آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سیاچن: خطرناک ترین میدانِ جنگ جہاں لڑنا تو دور سانس لینا بھی اپنے آپ میں بڑا کارنامہ ہے
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
یہ بات 13 اپریل 1984 کی ہے۔ صبح 5.30 کا وقت تھا۔ کیپٹن سنجے کلکرنی اپنے سپاہیوں کو لے کر چیتا ہیلی کاپٹر پر بیس کیمپ سے روانہ ہوئے۔
ان کے پیچھے دو اور ہیلی کاپٹرز نے پرواز بھری۔ دوپہر تک سکواڈرن لیڈر سریندر بینس اور روہت رائے نے اس طرح کی مزید 17 پروازیں کیں۔ کیپٹن سنجے کلکرنی ایک جے سی او اور 27 انڈین فوجیوں کے ساتھ سیاچن میں بلافونڈ لا کے قریب ہیلی کاپٹر سے نیچے اترے۔
نتن گوکھلے اپنی کتاب 'بیانڈ این جے 9842 دی سیاچن ساگا' میں لکھتے ہیں کہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سنجے کلکرنی نے انھیں بتایا کہ ’صبح چھ بجے ہم میں سے چار لوگ چند فٹ کی بلندی پر منڈلاتے ہوئے دو ہیلی کاپٹروں سے نیچے کودے تھے۔!
'مجھے یاد ہے کہ میں نے اس سے پہلے نیچے پھیلی ہوئی برف کی گہرائی اور قوت برداشت دیکھنے کے لیے 25 کلو وزن کی آٹے کی بوری گرائی تھی۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ وہاں پھیلی برف بہت سخت ہے۔‘
وہ لکھتے ہیں کہ 'وہاں چھلانگ لگانے کے بعد، ہم نے وہاں ایک قسم کا ہیلی پیڈ بنایا تھا تاکہ ہمارے بعد دوسرے ہیلی کاپٹر صرف آدھے منٹ کے لیے وہاں اتر سکیں اور پھر دوسری پرواز پر چلے جائیں۔
’اس دن کی ایک ناقابل فراموش یاد یہ ہے کہ حد نظر صفر سے بھی کم تھی اور درجہ حرارت منفی 30 ڈگری تھا۔'
یہ وہ علاقہ ہے جہاں لڑنا تو دور سانس لینا بھی اپنے آپ میں بڑا کارنامہ ہے۔
لینڈنگ کے ساتھ ہی ایک فوجی کی موت
بلافونڈ لا میں ہیلی کاپٹر سے اتارے جانے کے تین گھنٹے کے اندر ہی ریڈیو آپریٹر منڈل زیادہ بلندی پر ہونے والی بیماری ‘پلمنری اوڈیما‘ کا شکار ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلافونڈ لا میں اترنے کے فوراً بعد، کلکرنی اور ان کی ٹیم کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا کیونکہ وہ ایک تباہ کن برفانی طوفان کی لپیٹ میں آ گئے تھے۔
حال ہی میں شائع ہونے والی ایک اور کتاب 'فل سپیکٹرم انڈیاز وارز 1972-2020' میں ایئر وائس مارشل ارجن سبرامنیم لکھتے ہیں کہ '16 اپریل کو جب موسم صاف ہوا تو کچھ اور فوجی اور طبی امداد بھیجی جا سکی تھی۔‘
’اس وقت تک ایک فوجی کی موت ہو چکی تھی اور بقیہ 27 فوجیوں میں سے 21 فوجی سردی کا شکار ہو چکے تھے۔‘
پاکستان نے برف پر رہنے کے لیے خصوصی کپڑے جرمنی سے خریدے
سیاچن کی جنگ پر سب سے دلچسپ تبصرہ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر فیلو سٹیفن کوہن نے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'انڈیا اور پاکستان کے درمیان اس تنازعے کا موازنہ دو گنجے مردوں کی لڑائی سے کیا جا سکتا ہے جو کنگھی کے لیے لڑ رہے ہیں۔'
75 کلومیٹر طویل اور تقریباً 23 ہزار فٹ کی بلندی پر تقریباً دس ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا سیاچن گلیشیئر کا خطہ اس قدر ناقابل رسائی ہے کہ سنہ 1972 تک انڈیا اور پاکستان دونوں نے اس کی حد کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔
انڈیا کا سر اس وقت جھک گیا جب 70 کی دہائی میں کچھ امریکی دستاویزات میں این جے 9842 کے آگے قراقرم رینج کے علاقے کو پاکستانی علاقہ ظاہر کیا جانے لگا۔
انڈیا کو یہ بھی معلوم ہوا کہ پاکستانی مغربی ممالک کی کوہ پیمائی ٹیمیں بھی اس علاقے میں بھیج رہے ہیں تاکہ اس علاقے پر اپنا دعویٰ مضبوط کیا جا سکے۔
