نریندر مودی: دعوے، وعدے، بیانات اور عملی اقدامات، اپوزیشن والے نریندر مودی حکومت والے مودی سے کتنے مختلف ثابت ہوئے؟

    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی

عمومی طور پر جب سیاست دان حزب اختلاف یعنی اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو بے دریغ دعوے، وعدے اور اعلانات کرتے ہیں، لیکن جب وہی سیاست دان برسر اقتدار آ جاتے ہیں تو ماضی میں کیے جانے والے یہی وعدے، دعوے اور اعلانات ان کے گلے پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی انڈیا کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بھی ہوا ہے جو سنہ 2001 سے سنہ 2014 تک انڈیا کی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے تھے اور اس دورانیے میں وہ وفاق میں برسراقتدار جماعت کانگریس پر کھل کر گرجتے اور برستے تھے۔

یہ وہی دور ہے جب مودی ایک مضبوط اپوزیشن لیڈر کی طرح منموہن سنگھ کی حکومت پر سوالات اٹھاتے اور تنقید کرتے اور مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے لیکن سنہ 2014 میں وزیرِ اعظم بن جانے کے بعد متعدد اہم قومی مسائل پر مودی کے ماضی کے بیانات اور پالیسیاں گجرات کے وزیر اعلیٰ مودی سے متصادم نظر آتی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ مودی نے بطور وزیر اعظم ایسی متعدد پالیسیوں کا نفاذ کیا ہے جن پر وہ بطور وزیر اعلیٰ شدید تنقید کرتے تھے۔ اور اب بطور وزیر اعظم اُن کے ساتھ وہی ہو رہا ہے جو وہ کبھی منموہن سنگھ اور ان کی حکومت کے ساتھ کرتے تھے۔

ہم چند ایسے معاملات کی فہرست پیش کر رہے ہیں جن میں وہ ماضی کے اپنے بیانات سے متصادم قدم اٹھاتے نظر آئے اور بعض معاملات تو ایسے ہیں جن میں وہ بالکل اس بات کے الٹ کر رہے ہیں جو انھوں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر کہی تھی۔

’نہ تو چین ہماری سرحد میں آیا، نہ ہی اس نے کسی پوسٹ پر قبضہ کیا‘

بطور وزیر اعلیٰ مئی 2013 میں انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تنازع جاری تھا جب مودی نے ٹویٹ کیا کہ ’چین نے اپنی فوجیں ہٹا لی ہیں لیکن میں حیران ہوں کہ انڈین افواج ہندوستانی علاقے سے کیوں پیچھے ہٹ رہی ہیں؟ ہم کیوں پیچھے ہٹ گئے؟‘

اس وقت تک نریندر مودی وزیر اعظم نہیں بنے تھے۔

اکتوبر 2013 میں ایک یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’چین [ہمارے علاقے میں] داخل ہوتا ہے، مگر ہم دیکھتے رہتے ہیں۔۔۔ جب پاکستان ہمارے فوجیوں کا سر قلم کرتا ہے، ہم انتظار کرتے رہتے ہیں۔‘

مگ پھر مودی وزیر اعظم بن گئے اور جب انڈیا اور چین کے درمیان گلوان تنازع شروع ہوا تو اُن کا بیان اپنے ماضی کے بیانات سے بالکل مختلف تھا۔ انھوں نے جون 2020 میں ایک آل پارٹی میٹنگ کو بتایا کہ ’نہ تو وہ [چین] ہماری سرحد میں گھس آیا ہے اور نہ ہی اس نے کسی پوسٹ پر قبضہ کیا ہے۔ ہمارے 20 جوان شہید ہوئے ہیں لیکن انھیں (چین) سبق سکھایا گیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کی حزب اختلاف نے اس بیان پر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ راہل گاندھی نے مودی کو ’سرینڈر مودی‘ کا خطاب دے دیا۔

سنہ 2014 میں ہی جب انڈیا نے چین پر لداخ میں تازہ علاقائی دراندازی کا الزام لگایا تھا، چینی صدر شی جن پنگ انڈیا کے دورے پر تھے اور مودی حکومت نے 20 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سمیت 12 معاہدوں پر ان کے ساتھ دستخط کیے۔

تاحال، جب کہ انڈیا اور چین کا سرحدی تنازع جاری ہے، چین کے ساتھ انڈیا کی تجارت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سنہ 2019 میں اس کی مالیت 92 ارب ڈالر تھی لیکن سنہ 2021 میں یہ 125 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

’ڈاکٹر منموہن سنگھ، آپ کی ہڈیوں میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ آپ لڑتے ہوئے مریں‘

فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری) یا ایف ڈی آئی انڈیا میں 1990 کی دہائی سے بحث کا ایک بڑا موضوع رہا ہے جب انڈیا نے آزادانہ مارکیٹ کے نظام کو اپنایا اور ملک کے باہر سے سرمایہ کاری کی اجازت دی۔

اس وقت نرسمہا راؤ انڈین وزیر اعظم تھے اور منموہن سنگھ اُن کے وزیر خزانہ۔ اس کے بعد اٹل بہاری واجپائی نے بھی اس منصوبے کو احتیاط سے آگے بڑھایا جو کہ سنہ 2004 کے بعد منموہن سنگھ کی حکومت میں بھی جاری رہا۔

جب منموہن سنگھ کی حکومت نے ’ملٹی برانڈ ریٹیل‘ میں ایف ڈی آئی کی اجازت دی تو بی جے پی نے اس کی شدید مخالفت کی۔ مودی نے سنہ 2012 میں ٹویٹ کیا تھا کہ ’کانگریس انڈیا غیر ملکیوں کو دے رہی ہے۔ زیادہ تر سیاسی پارٹیوں نے ایف ڈی آئی کی مخالفت کی ہے لیکن سی بی آئی (مرکزی تفتیشی بیورو) کی تلوار لٹکنے کی وجہ سے کچھ نے [پارلیمان میں اس کے خلاف] ووٹ نہیں دیا اور کانگریس پچھلے دروازے سے جیت گئی۔‘

منموہن سنگھ کو ’غیر ملکیوں کے لیے سنگھم‘ (بالی وڈ اداکار اجے دیوگن کا ادا کیا گیا پولیس اہلکار کا کردار) کہتے ہوئے مودی نے سوال کیا کہ ’آپ (وزیراعظم) غیر ملکی تاجروں کو انڈیا میں داخل ہونے کی اجازت دے رہے ہیں؟ اس میں سے اٹلی کے تاجروں کا کتنا حصہ ہو گا، ملک جاننا چاہتا ہے۔‘

واضح رہے کہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اٹلی میں پیدا ہوئی تھیں اور ان پر طنز تھا۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ وہ معاشی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے ’مر بھی گئے تو پوری طاقت سے لڑ کر مریں گے‘ مودی نے کہا ’ڈاکٹر منموہن سنگھ، آپ کی ہڈیوں میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ آپ لڑتے ہوئے مریں۔۔۔ آپ کو کہنا چاہیے تھا کہ ’ہم مرتے مرتے لڑیں گے۔‘

اس وقت مودی کی دلیل تھی کہ ایف ڈی آئی سے چھوٹے تاجروں اور گھریلو صنعتوں کو نقصان پہنچے گا اور بیروزگاری میں اضافہ ہو گا۔

لیکن سنہ 2019 میں مودی نے بطور وزیر اعظم ایف ڈی آئی کے قواعد میں تبدیلیوں کا اعلان کیا جس کے تحت ’سنگل برانڈ ریٹیل‘ میں 100 فیصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی۔

واضح کر دیں کہ سنہ 2020-2021 میں انڈیا میں 81 ارب ڈالر ایف ڈی آئی آیا جو کہ اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔

’ادھار کے سکیورٹی خطرات پر وزیر اعظم میرے سوالوں کا جواب نہیں دے سکے‘

آبادی اور بائیو میٹرک ڈیٹا کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ’ادھار‘ انڈیا کے شہریوں کے لیے ایک رضاکارانہ شناختی نظام ہے۔ اسے منموہن سنگھ کی حکومت نے 2009 میں متعارف کروایا تھا۔ اگرچہ اسے ابتدائی طور پر ایک شناختی دستاویز کے طور پر بنایا گیا لیکن اسے کئی حلقوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

ادھار نظام کے حامیوں نے یہ کہہ کر اس کے استعمال کا جواز پیش کیا کہ یہ حکومت کے ذریعے عوام کو دیے گئے راشن، سبسڈی اور پیسے کے نظام میں خوردبرد کو کم کرے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت نریندر مودی بھی ادھار کے مخالفین میں شامل تھے۔

اپریل 2014 میں جب پارلیمانی انتخابات ہو رہے تھے، مودی نے ٹویٹ کیا تھا کہ ادھار کی وجہ سے لاحق سکیورٹی خطرات کے بارے میں وزیر اعظم میرے سوالوں کا جواب نہیں دے سکے۔ انھوں نے لکھا کہ 'اس پروگرام میں کوئی بصیرت نہیں ہے، صرف ایک سیاسی چال ہے۔'

