مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش: چار سے 16 دسمبر کے دوران ڈھاکہ میں بی بی سی کے نمائندے نے کیا دیکھا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب 25 اور 26 مارچ 1971 کی درمیانی شب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائٹ شروع کیا، تو یہ وہ لمحہ تھا جب بنگلہ دیش کی علیحدگی کی جنگ صحیح معنوں میں شروع ہوئی اور نو ماہ تک جاری رہنے کے بعد بنگلہ دیش کی آزادی پر ختم ہوئی۔
لیکن بنگلہ دیش کے علیحدگی پسندوں کے گروہوں کی مدد کرنے کے لیے انڈیا کی فوج بھی تین دسمبر کو پاکستان کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئی اور مشرقی پاکستان کے مختلف شہروں میں ان کے فوجی دستوں میں پیش قدمی شروع کی اور انڈین فضائیہ نے ہوائی حملوں کا بھی آغاز کر دیا۔
اس موقع پر ڈھاکہ وہ مرکزی مقام تھا جہاں پر ایک جانب مغربی پاکستان کی فوجی انتظامیہ نے نظام سنبھالا ہوا تھا تو دوسری جانب جنگ کے باعث شہر کا انٹرکونٹیننٹل ہوٹل غیرملکیوں، صحافیوں اور عالمی اداروں کے اہلکاروں کی پناہ گاہ اور مذاکرات کا مقام بنا ہوا تھا۔
دنیا بھر کے صحافیوں کے ہمراہ بی بی سی کے نمائندے ایلن ہارٹ بھی ڈھاکہ میں جنگ کے آغاز سے موجود تھے اور انھوں نے بی بی سی کے فلیگ شپ پروگرام پینوراما کے لیے 'دا برتھ آف بنگلہ دیش' کے نام سے تقریباً 40 منٹ طویل فلم بنائی جس میں جنگ کی صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کے علاوہ مشرقی پاکستان کے فوجی کمانڈرلیفٹینٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی سمیت اہم فوجی افسران سے گفتگو بھی کی گئی۔
یہ پروگرام 22 دسمبر 1971 کو بی بی سی پر نشر گیا تھا۔
تین دسمبر کو مشرقی پاکستان میں بھارتی فوج کی پیش قدمی سے لے کر 16 دسمبر کو پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے تک ڈھاکہ میں موجود بی بی سی کے نمائندے نے کیا دیکھا؟ نیچے کے صفحات میں ان واقعات کی تفصیل تاریخ کے حساب سے درج کی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہNot Specified
ہفتہ، 04 دسمبر
انڈیا کے جیٹ طیاروں نے پہلی بار ڈھاکہ ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔
رات کو ڈھاکہ پر بمباری کے بعد ایک یتیم خانے کے ملبے میں لاشوں کی تلاش جاری ہے۔ مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے دو سو ، چار سو اور اس بھی زیادہ کے بھی ہیں۔ صحیح تعداد کے بارے میں شاید کسی کو کبھی معلوم نہ ہو۔
زیادہ تر بچے مر چکے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 1
یہ بزدلانہ حرکت کس کی ہو سکتی ہے۔ انڈیا نے کہا یہ ان کا کام نہیں ہے اور مشرقی پاکستان کو ان کی بات سچ لگتی ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ یہ پاکستانی فضائیہ کا کام ہے۔ 'پاکستانی فضائیہ ہمارے اندر ان کی نفرت پیدا کرنے کے لیے کر رہی ہے'، مجھے بارہا بتایا گیا۔
یہ تو جنگ کے بعد مجھے اس پراسرار رات کے بمبار کی شناخت معلوم ہوئی جو اس سب کا ذمہ دار تھا۔ وہ ایک انڈین پائلٹ تھا جس نے مجھے کلکتہ تک لفٹ دی تھی۔
بمباری کے بعد لوگ شہر کے مرکز سے محفوظ مقامات کے طرف جانا شروع ہو گئے، لیکن کوئی افراتفری نہیں تھی۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کے پچھلے نو ماہ کسی نہ کسی سے بچتے گزرے تھے جو انھیں مارنا چاہتا تھا۔
اور وہ اس لیے بھی بھاگ رہے ہیں کہ انھیں معلوم ہے کہ ان کے شہر کا مرکز میدان جنگ بن سکتا ہے، جہاں مشرق میں پاکستانی فوج اپنا آخری محاذ بنائے گی اور وہ اس فائرنگ میں پھنسنا نہیں چاہتے۔
