آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیر: سکھ لڑکیوں کی 'جبری تبدیلی مذہب اور شادی' میں حقیقت کیا اور فسانہ کیا
- مصنف, ماجد جہانگیر
- عہدہ, سینیئر صحافی، سرینگر
حال ہی میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سکھ برادری کے کچھ افراد نے الزام لگایا ہے کہ ان کی برادری کی لڑکیوں کو زبردستی اسلام قبول کرایا جا رہا ہے اور پھر انھیں زبردستی مسلمان لڑکوں سے شادی پر مجبور کیا جارہا ہے۔
سکھ برادری کے لوگوں نے یہ الزامات اس لیے لگائے ہیں کیونکہ پچھلے ہفتے سکھ برادری کی دو لڑکیوں کے مبینہ طور پر زبردستی مذہب تبدیل کرنے اور پھر زبردستی شادی کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔
اس تنازعہ کی وجہ دو لڑکیاں دنمیت کور اور منمیت کور ہیں۔
اس واقعے پر کچھ سکھ تنظیموں نے جموں وکشمیر اور دہلی میں مظاہرہ کیا ہے اور مطالبہ کیا کہ ان کی لڑکیوں کو ان کے اہل خانہ (والدین) کے حوالے کیا جائے۔
لیکن پولیس اور دونوں سکھ لڑکیوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سارا معاملہ کیا ہے؟ سب سے پہلے بات کرتے ہیں دنمیت کور کی۔
تنازع کہاں سے شروع ہوا؟
28 سالہ دنمیت کور کے اہل خانہ کو اس وقت شدید صدمہ پہنچا جب چھ جون کو دنمیت کور اپنے گھر سے نکلیں، اور کچھ ہی دیر بعد انھوں نے اپنی بہن کو فون کیا اور کہا کہ 'مجھے ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرنا۔'
جب ہم بدھ کی سہ پہر سرینگر کے مہجور نگر میں دنمیت کور کے گھر پہنچے اور گیٹ کے اندر داخل ہوئے تو گھر میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گھر کے اندر ہماری ملاقات دنمیت کور کے چچا حکومت سنگھ سے ہوئی۔
دنمیت کے والدین اس وقت کشمیر میں موجود نہیں تھے اور نہ ہی ہم دنمیت کے بھائی سے مل سکے۔
حکومت سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: 'یہ گذشتہ چھ جون کی بات ہے۔ دنمیت شام کے وقت گھر سے باہر نکلی اور اپنی بہن کو فون کیا اور اسے روتے ہوئے کہا کہ مجھے اب ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرنا۔ لیکن ایک گھنٹہ میں ہی ہم نے دنمیٹ کو سری نگر کے علاقے بگات میں اس کے 'بوائے فرینڈ' مظفر شعبان کے گھر سے پولیس کی مدد سے برآمد کیا۔ پولیس لڑکی کو سری نگر کے صدر پولیس اسٹیشن لے گئی، اس وقت لڑکی نے کہا تھا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہی رہے گی۔'
پولیس پر الزام لگاتے ہوئے حکومت سنگھ نے کہا کہ ایس ایچ او دنمیت کو اپنے ساتھ دفتر لے گئے اور اس کا 'برین واش' کیا۔
حکومت سنگھ کے مطابق: 'دو گھنٹے کے بعد لڑکی کا رویہ بدل گیا اور اس نے کہا کہ وہ اپنے والدین کے گھر میں غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔'
پولیس اس بارے میں باضابطہ طور پر کچھ کہنے سے گریز کر رہی ہے لیکن ایک پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو لڑکی دوبارہ گھر سے کیوں بھاگتی۔
پولیس نے بتایا کہ میڈیکو-لیگل کارروائیوں میں تو کچھ وقت لگتا ہی ہے۔
حکومت سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس نے لڑکی کو رات بھر وومن پولیس اسٹیشن میں رکھا اور اگلے ہی دن لڑکی کو رہا کرکے گھر والوں کے حوالے کردیا۔
حکومت سنگھ کے مطابق دنمیت کے گھر والے اسے تقریبًا چار دن کے بعد جموں لے گئے اور کچھ دنوں بعد پھر سری نگر واپس لے آئے۔
حکومت سنگھ کا کہنا ہے کہ کچھ دن بعد دنمیت نے پھر کہا کہ وہ پنجاب کے گولڈن ٹمپل (سورن مندر) جانا چاہتی ہے۔
حکومت سنگھ کے مطابق: 'دنمیت کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے اس کے والدین اسے پنجاب کے گولڈن ٹیمپل (ہرمندر صاحب، امرتسر) لے گئے اور کچھ دنوں بعد اسے واپس جموں لے آئے۔'
حکومت سنگھ نے کہا کہ جموں واپس آنے کے بعد پولیس کی ٹیم رات کے دو بجے جموں کے جانی پورہ علاقے میں اس کے بھائی (دنمیت کے والد) کے گھر پہنچی اور صبح پو پھٹتے ہی کم از کم 20 پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے اور زبردستی لڑکی کو گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ اور اس کے بعد اسے سرینگر کی ایک ذیلی عدالت میں پیش کیا۔
دنمیت کے بڑے چچا ہربھجن سنگھ نے بتایا کہ اس دوران لڑکے (مظفر شعبان جس کے ساتھ دنمیت نے شادی کا دعویٰ کیا ہے) کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کے کنبہ کے بہت سے افراد بھی موجود تھے، جبکہ لڑکی کے اہل خانہ کو عدالت کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ہربھجن نے مزید کہا: 'ہمیں نہیں معلوم کہ جج نے عدالت کے اندر کیا فیصلہ کیا۔ عدالت کے اندر ہی لڑکی کو لڑکے کے حوالے کردیا گیا اور ہمیں یہ تک نہیں معلوم ہو سکا کہ لڑکی اور لڑکے کو کس دروازے سے باہر بھیجا گیا۔'
