انڈیا کی ریاست آسام میں ملنے والے دیوہیکل ’پراسرار‘ مرتبانوں کا معمہ

محققین نے انڈیا میں ایسے دیوہیکل ’پراسرار‘ مرتبانوں کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے جو قدیم دور میں شاید انسانی تدفین میں استعمال کیے گئے ہوں گے۔

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں چار مقامات سے ایسے 65 مرتبان ملے ہیں، جن کی شکل اور سائز مختلف ہیں۔ کچھ مرتبان لمبے اور سیلینڈر نما ہیں جبکہ کچھ جزوی یا مکمل طور پر زمین میں دبے ہوئے ہیں۔

اس سے قبل ایسی ہی پر اسرار شکل کی شے لاؤس اور انڈونیشیا سے بھی مل چکی ہیں۔

اس دریافت میں انڈیا اور آسٹریلیا کی تین یونیورسٹیوں کے محققین شامل تھے اور اس بارے میں اسی ہفتے ’جرنل آف ایشین آرکیالوجی‘ میں تفصیلات شائع کی گئی ہیں۔ اس تحقیق کی سربراہی نارتھ ایسٹرن ہل یونیورسٹی کے تلوک ٹھاکریا اور گوھاٹی یونیورسٹی کے اتم بٹاری نے کی۔

آسٹریلیا کی نیشنل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اس ٹیم کے تیسرے محقق نکولس سکوپل کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ابھی بھی معلوم نہیں کہ یہ دیوہیکل جسامت کے مرتبان کس نے بنائے یا ان کو بنانے والے کہاں کے رہنے والے تھے۔ یہ ابھی بھی ایک معمہ ہے۔‘

اگرچہ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ یہ دیوہیکل مرتبان کس مقصد کے لیے استعمال کیے گئے تھے لیکن محققین کا خیال ہے کہ یہ ’ممکنہ طور پر مردہ خانے سے وابستہ تھے۔‘

نکولس سکوپل کہتے ہیں کہ ’ناگا لوگوں (شمال مشرقی انڈیا کا نسلی گروہ) کی طرف سے ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں، جن کے مطابق انھیں مردے کو جلائے جانے کے بعد باقیات، موتیوں اور دیگر نوادرات سے بھرے یہ برتن ملے۔‘

تلوک ٹھاکریا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ابھی تو یہ مرتبان خالی ہیں اور ممکنہ طور پر کسی وقت میں ان پر ڈھکن بھی تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اس پراجیکٹ کا اگلا مرحلہ ان مرتبانوں کی کھدائی کرنا اور ان کی خصوصیات کو جاننا ہے۔‘

محققین کے مطابق ماضی میں آسام اور اس کی ہمسایہ ریاست میگھالیہ میں بھی ایسے مقامات دریافت ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

تلوک ٹھاکریا نے بتایا کہ ’آسام میں اب تک ایسے 10 مقامات دریافت ہو چکے ہیں، جہاں ایسے تقریباً 700 سے زیادہ مرتبان موجود ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ مرتبان 400 قبل مسیح سے بھی پہلے کے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے آسام کے ایک بہت ہی محدود علاقے میں تلاش کی اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ ایسے اور بہت سے مقامات بھی ہو سکتے ہیں لیکن ہم ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں ہیں۔‘

نکولس سکوپل کا کہنا ہے کہ ’ہم انھیں ڈھونڈنے میں جتنا زیادہ وقت لگائیں گے، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ وہ تباہ ہو جائیں گے کیونکہ ان علاقوں میں فصلیں زیادہ کاشت کی جاتی ہیں اور جنگلات کاٹے جاتے ہیں۔‘

سنہ 2016 میں لاؤس میں جو مرتبان دریافت ہوئے تھے ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کم از کم دو ہزار سال قبل زینگ کھوانگ صوبے میں رکھے گئے تھے۔

نکولس سکوپل کہتے ہیں کہ ’آسام اور لاؤس میں ملنے والے مرتبانوں کا سائز اور ساخت آپس میں بہت ملتے جلتے ہیں۔ اگرچہ شکل اور سائز میں کچھ فرق ہے۔ آسام سے ملنے والے مرتبان زیادہ گول جبکہ لاؤس سے ملنے والے سیلینڈر نما ہیں۔‘