اس وقت میدان جنگ سے آنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج کو اسلحے، ایندھن اور خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے اور مزید سپلائی کا کوئی امکان نہیں۔
ہم سب کو خدشہ ہے کہ یہ اب تھوڑے وقت کی بات رہ گئی ہے۔ بلکہ شاید دنوں کی کہ انڈین ڈھاکہ پہنچ جائیں گے۔
جمعرات، 09 دسمبر
ڈھاکہ خالی ہو رہا ہے۔
ریڈ کراس چاہتا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے فوجی سربراہان (ڈھاکہ) انٹرکونٹیننٹل ہوٹل کو نیوٹرل زون قرار دے دیں۔
ابھی یہ ہوٹل اس وقت سینکڑوں غیر ملکیوں کی پناہ گاہ ہے جو یہاں سے نکالے جانے کے منتظر ہیں۔ لیکن بعد میں یہ ہوٹل وہ جگہ ہو گی جہاں کے ڈرامائی مناظر دیکھے جائیں گے۔
جنگ پانچ روز پرانی ہو چکی ہے۔
رپورٹر اور کیمرہ مین باری باری ہوٹل کے گیٹ پر ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ نیوٹرل مقام کے بارے میں جنیوا کنونشن کے قوانین کے مطابق اسلحہ اندر نہیں جا سکتا اور نہ ریڈ کراس اس کی اجازت دے سکتی ہے۔
ہمارا کام اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی اسلحہ اندر نہ جائے۔ شام تک امید پیدا ہو گئی تھی کہ لوگوں کو نکالنے کے لیے ہوائی جہاز کل پہنچ جائیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 2
ہفتہ، 11 دسمبر
سنیچر کی صبح ساڑھے دس کا وقت ہے۔ ہم ڈھاکہ کے ہوائی اڈے پر برطانوی شہریوں کے منتظر ہیں جنھیں یہاں سے نکالا جانا ہے۔
ہمارے وہاں پہنچتے ہی ہوائی حملے سے خبردار کرنے والے سائرن بجنے لگے۔ ہم سوچنے لگے کہ ایسا تو نہیں کہ یہ اپنے شہریوں کو لینے کے لیے آنے والے برطانوی جہازوں کی وجہ سے بجے ہیں جن کے آنے کے اطلاع ہوائی اڈے کو نہیں ملی۔
یا پھر یہ انڈیا کا حملہ تو نہیں؟ ہمیں کچھ پتہ نہیں۔
جنگ ہمارے قریب آ رہی ہے اور یہاں سے نکلنے کے منتظر غیرملکی بےچین اور خوفزدہ ہیں۔ انھیں نکالنے کی کئی کوششیں انڈین بمباری کی وجہ سے ناکام ہو چکی ہیں۔ ڈھاکہ ایئرپورٹ کے رن وے کو براہ راست نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
ہم انٹرکونٹیننٹل ہوٹل واپس آ گئے۔
اس افراتفری اور کنفیوژن میں لوگوں کے اعصاب کمزور پڑ رہے ہیں اور بار بار غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اچانک پاکستانی کمانڈر جنرل نیازی نمودار ہوتے ہیں۔ 'گڈ مارننگ۔ آپ لوگ کیسے ہیں؟
کسی کی آواز آتی ہے کہ غیر ملکیوں کا انخلا کینسل ہو گیا ہے۔
جنرل نیازی کہتے ہیں 'ہاں۔ آپ کیسے ہیں؟ یہ افواہ کس نے پھیلائی ہے کہ میں بھاگ گیا ہوں۔'
ہمیشہ کی طرح جنرل رپورٹروں سے بات کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔
وہ کہتے ہیں 'یہ برہمن براڈکاسٹنگ کارپوریشن ہے۔ بی بی سی۔ میں ایک چیز آپ پر واضح کر دوں۔ میں اپنے اوپر سے ٹینک بھی گزار دوں گا۔ آپ میرا مردہ یا زندہ جسم دیکھیں گے۔'
ہمیں تو کلیئرنس مل چکی تھی لیکن ایئرپورٹ پر بتایا گیا کہ جنرل کمانڈ کا حکم ہے کہ انخلا ابھی نہیں ہو سکتا۔ ہمیں مدد چاہیے اور صورتحال کے بارے میں وضاحت۔
اس سوال پر جنرل نیازی کہتے ہیں 'آپ اسلام آباد سے پوچھیں، گورنر سے پوچھیں، میں تو ملٹری کمانڈر ہوں۔ گورنر میرا ماتحت نہیں۔ صدر انھیں سب کچھ براہ راست بتاتے ہیں۔'
اب بات ہوتی ہے کہ انڈین فوج کی۔ ’وہ ڈھاکہ سے کتنی دور ہیں جنرل؟‘
جواب ملا 'میں آپ کو کیوں بتاؤں؟'۔
جب یہ پوچھا گیا کہ انڈین کہتے ہیں کہ وہ اگلے ہفتے کے شروع میں یہاں پہنچ جائیں گے تو جنرل نیازی بولے 'آنے دو۔ میں تیار ہوں۔ جتنی جلدی آئیں اتنا اچھا ہے۔ وہ آتے کیوں نہیں۔ انھیں آنے دیں۔ آپ بھی ان کے ساتھ جائیں، بڑی اچھی تصاویر بنیں گی۔‘
