نریندر مودی کا دورہ امریکہ: چین نے علاقائی تنازعات پر انڈیا، جاپان کا موقف مسترد کر دیا، ’کواڈ اتحاد کی تقدیر میں ناکامی لکھی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, وکاس پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
چین نے جنوبی اور مشرقی بحیرہ چین کے متنازع حصوں میں سمندری نظام ’زبردستی تبدیدل‘ کرنے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ چینی سرکاری نیوز ویب سائٹ ’دی پیپر‘ کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے انڈین اور جاپانی رہنماؤں کی جانب سے ’معاشی زبردستی‘ اور ’یکطرفہ کوششوں‘ کے بیانات کو مسترد کیا ہے۔
جمعہ کو بیجنگ میں بریفننگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ ’جھوٹ اور الزامات کی بنیاد پر سفارتکاری بالکل بھی تعمیری نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’معاشی زبردستی کی جائے پیدائش اور صدر دفتر واشنگٹن میں ہے۔ پہلی بات چین دھمکیاں نہیں دیتا اور نہ ہی تجارتی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ چین اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتا۔ تیسری بات یہ کہ چین مختلف ممالک میں کمپنیوں کو بلاوجہ دباتا نہیں ہے۔ کسی بھی صورت میں معاشی زبردستی کا الزام چین پر عائد نہیں کیا جا سکتا۔‘
یاد رہے کہ کواڈ اتحاد، جس میں امریکہ، آسٹریلیا، انڈیا اور جاپان شامل ہیں، کا پہلا ’ان پرسن‘ اجلاس آج واشنگٹن ڈی سی میں ہونے جا رہا ہے۔ خیال ہے کہ کواڈ اتحاد میں ایشیا پیسیفک علاقے میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ پر بات ہو گی اور اس اجلاس کی میزبانی امریکی صدر جوبائیڈن وائٹ ہاؤس میں کر رہے ہیں۔
چین کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ ’چین علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ اختلافات کی صورت میں ان ممالک سے مذاکرات جاری رہیں اور مناسب حل تلاش کیا جائے۔‘
ژاؤ سے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور جاپانی وزیر اعظم سوگا ہوشیدے کے ان بیانات پر ردعمل مانگا گیا تھا جن میں انھوں نے چین پر الزام لگایا کہ اس نے جنوبی بحیرہ چین اور مشرقی بحیرہ چین میں سمندری نظام تبدیل کرنے کی یکطرفہ کوشش کی ہے۔ انھوں نے اس حوالے سے چین کی مذمت کی تھی اور علاقائی سمندری حدود میں بیجنگ کے اثر و رسوخ کی طرف اشارہ کیا تھا۔
دونوں رہنما واشنگٹن میں کواڈ اتحاد کے اجلاس میں موجود تھے جہاں امریکہ اور آسٹریلیا کی قیادت بھی آئی تھی۔
چینی وزارت خارجہ نے کواڈ اتحاد سے مطالبہ کیا ہے کہ دوسرے ممالک کو ہدف نہ بنایا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دی پیپر کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’چین سمجھتا ہے کہ علاقائی تعاون کے کسی اتحاد کو کسی تیسرے فریق یا اس کے مفادات کو ہدف نہیں بنانا چاہیے۔‘
’چھوٹے گروہ کے طور پر تعاون کرنا جس میں دوسرے ممالک کو شامل نہ کیا جائے یا انھیں ہدف بنایا جائے یہ جدید دور کے رجحان کے خلاف ہے۔ یہ علاقائی ممالک کی خواہشات کے خلاف ہے اور اس کی تقدیر میں ناکام ہونا لکھا ہے۔‘
ژاؤ کا کہنا تھا کہ چین عالمی امن قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس نے ’عالمی پیداوار بڑھائی ہے، بین الاقوامی نظام کا دفاع کیا ہے اور عوامی ضرورت کی اشیا فراہم کی ہیں۔‘