لیکن مرکز میں حکومت مل جانے کے بعد مودی نے چند ہفتوں بعد میں پینترا بدلا اور اعلان کیا گیا کہ ادھار پراجیکٹ برقرار رکھا جائے گا۔ مودی نے ’جلد سے جلد‘ آدھار کے تحت 100 کروڑ افراد کے اندراج کے ہدف کا بھی اعلان کیا اور ساتھ ہی حکام سے اس کے ڈیٹا کو پاسپورٹ سے منسلک کرنے پر غور کرنے کو کہا۔

مالیاتی سیکریٹری اشوک لواسا نے سنہ 2017 میں بتایا کہ سماجی شعبے کی مختلف سکیموں کی ادھار کے ذریعے عوام کو براہ راست منتقلی سے مرکز کو 34 ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔

’برطانوی حکمران بھی سمجھتے تھے کہ اس ملک کو طاقت کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا‘

ہندوستانی تناظر میں وفاقیت سے مراد مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کا تعلق ہے۔ انڈیا کا آئین ملک کو ’ریاستوں کی یونین‘ کے طور پر دیکھتا ہے، جس میں مرکز اور ریاستوں کے اختیارات کی واضح طور پر حد بندی کی گئی ہے۔

لیکن مرکزی حکومتوں پر اکثر ریاستوں کی جانب سے اُن کے اختیارات سلب کرنے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ ایسا زیادہ تر اس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب مرکز اور ریاست میں دو مختلف جماعتیں برسر اقتدار ہوں۔

مودی نے خود گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر سنہ 2012 میں ٹویٹ کیا تھا کہ انڈیا کے آئین کے بانی ’بابا صاحب [امبیڈکر] نے ہمارے اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے ایک وفاقی ڈھانچے والا آئین دیا۔ افسوس کی بات ہے کہ یو پی اے [کانگریس کی زیرقیادت حکومت] ان اصولوں کی بنیاد پر ضرب لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔‘

انھوں نے ایک ریلی میں کہا تھا کہ ’برطانوی حکمران بھی سمجھتے تھے کہ اس ملک کو طاقت کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا، یہ ایک متنوع ملک ہے۔۔۔ جب ہمارا آئین بنایا گیا تو اس بنیادی پہلو [ایک وفاقی نظام] کو تسلیم کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے کئی تقاریر میں اس طرح کے الزامات کو دہرایا اور سنہ 2012 میں ایک اخبار میں ایک مضمون بھی لکھا جس میں انھوں نے کہا کہ ’آج ہمارا مشاہدہ ہے کہ ہمارے ملک کے وفاقی ڈھانچے کی رسم اور روح دونوں میں منظم رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔ ہماری جیسی جمہوریہ کو خاندانی طور پر چلنے والی کارپوریشن کی شکل میں نہیں چلایا جا سکتا۔ یہ صرف افراتفری اور تباہی کا باعث بنے گا۔‘

مضمون میں مزید کہا گیا تھا کہ ’اس دن [یوم جمہوریہ] پر آئیے ہم سب ایک حقیقی وفاقی ہندوستان کی تشکیل کا عزم کریں، جو ’یونیٹی ان ڈائیورسٹی‘ کی حقیقی طور پر عکاسی کرے گا۔'

وزیر اعظم بن جانے کے بعد وہی الزام جو خود کبھی مودی مرکز پر لگاتے تھے اب ان پر لگائے جا رہے ہیں کہ وہ انڈیا کی وفاقیت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے کانگریس کے راہل گاندھی نے کہا کہ ’آئین انڈیا کو ’ریاستوں کی یونین‘ بتاتا ہے نہ کہ ایک ’نیشن‘۔ انڈیا میں ایک ریاست کے لوگوں پر کوئی حکومت نہیں کر سکتا۔ مختلف زبانوں اور ثقافتوں کو دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ ایک شراکت داری ہے، بادشاہت نہیں۔‘

اسی طرح کئی وزرائے اعلیٰ نے بھی مودی حکومت کو انڈیا کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کا الزام لگایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جی ایس ٹی کا نفاذ نریندر مودی کی یک طرفہ مخالفت کی وجہ سے نہیں ہوا

یہ ایک بالواسطہ ٹیکس کا نظام ہے جو انڈیا میں سامان اور خدمات کی فراہمی پر لگایا جاتا ہے۔ اس نظام کا تصور اٹل بہاری واجپائی کے دور میں ہوا تھا۔ ان کی حکومت کے بعد حکمراں جماعت کانگریس نے اسے 2006-07 کے بجٹ میں پیش کیا تھا لیکن ریاستوں کی مخالفت کی وجہ سے اس وقت اس کا نفاذ نہیں ہو سکا۔