آپ کو لگتا ہے آپ ان سے نمٹ سکیں گے؟ اور جنرل نیازی کو جواب ہے ’کن سے، انڈین سے۔ اوہ خدایا۔'
غیرملکی اپنے تحفظ کے لیے پریشان ہیں اور یقین دہانی چاہتے ہیں۔ ’آپ ہمارا تو خیال رکھیں گے؟‘۔ پاکستانی جنرل اس سوال پر کہتے ہیں ’انشاللہ۔ کسی بھی وقت میرے پاس آ سکتے ہیں۔ کسی بھی وقت۔'
ذہن میں بہت سے سوالات لیے ہوئے غیر ملکی واپس ہوٹل چلے گئے اور ان میں سے کئی ایک کو لگ رہا تھا کہ وہ شاید یرغمالی بن چکے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 3
اتوار، 12 دسمبر
اگلے روز برطانوی فضائیہ کا ہرکولیس بموں سے بنے گڑھوں کے بیچ میں رن وے کے ایک ٹکڑے پر اترا جسے ہم نے ایک رات پہلے کی بمباری کے بعد صاف کیا تھا۔
تقریبا' چار سو غیرملکیوں میں سے پہلے عورتوں اور بچوں کو جہاز میں لے جایا گیا۔
ہم نے کوشش کی کہ انخلا کا عمل جلدی جلدی سے مکمل ہو کیونکہ تین روز پہلے ہم سب نے ایک جیسا خوف محسوس کیا تھا جب ہوائی اڈے پر یہاں سے نکالے جانے کے انتظار میں عورتوں اور بچوں نے انڈیا کے حملے کے دوران خندقوں میں پناہ لی تھی۔ کیا ایسا پھر بھی ہو سکتا ہے؟
وقت کے ساتھ بھی ایک دوڑ سی لگی ہے۔ طے شدہ فائربندی کا وقت تیزی سے نکل رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ہرکولیس ٹیک آف کے لیے بڑھا تو ہم میں سے کچھ دعائیں کر رہے تھے۔ وہ جب خالی تھا تو بمشکل اترا تھا اور اب تو اس میں مسافروں کا بوجھ بھی تھا۔
تیسرا اور آخری امدادی جہاز روانہ ہونے والا ہے لیکن ہم اس کی روانگی تک نہیں رکیں گے کیونکہ فائربندی کا طے شدہ وقت ختم ہونے میں بیس منٹ رہ گئے تھے۔
اور ہم حیران نہیں ہوں گے کہ اگر فائربندی کا وقت ختم ہوتے ہی انڈیا کے جہاز ہوائی اڈے کے اوپر منڈلانے لگیں اور علاقے کو جہنم بنا دیں۔
اور ہم شہر کے مرکز کی طرف بڑھتے ہوئے پاکستانی فوج کی مشرق میں 'آخری لڑائی‘ (لاسٹ سٹینڈ) بھی دیکھنے والے تھے۔ ہمیں لگتا ہے ایسا ہونے والا ہے۔ ڈھاکہ کے لیے اصل لڑائی شروع ہونے والی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 4
پیر، 13 دسمبر
پیر کا دن ہے اور جنرل ٹائیگر نیازی اچانک ایک سڑک پر نمودار ہوتے ہیں اور جب ان سے دریافت کیا جاتا ہے کہ ’جنرل صاحب جب انڈین یہاں پہنچیں گے تو کیا ہو گا‘ تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ 'ہم آخر تک لڑیں گے۔'
اس پر اگلا سوال کہ ’تاثر تو یہ ہے کہ آپ کے پاس باقاعدہ لڑائی کے لیے مناسب تعداد میں فوجی نہیں‘ مگر جنرل نیازی اپنے موقف پر قائم دکھائی دیے اور بولے ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں اپنے سپاہیوں کی اصل تعداد کبھی ظاہر نہیں کرتا۔'
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مشروط سرینڈر کے لیے کوشش کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’نو سر۔ ہم جیتے ہیں یا مرتے ہیں۔'
اس موقع پر بھی معمول کی طرح ہمیں جنرل سے کوئی کام کی بات نہیں پتہ چلی، لیکن پھر پبلسٹی سٹنٹ کا یہ مقصد بھی نہیں ہوتا۔
شاید جنرل نیازی کے فوجی اتنی اچھی طرح چھپے ہوئے ہیں کہ ہمیں چند ایک سے زیادہ کبھی نظر نہیں آتے۔ فرنٹ لائن کے مختصر دوروں کے دوران بھی نہیں جو ایک سیکٹر میں یہاں سے صرف آٹھ میل دور ہے۔
لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ جنرل نیازی بلف کر رہے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس شہر کے دفاع کے لیے کافی فوجی ہیں۔