انھوں نے ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ چینی ترقی کو صحیح انداز میں دیکھیں اور خطے میں استحکام اور تعاون بڑھانے کی کوششیں کریں۔
پاکستان، چین کے حوالے سے وہ تحفظات جو انڈیا کواڈ اجلاس میں زیرِ بحث لا سکتا ہے
گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اکثر میٹنگز کی طرح کواڈ اتحاد، جس میں امریکہ، آسٹریلیا، انڈیا اور جاپان شامل ہیں، کا پہلا اجلاس بھی ’ورچوئل‘ تھا۔
ان ملکوں کے سربراہان نے مارچ میں رابطہ قائم کیا تھا اور ایشیا کے ملکوں کے لیے سنہ 2022 کے اواخر تک ایک ارب کووڈ ویکسین بھیجنے کے منصوبے میں تعاون پر اتفاق کیا تھا۔
لیکن اب جمعہ کو کواڈ کا پہلا ’اِن پرسن‘ اجلاس واشنگٹن ڈی سی میں ہونے جا رہا ہے۔ لیکن یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب رواں ہفتے کے اوائل میں ایک نئے بین الاقوامی سکیورٹی معاہدے نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
متنازع آکس معاہدے میں امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ اس معاہدے کے تحت آسٹریلیا کو پہلی بار امریکہ کی جوہری ایندھن سے چلنے والی آبدوز کی ٹیکنالوجی تک رسائی مل جائے گی۔
تو کیا آکس معاہدے سے کواڈ پر کوئی فرق پڑے گا؟ ان ممالک کے سربراہان نے اجلاس کے دوران چین کے براہ راست تذکرے سے اجتناب کیا ہے۔ لیکن خیال ہے کہ اس تعاون کی کوششوں کا اصل مقصد انڈو پیسیفک خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کے ذہن میں چین ضرور ہو گا جب وہ کواڈ کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ انڈیا اس گروہ میں وہ واحد ملک ہے جس کی سرحد چین کے ساتھ ہے۔ کئی مقامات پر اس سرحد پر جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ گذشتہ سال دونوں ملکوں کے فوجیوں کی ایک لڑائی میں ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔
حالیہ برسوں میں انڈیا بین الاقوامی اجلاسوں میں بارہا شرکت کرتے پایا گیا ہے اور یہاں اس کی شمولیت کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ انڈیا کچھ ایسے اجلاسوں میں بھی موجود ہوتا ہے جہاں چین بحیثیت ایک رکن موجود ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آکس اور کواڈ دونوں کے وجود سے انڈیا کو فائدہ پہنچے گا۔
کواڈ کے اجلاس سے نئی دہلی دیگر تین رکن ممالک کے ساتھ اپنی تشویش کا اظہار کر سکے گا اور یہ تمام ملک اس پر ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دے سکیں گے۔
’کنٹرول رسکس‘ نامی ادارے میں ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹر پراتش راؤ کہتے ہیں کہ اس اجلاس میں رکن ممالک خطے میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی بنا سکتے ہیں۔
راؤ کہتے ہیں کہ ’اس اجلاس میں طویل مدتی تعاون کی بنیاد ڈالی جا سکتی ہے جس میں پیچیدہ ٹیکنالوجی، فوجی تعاون اور خطے میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے مالی وسائل پر کام ہو سکے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ دونوں فورم، آکس اور کواڈ، خطے میں ایک دوسرے کی حمایت کریں گے اور انڈو پیسیفک خطے میں علاقائی سکیورٹی کے معاملے میں رکن ممالک ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔
خیال ہے کہ کواڈ ماحولیاتی تبدیلی، سائبر سکیورٹی، انفراسٹرکچر کی تعیر اور نئی ٹیکنالوجی جیسے فائیو جی انفراسٹرکچر پر معلومات کی شیئرنگ جیسے امور پر تعاون کا اعلان کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واشنگٹن کے تھینک ٹینک ویلسن سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ کواڈ نے پہلے ہی ٹھوس نتائج کا اعلان کیا ہے، جیسا کہ کووڈ ویکسین کی پیداوار اور تقسیم۔
