آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغانستان میں پوست کی کاشت جاری مگر طالبان کو متبادل فصلوں کی تلاش
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان میں پوست کی کاشت پر قابو پانے کے لیے متبادل فصلوں کی تلاش ضروری ہے اور اس سلسلے میں عالمی برادری کو ان کی مدد کرنی چاہیے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان ان خبروں کے بعد سامنے آیا جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ افغانستان میں اس سال اگست میں اقتدار پر طالبان کی واپسی کے ساتھ پوست کی کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
قندھار کے کسانوں کا کہنا ہے کہ طالبان نے ابھی تک پوست کی کاشت بند نہیں کی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ کسان کی مالی بے بسی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ پوست کی کاشت خاندان کی آمدن کے لحاظ سے بہترین فصل ہے۔
چند روز قبل قندھار میں محکمہ زراعت اور لائف سٹاک کے محکمے میں متبادل ذریعہ معاش کے سربراہ نے پژواک افغان نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ گذشتہ برسوں میں قندھار میں بہت کم پوست کاشت کی جاتی تھی لیکن اس سال یہ تعداد پانچ فیصد زیادہ ہونے کے اندازے لگائے گئے ہیں۔
کچھ دوسرے علاقوں سے ملنے والی خبروں میں کہا گیا ہے کہ رواں سال پہلے سے زیادہ پوست لگائی گئی، جیسے ننگرہار کے کچھ دور دراز اضلاع میں۔
لیکن طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ملک میں پوست کی کاشت میں اضافے کی خبروں اور دعوؤں کی تردید کی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پوست کی کاشت کو روکنے کے لیے متبادل کاشت کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں دنیا کو افغانستان کی مدد کرنی چاہیے۔
کسان نیک محمد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ حالیہ برسوں میں طالبان بھی پوست کی کاشت سے پیسہ کما رہے ہیں اور اسی وجہ سے افغانستان میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد افیون اور دیگر منشیات کے عادی ہو گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
افغانستان دنیا کا سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک ہے۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان دنیا کی 80 فیصد افیون پیدا کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں افغانستان میں پوست کی کاشت صفر تک گِر گئی تھی۔
اگرچہ طالبان کے بعض عہدیداروں نے کہا ہے کہ وہ ماضی کی طرح افغانستان میں پوست کی کاشت کا خاتمہ کر دیں گے لیکن اس بار طالبان کی حکومت نے پوست کی کاشت اور منشیات کے سمگلروں کو روکنے کے لیے ابھی تک کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔
تاہم طالبان نے ہیروئن کے عادی افراد کے علاج اور روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر ایک مہم شروع کر دی گئی ہے۔
طالبان کی وزارت داخلہ کے ترجمان سعید خوستی نے کہا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں کابل کے مختلف حصوں سے 2008 منشیات کے عادی افراد کو اکٹھا کر کے ہسپتالوں میں لے جایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ کا علاج مکمل ہو چکا ہے اور باقی اب بھی زیرِ علاج ہیں۔