سنہ 80 کی دہائی میں انڈین خفیہ ایجنسی را کے جاسوسوں کو معلوم ہوا کہ پاکستان جرمنی سے زیادہ اونچائی پر رہنے کے لیے خصوصی کپڑے خرید رہا ہے۔
را کے سابق سربراہ وکرم سود اس وقت سری نگر میں تعینات تھے۔ وہ خود 15 کور کے بادامی باغ ہیڈ کوارٹر گئے اور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پی این ہون کو پاکستان کی تازہ ترین سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ انھیں اس بات کا خیال تھا کہ ’پاکستانی یہ کپڑے پِکنک کے لیے تو نہیں خرید رہے ہیں‘۔
انڈین فوجی پاکستانیوں سے پہلے سیاچن پہنچے
ایئر وائس مارشل ارجن سبرامنیم اپنی کتاب میں لکھتے ہیں 'پاکستان نے 1983 کے موسم سرما میں بلافونڈ لا کو کنٹرول کرنے کے لیے مشین گنوں اور مارٹروں سے لیس اپنے فوجیوں کا ایک چھوٹا دستہ بھیجا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انتہائی خراب موسم اور رسد کی فراہمی میں ناکامی کی وجہ سے انھیں وہاں سے واپس آنا پڑا۔‘
ارجن سبرامنیم مزید لکھتے ہیں کہ ’جب انڈین فوجی سیاچن میں اتر رہے تھے تو پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیا الحق سیاچن میں رہنے کے لیے سکردو میں ایک بٹالین برزل فورس کو تربیت دے رہے تھے۔ منصوبہ یہ تھا کہ اپریل یا مئی میں اسے وہاں بھیج دیا جائے گا۔ لیکن انڈین فوجی ان سے پہلے وہاں پہنچ گئے۔ برزل فورس نے 25 اپریل سنہ 1984 کو انڈین فوجیوں پر پہلا حملہ کیا لیکن انڈین فوجیوں نے اسے ناکام بنا دیا۔‘
اس وقت پاکستان کے سابق فوجی صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف بھی وہاں تعینات تھے۔ وہ اپنی سوانح عمری 'اِن دی لائن آف فائر' میں لکھتے ہیں کہ 'ہم نے مشورہ دیا کہ ہم مارچ میں وہاں جائیں، لیکن شمالی علاقہ جات کے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے میرے مشورے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دشوار گزار علاقے اور خراب موسم کی وجہ سے ہمارے سپاہی نہیں جا سکتے۔ ان کا مشورہ تھا کہ ہمیں وہاں یکم مئی کو جانا چاہیے۔ چونکہ وہ کمانڈر تھا اس لیے اس کی بات مان لی گئی۔ یہاں ہم سے غلطی ہوئی۔ جب ہم وہاں پہنچے تو وہاں کی بلندیوں پر انڈین پہلے سے ہی قابض تھے۔'
جب فوجی کی لاش کو نیچے اتارنے کا عمل دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرنا پڑا
سیاچن پر پوسٹس بنانے سے زیادہ مشکل وہاں منفی 30-40 ڈگری درجۂ حرارت میں زندہ رہنا تھا۔ اس سے بھی زیادہ مشکل ہلاک شدہ فوجیوں کی لاشوں کو نیچے لانا تھا۔ 90 کی دہائی میں سونم سیڈل پر ایک گورکھا سپاہی کی ایچ اے پی ای بیماری سے موت ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
اس کی لاش کو ہیلی پیڈ تک لایا گیا تاکہ اسے بیس کیمپ تک بھیجا جا سکے۔ لیکن پائلٹ کچھ ضروری سامان لے جانے میں مصروف تھے، اس لیے انھوں نے کہا کہ وہ شام تک ہی لاش کو اتار سکیں گے۔
نتن گوکھلے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: 'جب شام ہوئی تو پائلٹ نے کہا کہ ان کا ایندھن ختم ہو گیا ہے، اس لیے وہ اگلے دن لاش لے جائیں گے۔ اگلے دن کچھ اور ضروری کام آ گیا۔
اس طرح لاش کو اتارنے کا عمل مسلسل دو ہفتوں تک ملتوی کیا جاتا رہا۔ ہر روز گورکھا اپنے ساتھی کی لاش ہیلی پیڈ پر لاتے تھے۔ تاہم ہیلی کاپٹر میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اسے واپس لے جاتے۔
اپنے مردہ ساتھی کی لاش کو 20 دن تک بنکر میں رکھنے کا اثر یہ ہوا کہ انھیں وہم ہونے لگا کہ جیسے وہ ابھی زندہ ہو۔
