آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نریندر مودی کی حکومت پر لوگوں کی جاسوسی کرنے کے تازہ الزامات
انڈیا کی حکومت پر سیاسی مخالفین اور ناقدین کی جاسوسی کرنے کے لیے اسرائیل سے 'پیگاسس اسپائی ویئر' خریدنے کے الزامات پر کھڑے ہونے والے سیاسی طوفان میں پارلیمان کا اجلاس شروع ہو رہا ہے۔
امریکہ کے مقتدر ترین روزنامے نیویارک ٹائمز نے جمعہ کو خبر شائع کی تھی کہ نریندر مودی کی حکومت نے 2017 میں اسرائیل سے ایک دفاعی معاہدے کے تحت 'پیگاسس اسپائی ویئر' حاصل کیا تھا۔
گزشتہ سال بھی نریندر مودی کی حکومت پر یہ الزام لگایا گیا تھا لیکن حکومت نے ان الزامات کی تردید کر دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
حزب اختلاف کی جماعتیں اب حکومت پر پارلیمنٹ سے جھوٹ بولنے اور ایوان کو گمراہ کرنے کے الزامات بھی لگا رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو کے خلاف جان بوجھ کر ایوان کو گمراہ کرنے کے الزام کے تحت تحریک استحقاق پیش کرنے پر زور دیا ہے۔ پارلیمان میں تحریک اسحقاق ایسی صورتوں میں پیش کی جاتی ہے جب کسی ارکان کو انفرادی یا اجتماعی طور پر یہ احساس ہو کہ بحیثیت رکن پارلیمان ان کا اسحقاق کسی طرح مجروح ہوا ہے۔
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی سے انڈیا کی جمہوریت کا کیا خطرہ ہے
انڈیا کی لوک سبھا میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی کے رہنما ادھیر رنجن چوہدری نے سپیکر کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ 'حکومت نے ہمیشہ سے پارلیمان کے اندر یہ ہی موقف اختیار کیا ہے کہ پیگاسس سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں اور اس نے این ایس او گروپ سے جاسوس کے کوئی آلات حاصل نہیں کیے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت نے پارلیمان اور سپریم کورٹ کو گمراہ کیا ہے۔'
نریندر مودی حکومت کے خلاف یہ الزامات سالانہ بجٹ سے پہلے ہونے والے پارلیمان کے دونوں ایوان کے مشترکہ اجلاس میں اٹھائے جائیں گے اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں شدید ہنگامہ آرائی ہونے کی توقع ہے۔ انڈیا کی سب سے اہم ریاست اتر پردیش کے علاوہ چار ریاستوں میں ہونے والے ریاستی انتخابات سے چند دن قبل منگل کو بجٹ پیش کیا جائے گا۔
انڈیا کی سپریم کورٹ میں ایک نئی درخواست جمع کرائی گئی ہے جس میں حکومت کی طرف سے لوگوں کی جاسوسی کرنے کے الزامات کی پولیس تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال ان الزامات کے سامنے آنے کی بعد اس معاملے کی تحقیقات شروع کروائی تھیں۔
الزامات ہیں کیا؟
گزشتہ سال انڈیا میں نشر و اشاعت کے ادارے 'دی وائیر' نے یہ خبر شائع کی تھی کہ انڈیا کی حکومت نے 160 شہریوں جن میں سرکردہ سماجی کارکن، وکلاء اور سیاست دان شامل ہیں ان کی جاسوسی کرنے کے لیے اسرائیلی ساخیہ 'پیگیسس میلویئر' استعمال کیا تھا۔
پیگاسس ایک ایسا وائرس ہے جس کو آئی فون یا انڈرائڈ آلات میں ڈال کر اس میں موجود تمام پیغامات، تصاویر، ای میلز اور فون کال کا مکمل ریکارڈ حاصل کرنے کے علاوہ خفیہ طور پر مائیکرو فون آن کر کے بات چیت بھی سنی جا سکتی ہے۔
دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کے اداروں پر مشتمل ایک تنظیم کی جانب سے کرائی گئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ مختلف حکومتوں نے کسی طرح جاسوسی کرنے کا یہ طریقہ اختیار کر کے اپنے مخالفین کی جاسوس کی۔