اس وقت تک ہمارے پاس جنگ کی پیشرفت کے بارے میں کوئی مستند اطلاع نہیں ہے۔ اس لیے ہم پاکستانی فوج کے ایک ڈاکٹر سے ملنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔
ان سے پوچھا کہ پاکستانی فوج کا کتنا جانی نقصان ہوا ہے؟ جواب ملا ’ہمارے پاس ایک ٹوٹل ہے، لیکن یاد رکھیں کہ یہ دوسرے سیکٹروں سے بھی آئے ہیں۔'
کیا بہت جانی نقصان ہوا ہے؟ جواباً ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا ’اوہ ہاں ۔ اسی لیے تو ہم ریڈکراس کے پاس بھی جا رہے ہیں کیونکہ ہمارے لیے اکیلے اتنی تعداد سے نمٹنا ممکن نہیں۔'
کیا آپ کوئی نمبر دے سکتے ہیں؟ جواب تھا ’میرا خیال ہے تقریباً ہزار۔'
یہیں ہمیں ایک راہگیر بھی ملا جس سے شہر کی دوسری طرف کی صورتحال جاننے کی کوشش کی۔ اس کا کہنا تھا کہ 'وہاں رات دس اور گیارہ کے درمیان بہت فائرنگ ہوئی۔ مشین گن بھی تھیں اور سنگل رائفل شاٹ بھی۔ پھر صبح چار اور ساڑھے چار کے درمیان بھی بہت فائرنگ ہوئی۔'
فائرنگ کون کر رہا تھا یہ بات تو اس راہگیر کے علم میں نہیں تھی۔ 'ہم نے صبح سنا کہ گورنر ہاؤس بھی حملے کا نشانہ بنا اور بہت امکان ہے یہ حملہ مکتی باہنی کی طرف سے تھا۔ رضاکاروں کے پاس تو آٹومیٹک ہتھیار ہیں نہیں۔ یہ فوجی تھے یا مکتی باہنی یا دونوں۔'
'یہ تو اچھی بات نہیں کیونکہ اس سے اشارہ ملتا ہے وہ سب کو نشانہ بنانا چاہ رہے ہیں گورنر ہاؤس میں، جہاں گورنر جنرل فرمان اور چیف سیکرٹری ہیں۔ ایک نتیجہ تو یہی نکلتا ہے۔'
گورنر ہاؤس پر فائرنگ کا ایک نتیجہ یحییٰ خاں کی کٹھ پتلی حکومت کے وزرا اور سول افسران کا وہاں سے فوری انخلا تھا۔
انھیں اس شرط پر ہوٹل کی نیوٹرل حدود میں آنے دیا گیا کہ وہ کوئی ہتھیار ساتھ نہیں لائیں گے۔
ریڈ کراس کو گورنر ہاؤس سے آنے والے تمام افراد کو وارننگ دینی پڑی کہ اگر انھوں نے ضوابط کی پابندی نہ کی تو انھیں وہاں سے نکال دیا جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 5
منگل، 14 دسمبر
منگل کی دوپہر تک مشرقی پاکستان کی سول انتظامیہ ختم ہو گئی۔ گورنر ہاؤس جل رہا تھا۔ وہ انڈین طیاروں سے داغے گئے راکٹوں کا براہ راست نشانہ بنا تھا لیکن تفصیلی معائنے کے بعد نقصان زیادہ نہیں لگا۔
گورنر ہاؤس کا معائنہ کرتے ہوئے وہاں سول ڈیفنس کے اہلکاروں سے پوچھا۔ راکٹ تو کافی فائر ہوئے، کوئی بڑا بم بھی تھا؟ جواب ملا 'کوئی نہیں تھا۔'
جہاز سے گولے برسائے گئے،کچھ اور بھی تھا؟ تو اہلکار نے بتایا ’گولیاں بھی فائر کی گئیں مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔'
یہ اہلکار یہ نہیں جانتے تھے کہ جب حملہ ہوا تو گورنر عمارت میں موجود تھے یا نہیں۔ 'ہمیں نہیں معلوم۔ ہم تو سول ڈیفنس سے آئے ہیں۔ ہمیں ہمارے ڈویژنل سپرانٹنڈنٹ نے یہاں بھیجا۔'
دوسرے فضائی حملے کے بعد گورنمنٹ ہاؤس سے ہوٹل کی پناہ میں جانے والے آخری شخص گورنر مالک تھے۔ ان کی آمد کا مطلب ہے کہ مشرقی پاکستان کی سول انتظامیہ ختم ہو چکی ہے۔
آبزرور کے نامہ نگار گیون ینگ حملے کے دوران گورنمنٹ ہاؤس میں گورنر مالک کے ساتھ تھے۔ ان کا کہنا تھا ’گورنر مکمل طور پر تذبذب کا شکار تھے۔ وہ ساتھ والے ایک بنکر میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ پناہ لیے ہوئے تھے۔ وہ غیریقینی کا شکار تھے اور پوچھ رہے تھے کہ ان کی بیٹی اور اہلیہ گورنر ہاؤس سے کیسے نکل سکتی ہیں جو تباہ ہو رہا تھا۔
’اقوام متحدہ کے جان کیلی کہہ رہے تھے ان دونوں کے جانے کا بندوبست ہو سکتا ہے لیکن ان (گورنر) کے لیے وہ نہیں کر سکتے کیونکہ اقوام متحدہ اس معاملے میں پڑنا نہیں چاہتی۔‘
