آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اترپردیش میں انتخابی مہم میں مسلمان مخالف بیانات: ’مسلمان نہ ہوتے تو بی جے پی الیکشن کیسے لڑتی؟‘
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، دلی
’جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اتر پردیش میں اقتدار میں آئی ہے تب سے یہاں مافیا کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اعظم خان، عتیق احمد، مختار انصاری، سب جیل میں ہیں۔ اگر آپ نے بی جے پے کو ووٹ نہیں دیا تو یہ سبھی باہر آ جائیں گے۔‘
اتر پردیش میں جاری انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے سینیئر رہنما اور وزیر داخلہ امیت شاہ یہ یہ بات اپنے ہر جلسے میں بارہا دہرا رہے ہیں۔
روزانہ کئی شہروں میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے وہ جب بھی ’مافیا‘ کا ذکر کرتے ہیں تو وہ اس کے ساتھ تین مسلم سیاست دانوں کا نام لیتے ہیں۔
ان تقاریر میں پاکستان کا بھی اکثر ذکر آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب سے نریندر مودی وزیر اعظم بنے ہیں تب سے سرحد پار سے ’عالیا، مالیا، جمالیا‘ کا آنا بند ہو گیا ہے۔ وہ درحقیقت ’دہشت گرد‘ کہنے کے بجائے اہانت سے مسلمانوں کے کچھ بگڑے ہوئے نام لیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مودی حکومت نے کشمیر میں دفعہ 370 ختم کر دی۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ خون کی ندیاں بہہ جائیں گی لیکن کسی کی ایک کنکر مارنے کی بھی جرات نہ ہو سکی۔‘
امیت شاہ کی ان تقاریر کا محور جارحانہ مذہبی قوم پرستی ہے۔ وہ اپنی تقریر میں رام مندر کی تعمیر، ہندو ثقافت اور دیوی دیوتاؤں کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ انتخاب ریاست کا نہیں ملک کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تقریروں میں بھی ’مسلمان، قبرستان اور پاکستان‘ بار بار ذکر ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب سے ان کی حکومت آئی ہے تب سے دنگے فساد ہونا بند ہو گئے ہیں۔
’جب اپوزیشن کی حکومت تھی تب مغربی اتر پردیش میں بے قصور ہندوؤں کو قتل کیا جاتا تھا۔ ان کے اوپر جھوٹے الزامات لگا کر جیلوں میں ڈال دیا جاتا تھا اور اصل فسادی (مسلمان) کھلے عام گھوم رہے ہوتے تھے۔ اب ہم نے ان فسادیوں کو جیل میں ڈال دیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ تقاریر اور انتخابی مہم اتر پردیش کی 403 رکنی اسمبلی کے لیے سات مرحلوں میں ہونے والے انتخابات کے لیے ہیں۔
ریاست میں انتخابی عمل کا آغاز 10 فروری سے ہوگا جہاں پہلے مرحلے کے انتخابات مغربی اتر پردیش میں ہو رہے ہیں۔
انتخابات کے پہلے مرحلے میں ہی جس نوعیت کی مہم شروع ہوئی ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سات مارچ تک جاری رہنے والے انتخابات کے آنے والے مرحلوں میں انتخابی مہم مزید سخت رخ اختیار کر سکتی ہے۔
انتخابی مہم کے دوران بے جے پی کا بدلتا لہجہ
جب بے جی پی نے اس مہم کا آغاز کیا تھا تو ان کی زیادہ توجہ ریاست کی ترقی، خوشحالی، روزگار اور اتر پردیش کو ملک کی سرِفہرست ریاست میں تبدیل کرنے کے نعرے کے پر تھی۔
لیکن چند ہی دنوں میں بی جے پی کا لب و لہجہ مکمل پور پر بدل گیا ہے اور اب جارحانہ مذہبی قوم پرستی پر زور نظر آ رہا ہے۔
انتخابات سے قبل یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے سینکڑوں روپے اپنی حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کرنے کی غرض سے اشتہاروں کے لیے مختص کیے تھے، جنھیں ملک کے قومی اخبارات میں کئی ہفتے تک شائع کیا گیا۔