جاسوسی کا نشانہ بنائے جانے والوں کے ٹیلی فون نمبر ایک 'ڈیٹا بیس' یا ذخیرے میں شامل تھے جو اسرائیل کی کمپنی این ایس سو کے گاہکوں کے لیے اہمیت رکھتے تھے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ فہرست کہاں سے آئی اور کتینے فون کو 'ہیک' کیا گیا۔ این ایس او کسی قسم کا غلط کام کرنے سے انکار کیا ہے۔
اس اسرائیلی کمپنی کا کہنا تھا کہ اس 'سافٹ ویئر' بنانے کا مقصد جرائم پیش اور دہشت گرد عناصر کی تلاش میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، خفیہ ایجنسیوں اور فوجی اداروں کی مدد کرنا تھا اور یہ ان ہی ملکوں کے اداروں کو فراہم کیا گیا تھا جن پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کوئی الزام نہیں تھا۔
این ایس او پر سنہ 2019 میں انڈیا میں صحافیوں کو بھی نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا تھا لیکن اس گروپ نے ان الزامات کی تردید کر دی تھی۔
لیکن نیویارک ٹائمز نے جمعہ کو شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا ہے کہ پیگاسس اور میزائل نظام انڈیا اور اسرائیل کے درمیان سنہ 2017 میں ہونے والے دو ارب ڈالر مالیات کے ایک دفاعی سودے کا اہم حصہ تھے۔ یہ سودا نریندر مودی کے اسرائیل کے پہلے دورے کے دوران طے پایا تھا۔
نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے اور اس کے بعد اسرائیل کے اس وقت کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی طرف سے انڈیا کے جوابی دورے سے دونوں ملکوں کے تعلقات بہت گہرے ہو گئے تھے۔ خاص طور پر دفاعی شعبے میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہت اضافہ ہوا تھا۔
نریندر مودی کی حکومت کے خلاف ایک مرتبہ پھر ان الزامات کے سامنے آنے سے انڈیا میں ایک سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا ہے اور کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے نریندر مودی سے اس سلسلے میں وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
راہول گاندھی نے حکومت پر ملک سے غداری کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ کانگریس کے رکن پارلیمان مالیکرجن کارجی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا رویہ ایسا ہے جیسے انڈیا کے دشمنوں کا ہوتا ہے۔
مودی حکومت نے کیا کہا ہے؟
حکومت نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے کسی کی غیر قانونی طور پر نگرانی یا جاسوسی کا حکم دیا تھا۔
پچھلے سال، آئی ٹی کے وزیر اشونی وشنو نے ان الزامات کو 'انڈیا کی جمہوریت اور اس کے اداروں کو بدنام کرنے کی ایک "سنسنی خیز" کوشش قرار دیا تھا۔
انہوں نے ستمبر میں پارلیمنٹ کو بتایا کہ حکومت کا این ایس او گروپ ٹیکنالوجیز کے ساتھ کوئی لین دین نہیں ہے۔
لیکن تازہ ترین الزامات سامنے آنے کے بعد سے نریندر مودی یا ان کے وزراء کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اپوزیشن کے سیاست دانوں نے اس معاملے پر حکومت کی 'خاموشی' پر سوال اٹھایا ہے اور وزیر اعظم سے قوم سے خطاب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ستمبر میں، سپریم کورٹ نے قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے اپنے سوالات کا جواب دینے میں بار بار ناکام رہنے کے بعد الزامات کی تحقیقات کرنے کے لیے ایک پینل تشکیل دیا۔ عدالت نے کہا تھا کہ حکومت نے اس کے پاس 'درخواست گزاروں کی طرف سے بنائے گئے مقدمے کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں چھوڑا ہے۔'