کیا یہ فضائی حملہ تھا جس نے انھیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا؟ گیون کے خیال میں ایسا ہی ہے۔
'ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک لمحے وہ اپنی بیوی کے بارے میں بات کر رہے تھے اور پھر اچانک ہی دوسرا حملہ ہوا اور ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ اور پہلے حملے کے بعد سیکنڈوں میں ان کے وزرا نے کاغذ اور بال پوائنٹ پیش کر دیے اور دس سیکنڈ میں استعفی تیار تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ انھوں نے استعفے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو اس حکومت کی کسی بھی اگلی کارروائی سے الگ کر دیا تھا۔
'اس وقت تو وہ صرف اس بنکر سے نکلنا اور حملے سے دور جانا چاہتے تھے اور کسی کام کی ذمہ داری سے بھی جو یہ حکومت کر سکتی ہے۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 6
ہوٹل میں آنے والی ایک اور شخصیت روسی قونصل جنرل پوپوو تھے۔
جنیوا کنونشن ڈپلومیٹ کی اجازت نہیں دیتی مگر انھوں نے کسی بات کی پرواہ نہیں کی اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور اندراج کروانے سے بھی انکار کر دیا۔
ہوٹل میں ڈیوٹی پر غیرملکی اہلکار نے کہا: 'وہ(روسی سفارتکار) نشے میں معلوم ہوتے ہیں۔ نشے میں ہیں اور بدکلامی بھی کر رہے ہیں۔'
ہمارے خیال میں اب وہ (انڈینز) جنرل نیازی کو ہلاک کرنا چاہ رہے ہیں۔ مشرقی پاکستان جو اب بنگلہ دیش بننے والا ہے وہاں جنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
اور ہمارے خیال میں ان جنگی طیاروں کی پروازوں کا مقصد پاکستانی فوج کو بتانا ہے کہ کھیل ختم ہو چکا ہے اور جنھوں نے اب تک نہیں ایسا کیا انھیں ہتھیار ڈال دینے چاہییں۔ تو ہمارا خیال ہے انڈین پائلٹ صرف ایک طرح سے نمائشی پروازیں کر رہے ہیں۔
مگر پاکستانی فوج کے کرنل اب بھی مُصر ہیں کہ سرینڈر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ’کرنل کیا ہتھیار ڈالنے کی کوئی بات ہوئی ہے؟‘ اور جواب تھا 'نہیں نہیں کوئی سرنڈر نہیں۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔'
تو ابھی پوزیشن وہی ہے جو جنرل نیازی کہتے رہے ہیں کہ آخری آدمی تک لڑیں گے؟
انڈین طیاروں کی پروازوں سے افراتفری میں اضافہ ہوا اور مزید لوگ ہوٹل کی طرف پناہ کے لیے آئے۔
اس انڈین حملے کا مقصد معلوم ہوتا ہے کہ انھیں جنرل نیازی کے ہیڈکوارٹر کا علم ہو گیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ پاکستان آرمی کے کمانڈر جنرل نیازی نے اپنا ہیڈکوارٹر نئی جگہ منتقل کیا ہے اور انڈیا کو اس کے بارے میں پتہ ہے۔
ہمارے خیال میں اب وہ جنرل نیازی کو ان کے نئے ہیڈکوارٹر پر حملہ کر کے ہلاک کرنا چاہ رہے ہیں، ۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 7
بدھ، 15 دسمبر
بدھ کی صبح ساڑھے آٹھ بج رہے ہیں۔ جنگ 12 دن پرانی ہو چکی ہے۔
جنرل فرمان اب تک کی صورتحال پر رائے دینے سے گریزاں ہیں۔ ’جیسا کہ میں نے کہا کہ فوج کی کمان میرے پاس نہیں ہے۔ فوج کی کمان جنرل نیازی کے پاس ہے۔'
مگر اس سوال پر کہ اگر وہ کمان کر رہے ہوتے تو کیا آپ اس وقت ہتھیار ڈالنے کے بارے میں سوچتے، کہتے ہیں ’نہیں۔ ہم کیوں ہتھیار ڈالیں۔'
بدھ کی صبح دس بج کر بیس منٹ ہو چکے ہیں اور جو خبر مجھے ملی ہے اس کے مطابق یحییٰ خان ہتھیار ڈالنے کا حکم دے چکے ہیں بلکہ انھوں نے کل شام چار بجے اس پر اتفاق کر لیا تھا۔
اب یہ ہو گا کہ سویلین حکومت کے فوجی مشیر فرمان علی حکومت کے سابق ارکان سے ملیں گے اور ہتھیار ڈالنے کے معاہدے کے بارے میں بات کریں گے۔