انھوں نے مردہ سپاہی کے ساتھ ایسا سلوک کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ لاش کا کھانا الگ رکھنا شروع کر دیا۔ جب افسران کو اس کا علم ہوا تو انھوں نے لاش کو پی ون یعنی پہلی ترجیح قرار دیا اور پھر اسے نیچے اتارا جا سکا۔'
لاش اکڑنے کی وجہ سے اسے ہیلی کاپٹر میں رکھنا مشکل
لاشوں کو نیچے اتارنے کی پائلٹوں کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں۔ کئی بار لاشوں کے نیچے جانے کا انتظار کرتے ہوئے ان میں ایٹھن آجاتی ہے۔ چیتا ہیلی کاپٹر ویسے بھی اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ان میں ایک لاش بھی مشکل سے رکھی جا سکتی ہے۔
ایسا کئی بار ہوا ہے کہ فوجیوں کو اپنے ساتھیوں کی لاشوں کی ہڈیاں توڑنی پڑیں تاکہ انہیں سلیپنگ بیگز میں رکھ کر ہیلی کاپٹر سے نیچے اتارا جا سکے۔
بریگیڈیئر آر ای ولیمز اپنی کتاب 'دی لانگ روڈ ٹو سیاچن' میں لکھتے ہیں 'زخمیوں کو نیچے لانا اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ مردے کو نیچے لانا ہے۔ کئی بار ہمیں غیر انسانی سلوک کے ساتھ لاش کو رسی سے باندھ کر نشیبی علاقے کی جانب لڑھکانے پر مجبور کرنا پڑتا ہے۔
’اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا کیونکہ لاش کو کئی دنوں تک ایک ہی جگہ پر رکھنے سے اس میں سختی پیدا ہو جاتی تھی اور وہ پتھر کی طرح سخت ہو جاتی ہے۔‘
برف میں دھنسنے کی کہانی
لیفٹیننٹ کرنل ساگر پٹوردھن اپنے یونٹ 6 جاٹ کے ساتھ 1993-94 میں سیاچن گلیشیئر پر تعینات تھے۔ ایک بار جب وہ اپنے خیمے سے باہر نکلے تو وہ تازہ پڑی برف میں کمر تک دھنستے چلے گئے۔
پٹوردھن بتاتے ہیں کہ 'جب میں نے اس سنو پیک سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو میرا ڈھیلا بندھا جوتا ایک سوراخ میں پھنس گیا۔ میں نے بڑی مشکل سے اس جوتے میں پاؤں رکھا تو وہ برف سے بھر گیا۔
’اگرچہ میں اپنے خیمے سے صرف 10 میٹر کے فاصلے پر تھا لیکن وہاں چیخنے چلانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ ہوا اتنی تیز چل رہی تھی کہ میری آواز وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی تھی۔‘
وہ مزید بتاتے ہیں ’بہرحال میں نے کسی طرح اپنی پھنسی ہوئی ٹانگ کو باہر نکالا اور گرتے پڑتے خیمے تک پہنچا اور مدد مانگی۔ مجھے فوراً سلیپنگ بیگ میں ڈال دیا گیا اور مجھے گرم کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلی ترجیح میرے پاؤں کو بچانا تھا جو برف سے اکڑ چکا تھا۔
’میرے ساتھیوں نے چولہا جلا کر برف پگھلانی شروع کر دی۔ میں نے اپنے گیلے موزے اتارے اور اپنے پیروں کو زور سے رگڑنے لگا۔ تقریباً تین گھنٹے بعد میری حالت بہتر ہوئی۔‘
کھانا پکانے میں دشواری
سیاچن میں تعینات دو بہار دستے کے حوالدار راجیو کمار نے نتن گوکھلے کو بتایا کہ 'وہاں سب سے بڑا مسئلہ کھانا پکانے کا ہے۔ چاول پکانے کے لیے پریشر ککر کی 21 سیٹیاں لگانی پڑتی ہیں۔‘
اگرچہ فوج کی جانب سے ہر سپاہی کو ہائی پروٹین والی خوراک دی جاتی ہے لیکن وہاں کوئی اسے نہیں کھاتا کیونکہ وہاں بھوک نہیں لگتی۔ بہت سے فوجیوں کی جلد کا رنگ سیاہ ہو جاتا ہے۔
وہاں تعینات زیادہ تر فوجی نیند کی کمی کی شکایت کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ نیند نہ آنے کی بڑی وجہ آکسیجن کی کمی ہے۔
عام طور پر فوجیوں کو سیاچن میں تعیناتی کے دوران گرم جرابوں کے نو جوڑے دیے جاتے ہیں۔ جو لوگ ان کا استعمال نہیں کرتے انہیں بہت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔
سیاچن میں کمانڈر رہ چکے لیفٹیننٹ جنرل پی سی کٹوچ کہتے ہیں 'ایک بار میں سینٹرل گلیشیئر کی ایک چوکی پر ٹھہرا ہوا تھا۔ مجھے اگلے دن ایک فرنٹ پوسٹ پر جانا تھا۔ میں نے سورج نکلنے سے ایک گھنٹہ پہلے چلنا شروع کیا۔
’سفر کا پہلا مرحلہ سنو سکوٹر سے طے کیا گیا تھا۔ اپنی حماقت میں میں نے برفانی ہواؤں سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے اونی ٹوپی پہن لی، تھوڑی دیر کے لیے مجھے لگا کہ میرے کان نہیں ہیں۔ شام تک جب میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے بیس کیمپ واپس آیا تو میرے دونوں کانوں کو فراسٹ بائٹ ہو چکا تھا۔ میں شدید تکلیف میں تھا اور یہ درد اتنا زیادہ تھا کہ تقریباً ایک ماہ تک میں کروٹ نہیں بدل سکا تھا۔‘
پھیپھڑوں اور دماغ میں پانی
کشمیر کے ایک کمانڈر جنرل عطا حسنین یاد کرتے ہیں کہ 'بانا چوکی پر برف کا بستر تین ٹائر والے ڈبے کی برتھ کے برابر رہا ہو گا۔ جس پر تعینات اکلوتا سپاہی اور اس کا افسر ایک دوسرے پر پیر رکھ کر سوتے تھے۔
’جوان پر قدم رکھ کر سونے کی پہلے افسر کی باری تھی۔ تھوڑی دیر بعد جوان اپنے افسر سے کہتا تھا: ’جناب اب بہت ہو گیا۔ اب اس کا وزن زیادہ ہو رہا ہے۔ اب تھوڑی دیر کے لیے میں اپنے پاؤں اوپر رکھتا ہوں۔‘
سیاچن گلیشیئر پر انسانی جسم کو کم آکسیجن، شدید سردی، الٹرا وائلٹ تابکاری اور انتہائی کم نمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ لمبے عرصے تک تنہائی میں رہنا، ہمیشہ ٹِن کے کھانے پر انحصار کرنا، پینے کا صاف پانی حاصل کرنے میں دشواری، بجلی کے بغیر عارضی خیموں میں رہنا اور دشمن کے حملے سے ہر وقت خوفزدہ رہنا، یہ سب انڈین فوجیوں کا ایک بڑا امتحان لیتے ہیں۔
سیاچن کی بلندی پر ایک صحت مند سپاہی کے پھیپھڑوں میں آکسیجن کی سطح سمندر کی سطح پر رہنے والے پھیپھڑوں کی شدید بیماری میں مبتلا شخص کے برابر ہوتی ہے۔ وہاں انڈین فوجیوں کو پھیپھڑوں اور دماغ میں پانی جمع ہونے کی بیماری ہو جاتی ہے۔
ایک زمانے میں، وہاں تعینات 100 فوجیوں میں سے 15 کو اونچائی کی وجہ سے ہونے والی بیماری پلمنری اوڈیما ہوا کرتا تھا۔ لیکن ڈاکٹروں کی محنت کی وجہ سے اب یہ بیماری 100 فوجیوں میں سے صرف ایک کو ہوتی ہے۔
کارگل جنگ سے زیادہ فوجی سیاچن میں مارے گئے
سیاچن میں اب بھی اموات ہوتی ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر اموات اب حادثاتی ہیں۔ سیاچن سے واپسی کے بعد فوجیوں کو سب سے زیادہ وزن میں کمی، ضرورت سے زیادہ نیند آنا، چیزیں بھول جانا اور جنسی قوت میں کمی جیسی شکایات ہوتی ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق انڈیا کی حکومت دنیا کے بلند ترین میدان جنگ سیاچن کے محاذ پر ہر روز 6 کروڑ یعنی ہر سال 2190 کروڑ روپے خرچ کرتی ہے۔ وہاں انڈیا اور پاکستان دونوں نے اپنے تقریباً 5000 فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔
انڈیا اب تک ان فوجیوں کے لیے خصوصی لباس اور کوہ پیمائی کے سامان کے لیے 7500 کروڑ روپے خرچ کر چکا ہے۔ سیاچن میں تعیناتی کے دوران ہر فوجی کو دی جانے والی کِٹ پر اوسطاً ایک لاکھ روپے لاگت آتی ہے۔ اس میں سے 28000 روپے خصوصی کپڑوں پر، 13000 روپے خصوصی سلیپنگ بیگ، 14000 روپے دستانے اور 12500 روپے ایک جوڑے پر خرچ ہوتے ہیں۔
1984 سے لیکر اب تک تقریباً 869 انڈین فوجی سیاچن میں ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ کارگل جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ ان میں سے 97 فیصد انڈین فوجیوں کی موت پاکستان کے ساتھ لڑائی میں نہیں بلکہ موسمی حالات کی وجہ سے ہوئی ہے۔