جب کانگریس حکومت نے سنہ 2011 میں جی ایس ٹی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا تو بی جے پی نے اس کی شدید مخالفت کی۔ بی جے پی کے ایک لیڈر کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی نے اس میں تبدیلیوں کا مشورہ دیا لیکن مودی کو یہ پھر بھی قابل قبول نہیں تھا۔

سنہ 2013 میں کانگریس کے رہنما اور مرکزی وزیر جے رام رمیش نے کہا کہ جی ایس ٹی ایک حد تک بی جے پی لیڈر سشیل مودی کی کوششوں کا نتیجہ ہے لیکن بی جے پی کے دوسرے رہنما نریندر مودی نے جی ایس ٹی نافذ نہیں ہونے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا نفاذ نریندر مودی کی یک طرفہ مخالفت کی وجہ سے نہیں ہوا۔

2015 میں جب مودی وزیر اعظم بنے تو وہی بل جسے وہ کانگریس کو منظور نہیں کرنے دے رہے تھے ان کی حکومت میں پارلیمان میں پیش ہوا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے الزام لگایا کہ مودی نے اپنے دعوؤں کے برعکس کام کیا ہے۔

اس کے جواب میں مودی نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ’اگر آپ جی ایس ٹی کے بارے میں اتنا ہی جانتے ہیں تو آپ نے اس کے نفاذ میں تاخیر کیوں کی۔‘

یہ آپ کی ناکامیوں کی زندہ یادگار ہے

نریگا ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت انڈیا کی حکومت دیہی علاقوں میں ہر خاندان کو سال میں 100 دن کام فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ نریگا (مہاتما گاندھی رورل ایمپلائیمنٹ گارنٹی ایکٹ) کے نام سے مشہور اس منصوبے پر بدعنوانی کے کئی الزامات لگے۔

لیکن اس کے باوجود 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق 2004-05 سے 2011-12 کے درمیان اس قانون کی وجہ سے ملک میں غربت میں تقریباً 32 فیصد کمی ہوئی اور تقریباً ایک عشاریہ چار کروڑ لوگوں کو شدید غربت سے نجات ملی۔

یہ قانون پورے ملک میں مقبول تھا اور تبصرہ کاروں کا ماننا ہے کہ 2009 میں کانگریس کو دوبارہ حکومت میں لانے میں اس کا ایک اہم کردار تھا۔

مودی کو بھی اس قانون کی مقبولیت کا علم تھا۔ انھوں نے اسکی مخالفت کی بجائے اس میں مبینہ بدعنوانی کا معاملہ اٹھایا اور کانگریس کا اس قانون کے تحت ملازمتیں پیدا کرنے کے دعوے پر سوالیہ نشان لگایا۔

انھوں نے اپریل 2014 میں ٹویٹ کیا کہ 'لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ان ہزاروں کروڑوں کا کیا ہوا جو نریگا جیسی سکیموں کے لیے الاٹ کیے گئے ہیں۔ نوجوان اب بھی بے روزگار کیوں ہیں؟‘

لیکن انڈین معاشرے کی گہری سمجھ رکھنے والے سیاست دان مودی نریگا کی اہمیت کو بہتر طریقے سے جانتے ہیں۔ انھوں نے وزیر اعظم بننے کے بعد بھی اس سکیم کو برقرار تو رکھا لیکن کانگریس پر، جس نے 2005 میں اس سکیم کی شروعات کی تھی، سخت تنقید کی۔

انھوں نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ’میری سیاسی ذہانت مجھے بتاتی ہے کہ نریگا کو بند نہیں کیا جانا چاہیے۔ میں ایسی غلطی نہیں کروں گا کیونکہ نریگا آپ [کانگریس] کی ناکامیوں کی زندہ یادگار ہے۔‘

اس بیان کے ایک سال کے اندر ہی ان کی پارٹی بی جے پی نے اس سکیم کو مزید اپنا لیا اور سکیم کے نفاذ کی تعریف کرنا شروع کر دی۔ سنہ 2021 میں حکومت نے پارلیمنٹ میں دعویٰ کیا کہ ’مودی حکومت نے اس پروگرام کو سب سے بہتر طریقے سے نافذ کیا ہے اور اس سکیم کے 15 سالہ تاریخ میں پارٹی نے اس پر اب تک سب سے زیادہ خرچ کیا ہے۔‘