اس کے بعد وہ جا کر جنرل نیازی سے ملیں گے اور انھیں جنرل یحییٰ خان کا حکم ماننے کے لیے کہیں گے۔
ہمارا اندازہ ہے کہ وہ مان جائیں لیکن ہم اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ تو یہ ہے جو اب ہونے جا رہا ہے۔
انٹرکانٹینینٹل میں عالمی اہلکار صحافیوں سے محتاط کوریج کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ’ہمیں ایک انتہائی اہم لمحے کا سامنا ہے۔ یہ اتنا اہم ہے کہ اس مرحلے پر اس کا پوری دنیا کے ٹی وی کیمروں میں نظر آنا ٹھیک نہیں۔ آپ نے اب تک بہت تعاون کیا ہے، تو میری آپ سے پہلی بار مودبانہ درخواست ہے کہ آپ ہوٹل واپس جائیں۔ اس لمحے پر کوئی ٹی وی فلمنگ نہیں ہو گی۔ میں بعد میں کچھ بندوبست کروں گا۔ شکریہ۔'
صحافی ان سے متفق دکھائی نہیں دیتے اور کہتے ہیں 'یہ انتہائی اہم اور تاریخی لمحہ ہے اور میرے خیال میں اس کی کوئی ریکارڈنگ ضرور ہونی چاہیے۔'
حیران کن طور پر ہوٹل اب اس ڈرامے کا مرکز بن چکا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 8
اب جبکہ سب ہتھیار ڈالنے پر متفق ہو چکے ہیں سوائے جنرل نیازی کے تو میرے خیال میں انڈیا کا یہ حملہ ان کو پیغام ہے کہ وہ بھی اب دستخط کے لیے تیار ہو جائیں۔ میرے خیال میں اس سب کا مقصد اب یہی ہے۔
ہوٹل کے باہر نعرہ تکبیر لگا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی بلند ہو رہے ہیں۔ لگتا ہے ان لوگوں تک بات پہنچی نہیں اور پہنچ بھی کیسے سکتی تھی۔
لیکن اگر انھوں نے احتیاط نہ برتی تو یہ مکتی باہنی کا پہلا ہدف بن سکتے ہیں کیونکہ یہ بیوقوفی میں مشرقی پاکستان کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں جو اس وقت سمجھداری نہیں۔
صحافیوں کی آپس میں بات چیت ہو رہی ہے کہ جنرل فرمان یہاں ساڑھے گیارہ بجے پہنچ رہے ہیں تو کیا ہمیں خاموشی سے پیچھے رہنا چاہیے کیونکہ جنرل نیازی جنھیں یہاں ہونا چاہیے تھا، پریس کی وجہ سے آنے سے انکار کر رہے ہیں۔
دوسرے الفاظ میں ہماری یہاں موجودگی لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
جنرل فرمان مقررہ وقت پر یہاں پہنچ گئے۔ ان کی صورتحال کافی مشکل ہے کیونکہ نجی طور پر وہ کئی دنوں سے ہتھیار ڈالنے کے لیے کہہ رہے تھے۔
بدھ کی دوپہر دو بجنے میں پانچ منٹ ہیں۔ اس وقت کی صورتحال ہماری معلومات کے مطابق یہ ہے کہ جنرل نیازی نے جنگ بندی کا خیال قبول کر لیا ہے لیکن مذاکرات اس وقت پھنسے ہوئے ہیں۔ بظاہر جنرل نیازی فیس سیونگ فارمولے کی تلاش میں ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ لفظ 'سرینڈر' استعمال کیا جائے۔ دوپہر تک انڈیا کے جیٹ کچھ زیادہ کارروائی کر رہے ہیں اور ان کے راکٹ شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 9
اگر جنرل نیازی نے بالآخر آخر تک لڑنے کا فیصلہ کیا تو وہ انڈیا کو مزید شہر تباہ کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں لیکن چار بج کر بیس منٹ پر صورتحال یہ ہے کہ جنرل نیازی مشروط جنگ بندی پر رضامند ہو گئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جنرل نیازی نے اپنے صدر یحییٰ خان کو بتا دیا ہے کہ وہ جنگ بندی پر تیار ہیں لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں اور ان شرائط کے بارے میں خیال ہے کہ ان کے تحت مشرقی پاکستان میں فوجی ہر حال میں اپنے ہتھیار پاس رکھیں گے۔
اب یہ شرائط انڈیا کے سامنے رکھی جائیں گی۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔
جمعرات، 16 دسمبر
