آس پاس ریستوران اور مہنگی بوتیکس ہیں۔

یہاں کے ریستوران اپنی پروموشنز اور انسٹاگرام پر بارز اور روف ٹاپ کے اشتہارات میں اس مینار کے دلفریب مناظر کو آپ کی اگلی ڈیٹ کے لیے بہترین قرار دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک ریستوران نے انسٹاگرام پر اس کو 'کریزی سیکسی' بھی کہا ہے۔

یہ سب سڑکوں اور کمرہ عدالتوں میں اس یادگار پر ہونے والے ہنگاموں سے بہت دور ہے۔ اس ماہ کے شروع میں، ایک دائیں بازو ہندو گروپ کے ارکان کو کمپلیکس کے باہر مظاہرہ کرنے اور نعرے لگانے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے درخواست گزار جین نے عدالت کو بتایا کہ ایک مندر منہدم ہونے سے 'اپنی مذہبی اہمیت یا تقدس سے محروم نہیں ہوتا'۔ انھوں نے کہا کہ انھیں قطب مینار کے کمپلیکس میں عبادت کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔

جس پر جج نے ریمارکس دیتے کہ 'دیوی دیوتا پچھلے آٹھ سو سال سے اس عبادت کے بغیر رہ رہے ہیں، انھیں ایسے ہی رہنے دیں۔'

اس درخواست پر عدالتی فیصلہ اگلے چند ہفتوں میں متوقع ہے۔