آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گندم کی برآمد پر انڈیا کے ’یو ٹرن‘ سے دنیا پریشان کیوں؟
انڈیا کی طرف سے گندم کی برآمد پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں روزمرہ خوراک میں شامل اس اہم جنس کی قیمتوں میں قابل قدر اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکی ریاست شکاگو میں ’بینچ مارک ویٹ انڈکس‘ یعنی گندم کی قیمت میں 5.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافے سے ڈبل روٹی سے لے کر کیک اور نوڈلز تک ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے۔
انڈیا میں شدید گرمی کی لہر کے دوران گندم کی برآمدات پر پابندی لگائے جانے سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔
انڈیا کی حکومت نے کہا ہے کہ گندم کی برآمدات کے ان سودوں پر اس پابندی کا اثر نہیں پڑے گا جن کی ’ایل سی‘ جاری ہو گئی ہیں اور ان ملکوں کی گندم فراہم کرنے کی درخواستیں بھی منظور کر لی جائیں گی جن کو اپنی خوراک کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گندم پر برآمدی پابندی عارضی ہے اور اس پر نظر ثانی بھی کی جا سکتی ہے۔
لیکن دنیا کے سات بڑی معیشتوں کے حامل ممالک کی تنظیم ’جی سیون‘ کے زراعت کے وزرا نے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔
جرمنی کے خوراک اور زراعت کے وزیر چم اوزدمیر نے کہا کہ ’اگر ہر ملک برآمدات پر پابندیاں لگا دے گا یا اپنی منڈیوں کو بند کر دے گا تو اس سے بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
جی سیون دنیا کی سات ترقی یافتہ معیشتوں کے حامل ملکوں کی ایک بین الاقومی تنظیم ہے اور عالمی تجارت اور بین الاقوامی مالیاتی نظام ان ملکوں کے ہاتھوں میں ہے۔
ان ملکوں میں امریکہ کے علاوہ کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور برطانیہ شامل ہیں۔
گو کہ انڈیا دنیا میں گندم پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے لیکن ماضی میں یہ گندم برآمد کرنے والا بڑا ملک نہیں رہا اور انڈیا میں گندم کی پیداوار کا بڑا حصہ مقامی ضروریات کو پورا کرنے میں استعمال ہو جاتا ہے۔
لیکن یوکرین کی گندم کی برآمد روس کی فوجی کارروائی کے بعد تقریباً ختم ہو گئی ہے۔
گندم پیدا کرنے والے بڑے ملکوں میں خشک سالی، سیلابوں اور قدرتی آفات کی وجہ سے گندم کی فصل متاثر ہوئی ہے۔ اجناس کی بیوپاری عالمی منڈی میں گندم کی کمی کو پورا کرنے کے لیے انڈیا کی طرف دیکھ رہے تھے۔
انڈیا میں گندم کی برآمد پر پابندی سے قبل انڈیا ایک کروڑ ٹن گندم برآمد کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
انڈیا کا گندم کی برآمد پر ’یوٹرن‘
بی بی سی نیوز کے انڈیا ایڈیٹر، وکاس پانڈے کا تجزیہ
صرف ایک ہفتے قبل انڈیا کی وزارتِ کامرس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر گندم برآمد کرنے کے بارے میں بڑے پُرجوش ہیں۔
انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا وہ جملہ دہرایا کہ انڈیا دنیا کو کھلانے کے لیے تیار ہے۔
اس تناظر میں پابندی کا لگایا جانا ایک یوٹرن نظر آتا ہے۔ اس سے حکومت کی مقامی منڈیوں میں اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر پریشانی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ فیصلہ خارجہ پالیسی کے محاذ پر انڈیا کے لیے ایک بڑی مشکل بھی بن سکتا ہے۔
انڈیا ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی اس شرط سے چھوٹ حاصل کرنے کے لیے بھی شور مچاتا رہتا ہے جس کے تحت وہ ملکوں کو اجناس برآمد نہیں کر سکتے جو ملکی ذخائر بھرنے کے لیے اپنے کسانوں سے سرکاری سطح پر طے شدہ نرخوں پر گندم کی خریداری کرتا ہے۔
چند ممالک انڈیا کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ اسے گندم کی برآمد کرنے میں مدد دی جا سکے۔
اسی وجہ سے انڈیا کی حکومت کے اس فیصلے سے بہت سے ملک خوش نہیں ہیں۔
عالمی سطح پر خواک کی قیمتوں میں مارچ کے مہینے میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا اور اقوام متحدہ کے مطابق یوکرین پر فوجی کارروائی کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
یوکرین میں لڑائی کی وجہ سے خوردنی تیل پیدا کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک سے برآمدات متاثر ہوئیں جس کا اثر دوسری اجناس پر بھی پڑا۔
یوکرین گندم اور مکئی پیدا کرنے والا بھی ایک بڑا ملک ہے جن کی قیمتوں میں بھی بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ خوراک کی عالمی قیمتوں میں اپریل کے مہینے میں ذرا سا دباؤ کم ہوا تھا لیکن اس کے باوجود یہ گذشتہ سال کے مقابلے میں تیس فیصد زیادہ رہیں۔
مزید پڑھیے
توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پوری دنیا میں افراط زر کو بڑھا رہی ہیں۔
اس نے امریکی فیڈرل ریزرو اور بینک آف انگلینڈ سمیت بڑے مرکزی بینکوں کو بڑھتی ہوئی قیمتوں پر لگام لگانے کی کوشش میں شرح سود بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس کے نتیجے میں، ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ قرض لینے کی زیادہ قیمت عالمی اقتصادی نمو کو متاثر کر سکتی ہے، کچھ اعلیٰ سطحی مبصرین نے کساد بازاری کا انتباہ دیا ہے۔
اتوار کو، وال سٹریٹ کی سرمایہ کاری بینکنگ کمپنی گولڈمین سیکس کے سینیئر چیئرمین، لائیڈ بلینکفین نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت، امریکہ میں کساد بازاری کا ’بہت زیادہ خطرہ‘ ہے۔
امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس پر ’فیس دی نیشن‘ نامی پروگرام میں بلینک فین کے تبصرے اسی دن آئے جب گولڈمین سیکس کے ماہرین اقتصادیات نے اس سال اور اگلے سال کے لیے اپنی امریکی اقتصادی ترقی کی پیشن گوئیوں میں کمی کی۔