جمعرات سولہ دسمبر کی صبح ہے مگر لڑائی جاری ہے، جنگ بندی کا امکان کم ہو رہا ہے اور پھر۔۔۔
اقوام متحدہ کے نمائندے جان کیلی ایک پریس کانفرنس کرتے ہیں
’ہم نے سوچا کہ آپ کو آج صبح کی پیشرفت سے آگاہ کیا جائے۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے انڈیا نے مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ساڑھے نو بجے تک کی مہلت دی تھی۔ انٹر کونٹیننٹل ہوٹل کے لیے ملٹری رابطہ افسر سے بات چیت سے معلوم ہوا کہ کمیونیکیشن اور پاکستانی فوج کے نیٹ ورک میں خرابی پیدا ہو گئی تھی جو جاری لڑائی میں تباہ ہو گئی تھی۔ ان کے لیے ملٹری ہیڈکوارٹر سے رابطہ کرنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ اس لیے ہم یہ معلوم نہیں کر سکے کہ الٹی میٹم مانا گیا یا نہیں، اور دوسرے یہ کہ اگر مانا گیا تو کیا انڈین حکام کو اس کے بارے میں بتایا گیا۔
’صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اور شہر پر شدید اور فوری حملے کے خطرے کے پیش نظر، ریڈ کراس کے کرنل کیمپل، پاکستان کے رابطہ افسر اور میں نو بجے کے قریب کنٹونمنٹ گئے۔ ہم جنرل فرمان سے ملے جنھوں نے بتایا کہ کمیونیکیشن نیٹ ورک تباہ ہو گیا ہے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں اقوام متحدہ کی طرف سے نئی دلی کو پیغام پہنچا سکتا ہوں اور پیغام یہ تھا کہ الٹی میٹم مان لیا گیا تھا۔‘
ہتھیار ڈالے جانے کے بعد منٹوں میں ہم نے شواہد دیکھے کہ پاکستانی فوج کے آلہ کار خون کی آخری ہولی کھیلتےرہے ہیں۔
بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ کم سے کم دو سو 'مشرقی بنگالی' جو نئے ملک کے ممکنہ سیاسی رہنما بن سکتے تھے، انھیں گھروں سے نکال کر قتل کیا گیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 10
پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کی خبر پھیلی تو مکتی باہنی کے گوریلے شہروں میں اپنی پناہ گاہوں سے نکل آئے۔ کچھ عرصہ پہلے تک ان میں سے کچھ اور ان کے حامی ہوٹلوں میں گاہک اور ویٹر تھے۔
ان کا پہلا ہدف ہوٹل کےسامنے سڑک پر ریڈیو سٹیشن ہے۔ ان میں سے کچھ فائرنگ کرتے اس کے اندر جانا چاہتے ہیں حالانکہ وہاں کوئی مزاحمت نہیں لیکن ابھی مکتی باہنی کی ہی سوچ رائج ہے۔
ریڈیو سٹیشن پر بنگلہ دیش کا پرچم لہرایا جانا غیر سرکاری طور پر نئے ملک کے وجود میں آنے کا اعلان تھا لیکن پھر افراتفری۔
سنا گیا کہ پاکستانی فوجی ہجوم پر فائرنگ کر رہے ہیں لیکن وہ فائرنگ دراصل دوسرے مکتی باہنی گوریلوں کی طرف سے ہو رہی تھی جو سیلوٹ کے طور پر ایسا کر رہے تھے۔
اس ساری کنفیوژن کے دوران انڈین آ پہنچے۔
انڈین فوج کے کرنل پنو یہ کہنے کو تیار نہیں کہ پاکستانی فوج کو بری شکست ہوئی ہے۔
'میں یہ الفاظ نہیں استعمال کروں گا۔ میں کہوں گا کہ بہت شدید لڑائی ہوئی ہے۔۔۔۔بس چیزیں ایسے آگے بڑھیں جیسی ہم نے کوشش کی۔'
وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی فوجیوں نے آخری لمحے تک مزاحمت کی۔
'میں کہوں گا کہ پاکستانی فوجیوں نے زبردست لڑائی کی۔ بلکہ میں تو کہوں گا کئی موقعوں پر ان میں اتنی شدت تھی کہ میں نے کہا کہ اس فوجی کو دیکھو یہ کسی چیز کے لیے جان دے رہا ہے لیکن اس طرح سیدھا حملہ کر رہا ہے جس کی تُک نہیں بنتی۔ کئی موقعوں پر تو بالکل پاگل پن تھا۔ حقیقت میں مجھے بہت افسوس بھی ہوتا تھا۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 11
کرنل پنو کے مطابق ان کی فوج کو ڈھاکہ پہنچنے کی جلدی تھی لیکن وہ کم سے کم جانی نقصان چاہتے تھے۔
