سُلی ڈیلز: انڈیا میں مسلمان خواتین کی بولی لگانے والی ایپ کا مبینہ خالق گرفتار

انڈیا میں پولیس نے اس شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس پر ایک ایسی ایپ بنانے کا شبہ ہے جس پر گذشتہ سال 80 سے زیادہ مسلم خواتین کی تصاویر پوسٹ کی گئی تھیں اور انھیں آن لائن ’فروخت‘ کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

’سُلی ڈیلز‘ نامی اوپن سورس ایپ جولائی سنہ 2021 میں ویب پلیٹ فارم گِٹ ہب پر ہوسٹ کی گئی تھی۔

25 سالہ نوجوان کو اسی طرح کی ایک دوسری ایپ ’بُلی بائی‘ پر 100 سے زیادہ مسلم خواتین کی تصاویر اپ لوڈ کیے جانے کے چند دن بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

مبینہ طور پر دوسری ایپ بنانے والے 21 سالہ طالب علم سمیت چار طلبا کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس سلسلے میں جس چوتھے فرد کو گرفتار کیا گیا ہے وہ ایک خاتون ہیں۔

دونوں معاملات میں کوئی حقیقی فروخت نہیں ہوئی لیکن اس کا مقصد مسلم خواتین کو بدنام اور ان کی تضحیک کرنا تھا۔ ان مسلم خواتین میں سے اکثر نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندو قوم پرستی کی بڑھتی ہوئی لہر کے بارے میں کھل کر بات کرتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’سُلی‘ ایک تضحیک اور توہین آمیز ہندی زبان کی اصطلاح ہے جو دائیں بازو کے ہندو ٹرولز مسلمان خواتین کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور 'بُلی' بھی اسی طرح کا توہین آمیز لفظ ہے۔

بُلی بائی ایپ کے باعث سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور جولائی میں پولیس کو شکایت درج کرانے والی ایک خاتون نے الزام لگایا کہ دارالحکومت دہلی کی پولیس نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی۔

اتوار کو پولیس نے اومکاریشور ٹھاکر کو وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے اندور شہر سے گرفتار کیا۔

پولیس نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا کہ ٹھاکر کا نام اس وقت سامنے آیا جب مبینہ طور پر بُلی بائی ایپ وبانے والے نیرج بشنوئی سے پوچھ گچھ کی جا رہی تھی۔

دہلی پولیس کی سائبر کرائم ٹیم کے ڈپٹی کمشنر کے پی ایس ملہوترا نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹھاکر کے موبائل فونز اور کمپیوٹرز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

’سُلی ڈیلز‘ ایپ میں خواتین کی عوامی طور پر دستیاب تصاویر کا استعمال کیا گیا، ان کی پروفائلز بنائی گئیں، جس پر لکھا گیا کہ وہ 'ڈیل آف دی ڈے' ہیں۔ یعنی یہ آج بولی لگانے کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہیں۔

جن کی صاویر اس ایپ پر تھیں وہ تمام نمایاں مسلم خواتین تھیں جن میں صحافی، حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی، فنکار اور محقق شامل ہیں۔

ان خواتین میں سے ایک کمرشل پائلٹ ہیں۔ انھوں نے جولائی میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ جب انھوں نے اس ایپ کے بارے میں سنا تو ان پر خوف طاری ہو گیا۔

’بُلی بائی‘ ایپ کے معاملے میں بھی خواتین میں اسی قسم کے تاثرات پائے گئے جن کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر اپ لوڈ کی گئی تھیں۔ ان میں کئی صحافی، ایک بالی وڈ اداکارہ اور ایک لاپتہ طالب علم کی 65 سالہ والدہ شامل تھیں۔

انڈیا میں آن لائن ہراساں کیے جانے سے متعلق سنہ 2018 کی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ ایک عورت جتنی زیادہ آواز اٹھاتی ہے، اتنا ہی زیادہ اسے نشانہ بنائے جانے کا امکان ہوتا ہے اور ایسا مذہبی اقلیتوں اور پسماندہ ذاتوں کی خواتین کے خلاف زیادہ نظر آتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انڈیا کے منقسم کرنے والے سیاسی ماحول میں حالیہ برسوں میں مسلم خواتین کے خلاف ٹرولنگ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