کوگلمین کا کہنا ہے کہ ’انڈیا ایسے نتائج سے مشکل میں نہیں پڑے گا کیونکہ یہ چین کے لیے زیادہ اشتعال انگیز نہیں۔‘
لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ کواڈ کے فریم ورک میں انڈیا کے کچھ مسائل غیر حل شدہ ہی رہیں گے۔ انڈیا کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک بحیرہ ہند اور چین کے ساتھ سرحد کا ہے۔
چین کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جس سے انڈیا خوش نہیں۔ یہ منصوبہ چینی بیلٹ اینڈ روڈ پراجیکٹ کا حصہ ہے۔ اب بیجنگ افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے اور یہ بھی نئی دہلی کے لیے باعث تشویش ہے۔
یہ بھی پڑھیے
تو کیا کواڈ انڈیا کی مدد کر سکے گا تاکہ اس کے لیے سکیورٹی کی مشکلات حل ہو سکیں؟ سابق انڈین سفارتکار جیتیندر ناتھ مشرا کہتے ہیں کہ انڈیا کے لیے سب سے بڑا خدشہ سمندری مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔
مشرا کہتے ہیں کہ ’انڈیا کو اس اتحاد سے کچھ مشکل سوال پوچھنے ہوں گے جیسا کہ ان سمندری حدود کے مفادات کا تحفظ کیسے ہو گا جہاں چین کئی برسوں سے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔‘
کواڈ اجلاس کے علاوہ مودی پہلی بار امریکی صدر جو بائیڈن سے ’ون آن ون‘ ملاقات بھی کریں گے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے پاس ایک موقع ہو گا کہ ایک دوسرے کو اچھے سے جان سکیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مودی اور بائیڈن شاید چین کے بارے میں براہ راست بات نہ کر سکیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ رہنما انڈو پیسیفک خطے اور افغانستان میں بیجنگ کے بڑھتے عمل دخل پر بات چیت کریں گے۔
امکان ہے کہ انڈیا امریکہ سے مطالبہ کرے گا کہ وہ طالبان کو پابند کرے کہ وہ ’جیش محمد‘ اور ’لشکر طیبہ‘ جیسے مسلح گروہوں کو افغانستان کی سرزمین استعمال نہ کرنے کی اجازت دیں جس سے انڈیا پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔
کئی ملک ابھی سے طالبان کے ساتھ روابط کی شرائط کا تعین کرنے میں مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ انڈیا اپنی پالیسی بنانے میں اس مسئلے کو مدنظر رکھے گا۔
کچھ دیگر مسائل میں تجارتی جھگڑے شامل ہوں گے جیسے انڈیا کی جانب سے روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری کا غیر حل شدہ معاملہ۔ امریکہ نے تاحال وضاحت نہیں کی کہ آیا وہ اس خریداری پر انڈیا کو کوئی ریلیف دے گا۔
یہ دو طرفہ ملاقات شاید ان مسائل پر کوئی ٹھوس حل نہ دے۔ لیکن اس سے مودی اور بائیڈن کو ایک موقع ملے گا کہ جھگڑوں سے ہٹ کر نئی منصوبہ بندی کر سکیں اور آگے بڑھ سکیں۔
راؤ کہتے ہیں کہ دونوں ممالک دیگر شعبوں میں بھی تعاون کی یقین دہانی کرائیں گے جیسے امریکی ویکسین کے کھیپ سے فائدہ لینا اور انڈیا کی پیداواری صلاحیت کی حمایت کرنا جس میں گیوی اور کوویکس جیسے منصوبے مضبوط ہو سکیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ماحول دوست ٹیکنالوجی میں مشترکہ سرمایہ کاری سے ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ بھی زیر بحث ہو گا جبکہ دفاع و سکیورٹی کے مسائل پر تعاون کے استحکام پر بات ہو گی۔‘