’ہم جلد سے جلد یہ ختم کرنا چاہتے تھے۔ لیکن آپ کو تو معلوم ہے ایسے معاملوں میں کیسے ہوتا ہے۔ میرا مطلب آپ بدلے میں اپنے بہت زیادہ فوجی بھی نہیں مروانا چاہتے۔ میں اپنے سپاہیوں کو بچاتے ہوئے جنگ جیتنا چاہوں گا اگر ایسا ممکن ہو، بجائے اس کے کہ ان کو مروا دوں۔
’آج صبح کی مثال لیں تو میرے تین سپاہی کام آ گئے اور یہ جنگ بندی یا جو بھی یہ تھا اس کے اعلان سے آدھ گھنٹے پہلے ہوا۔'
صرف ہم جیسے جو اس منظر سے لاتعلق ہیں ان کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ تصور کر سکتے ہیں کہ پاکستان کے مسلمان بانی قبر میں کس تکلیف سے گزر رہے ہوں گے۔
اب ایک سوال یہ بھی ہے کہ مکتی باہنی کے رہنما کیا اپنے کارکنوں کو کنٹرول کر پائیں گے یا نہیں۔ ایک مقامی گوریلا رہنما سے جب یہ سوال کیا تو انھوں نے کہا 'بالکل ہمیں کنٹرول کرنا پڑے گا۔' اور یہ کہ ان کی صفوں میں ڈسپلن ہے۔
مگر چند سیکنڈ بعد مکتی باہنی کے رہنماؤں کے سامنے ہی ہجوم ایک مشتبہ پاکستانی آلہ کار کو مار رہا تھا۔
دوپہر کو جب ہتھیار ڈالنے کی تقریب کا بندوبست کیا جا رہا تھا میں ہاکستانی آرمی کے ہیڈکوارٹر گیا۔ یہاں اب نئے انچارج جنرل جیکبز ہیں جو مشرقی سیکٹر کے لیے انڈیا کے چیف آف سٹاف ہیں۔
ایک فاتح کے حیثیت سے وہ حیران کن طور پر بجھے ہوئے تھے۔ ذاتی طور پر وہ ہمیشہ سے جنگ کے مخالف تھے اور اب انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ مستقبل کے لیے پریشان ہیں۔
'ہم نے جنگ تو جیت لی۔ مگر میں نہیں جانتا کہ ہم امن جیت سکیں گے یا نہیں۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 12
لنچ پر ہارنے والے جنرل نیازی نے بھی اتنی ہی بےتکلفی سے بات کی۔ انھوں نے اس بات کی تصدیق کی جو ہمارے خیال میں ہمیں ہمیشہ سے معلوم تھی۔ وہ یہ کہ جنگ ہارنے کے بعد بھی وہ دیر تک اس لیے لڑتے رہے کہ صدر یحییٰ خان نے انھیں یقین دلا دیا تھا کہ امریکہ اور چین مشرقی پاکستان کو بچانے کے لیے لڑائی میں شامل ہو جائیں گے۔
جب میں نے جنرل نیازی سے کہا کہ انھوں نے ڈھاکہ کے قریب دفاعی پوزیشن لینے کی بجائے سرحد پر اہم شہروں کے دفاع کی پالیسی اپنا کر سنگین غلطی تو نہیں کی تو انھوں نے کہا ’ہاں مجھے یہ سب معلوم ہے اور میرے کمانڈروں کو بھی۔ ہم نے مختلف حکمت عملی کے حق میں بات کی تھی لیکن ہمیں احکامات ملے ہوئے تھے اور ہم نے انھیں مانا کیونکہ ہم فوجی ہیں۔‘
غروب آفتاب کے وقت ہتھیار ڈالنے کی تقریب کے لیے انڈین پیراٹروپرز ڈھاکہ کے ریس ٹریک پر پہنچ گئے۔
اب جنرل نیازی اس شرمندگی کو چھپا نہیں پا رہے تھے جو انھیں شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ مجھے لگ رہا ہے کہ وہ رو دیں گے۔
پھر ہم سب کو اچانک ہر وقت اس پرجوش رہنے والے جنرل کے لیے افسوس ہوا۔ اس لمحے ہم میں سے زیادہ تر جنرل نیازی کی جگہ یحییٰ خان کو دیکھنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 13
دنیا کے گنجان آباد اور غریب ترین علاقوں میں سے ایک ملکیت تبدیل ہونے جا رہی تھی۔ پاکستان کی ہارنے والی فوج پیچھے نفرت اور غصے کی یاد چھوڑ کر جا رہی تھی۔
جو کچھ ہوا ہے اس کے بعد بنگلہ دیشی عوام کے لیے خون کا حساب مانگنا غیر فطری بات نہیں ہو گی۔ ان کی زمین اس سے رنگی ہوئی ہے لیکن بدلے کا جنوں کسی بھی قوم کے لیے اچھی بنیاد نہیں ہے۔
انڈیا کے لیے ابھی تو جیت کی خوشی ہے لیکن آگے ایک غیر مستحکم نئی قوم کو کھڑا کرنے کا مشکل کام آنے والا ہے۔
سنہ 1947 میں برطانویوں نے برصغیر کو دو ملکوں میں تقسیم کیا تھا اور 24 سال بعد صرف تیرہ روز جاری رہنے والی ایک جنگ کے بعد اب یہاں تین ملک ہیں۔