اگر ان پورے صفحے پر چھپنے والے اشتہارات کے مواد پر یقین کر لیا جائے کہ اتر پردیش کی ریاست ترقی کے انقلاب سے گزر رہی ہے تو پھر بی جے پی کو انتخامی مہم میں مذہبی قوم پرستی اور نفرت انگیزی کا سہارا کیوں لینا پڑ رہا ہے؟
ملک کی معروف صحافی روہنی سنگھ ان انتخابات کی کوریج کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مسلمان نہ ہوتے تو بی جے پی الکشن کیسے لڑتی؟
’دراصل بی جے پی نے عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کر سکی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے گذشتہ پانچ برس میں اپنے طور پر ریاست میں کوئی ایسا بڑا کام نہیں کیا ہے جس سے عوام میں وہ مقبول ہو پاتے۔ جو سیکیمں اور پروگرام انھوں نے نافذ کیے وہ بیشتر مرکزی حکومت کے تھے جس میں ان کا (اپنا) کوئی کردار نہیں تھا اور بی جے پی اس وقت یقیناً دباؤ میں ہے۔‘
بی جے پی کی مہم میں رام مندر کی تعمیر کے معاملے کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں اپوزیشن کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ مندر کے مخالف ہوں۔
ایودھیا کے صحافی ارشد افضال کا اس بارے میں کہنا ہے کہ بی جے پی کے سخت گیر ہندوتوا نظریے کے حامی ضرور ان موضوعات سے متاثر ہوتے ہیں۔
’لیکن یوگی حکومت کے خلاف عوام، بالخصوص نوجوانوں میں کافی ناراضگی ہے کیونکہ انھوں نے روزگار، تعلیم اور اس طرح کے جو دوسرے وعدے کیے تھے وہ سبھی پورے نہیں ہوئے ہیں۔ بی جے پی گھبرائی ہوئی ہے اور اسی لیے مذہب کا اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کر رہی ہے۔‘
سنبھل ضلع کے ایک نوجوان تاجر نسیم خان کہتے ہیں کہ انتحابات میں ’سڑک کی تعمیر، ترقی، تعلیم اور صحت جیسے سوالوں کے بجائے صرف ہندو مسلم ہو رہا ہے۔ اس کا اثر یقیناً پڑتا ہے۔ ماحول خراب ہو رہا ہے۔ یہ جمہوریت ہے، اگر حکومت اپنی سوچ نہیں بدلے گی تو لوگ سرکار بدل دیں گے۔‘
’ماحول بالکل ٹھیک نہیں ہے اور مستقبل کا کچھ پتہ نہیں‘
نوجوان نسل کے اکثر لوگ یہ مانتے ہیں کہ نفرت کی سیاست سے ریاست اور ملک کی فضا یقیناً متاثر ہو رہی ہے۔
ایک طالبہ مہرین گلزار کہتی ہیں کہ مذہبی نفرت کے سبب ٹکراؤ ہوتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت تو ماحول بالکل ٹھیک نہیں ہے اور مستقبل کا کچھ پتہ نہیں۔‘
لکھنؤ کے سرکردہ تجزیہ کار شرت پردھان کا خیال ہے کہ اس بار اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں براہ راست مقابلہ صرف دوجماعتوں کے درمیان ہے جبکہ باقی جماعتیں صرف انتخابی حاشیے پر ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمتیں کم ہونے اور نجکاری کے سبب پسماندہ برادریوں میں خاصی بے چینی نظر آ رہی ہے اور کئی بڑے رہنما بی جے پی کو چھوڑ کر بی جے پی کے حریف اکھیلیش یادو کی سماج وادی پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔
’اکھیلیش کی پارٹی پچھلی بار کی طرح قیادت کے انتشار کا شکار نہیں ہے۔ ریاست کے کسان بھی بی جے پی سے خار کھائے بیٹھے ہیں۔ یہ صورتحال بی جے پی کے لیے کم از کم پچھلی بار کی طرح موافق نظر نہیں آتی ۔ یہ انتخابات بہت دلچسپ ثابت ہوں گے۔‘
روہنی سنگھ کہتی ہیں کہ ’22 کروڑ آبادی والی ریاست کے انتخابات کے بارے میں کچھ پیش گوئی کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ بی جے پی کو سماج وادی پارٹی سے سخت انتخابی چیلنج کا سامنا ہے۔‘