لیکن دنمیت خود جو کہانی بتاتی ہیں وہ اس سے یکسر مختلف ہے۔
کچھ دن پہلے دنمیت کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ دنمیت کے چچا حکومت سنگھ اور سکھ تنظیم کے جگموہن سنگھ رائنا نے تصدیق کی ہے کہ ویڈیو انھی کی ہے۔
ویڈیو میں دنمیت کا دعویٰ
دنمیت کور نے ویڈیو کی ابتدا یہ کہتے ہوئے کی ہے کہ آجکل جن دو سکھ لڑکیوں کی مبینہ طور پر زبردستی تبدیلی مذہب اور جبری شادیوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر بات کی جارہی ہے ان میں سے ایک وہ خود ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جبری شادی اور اسلام قبول کرنے کی بات سراسر جھوٹ ہے۔
ان کا دعوی ہے کہ انھوں نے سنہ 2012 میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا اور سنہ 2014 میں اپنے ہم جماعت مظفر سے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور ان کے مطابق ان تمام دعوؤں کے دستاویزی شواہد ان کے پاس موجود ہیں۔
اس ویڈیو میں دنمیت کور کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ وہ رواں سال چھ جون کو اپنا گھر چھوڑا اور گھر والوں کو فون کرکے بتا دیا کہ انھیں تلاش نہ کریں کیونکہ وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر نکلی ہیں۔
دنمیت کور نے ویڈیو میں دعوی کیا ہے کہ ان کے فون کال کے دو گھنٹے کے اندر ہی پولیس نے انھیں پکڑ لیا اور ان کے والدین کے حوالے کردیا۔
انھوں نے ویڈیو میں الزام لگایا ہے کہ ان کے اہل خانہ انھیں پہلے جموں لے گئے اور پھر وہاں سے پنجاب لے گئے جہاں انھیں کئی سکھ تنظیموں سے متعارف کرایا گیا اور ان کا 'برین واش' کرنے کی کوشش کی گئی۔
دنمیت نے ویڈیو میں یہ بھی کہا ہے کہ انھیں اپنے قانونی شوہر کے خلاف ویڈیو بیان جاری کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔
وہ ویڈیو میں لوگوں سے اپیل کرتی ہیں کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے کیونکہ وہ ایک 29 سالہ تعلیم یافتہ لڑکی ہیں اور وہ صحیح اور غلط کو سمجھتی ہیں۔
دنمیت نے یہ ویڈیو 28 جون 2021 کو بنائی۔ دنمیت کے چچا حکومت سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو دنمیت نے عدالت جانے کے دو دن بعد بنائی ہے۔
دنمیت کے چھوٹے بھائی 20 سالہ کشن سنگھ نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ان کی بہن کے معاملے نے انھیں برادری میں 'سماجی کلنک' کا سامنا کرنے کی راہ پر لا کھڑا کیا ہے۔
کشن پوچھتے ہیں کہ ان کی بہن نے ویڈیو میں دعوی کیا ہے کہ انھوں نے 2012 میں اسلام قبول کیا تھا اور 2014 میں ایک مسلمان لڑکے سے شادی کی تھی تو پھر وہ 2021 تک ایک سکھ کے گھر میں کیوں مقیم تھیں؟ کشن کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں کہی گئی ساری باتیں جھوٹی ہیں۔
جمعرات کے روز جب ہم دنمیت کے مطابق ان کے شوہر مظفر شعبان کے گھر سری نگر کے علاقے باغات میں پہنچے تو ان کے گھر کے مرکزی دروازے پر تالا لگا پایا۔
ان کے ایک پڑوسی نے ہمیں بتایا کہ مظفر کا کنبہ گذشتہ ایک ہفتہ سے گھر چھوڑ کر کہیں چلا گیا ہے۔ کئی کوششوں کے بعد بھی مظفر سے رابطہ نہیں ہوسکا۔
منمیت کور کا معاملہ
اسی طرح کا معاملہ 19 سالہ سکھ لڑکی منمیت کور کا بھی ہے جو مہجور نگر میں دنمیت کور کے گھر سے سات کلومیٹر دور ریناواڑی کے علاقے میں رہتی ہیں۔ ان کا معاملہ اتوار کے روز 27 جون کو منظر عام پر آیا۔
دنمیت اپنی ویڈیو میں جس دوسری لڑکی کا ذکر کررہی ہیں وہ منمیت ہی ہیں۔
منمیت کور کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اپنی مرضی سے شاہد نذیر نامی ایک 28 سالہ شخص سے شادی کی ہے۔ لیکن منمیت کے اہل خانہ نے اس رشتے کو منظور نہیں کیا اور انھوں نے پولیس تھانے میں اپنی بیٹی کے اغوا، زبردستی تبدیلی مذہب اور زبردستی شادی کا مقدمہ درج کرایا ہے۔
شاہد نذیر اور منمیت کور دونوں ریناواڑی علاقے میں رہتے ہیں۔ شاہد ٹریول ایجنسی میں بطور ڈرائیور کام کرتے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ منمیت کے والد نے شاہد نذیر کے خلاف تحریری شکایت درج کروائی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ شاہد نذیر نے ان کی بیٹی کو اغوا کیا ہے۔
تحقیقات میں شامل ایک سینیئر پولیس آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ منمیت کور اور شاہد نذیر نے 23 جون سنہ 2021 کو پولیس کے سامنے خود کو پیش کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
تاہم پولیس نے ان دونوں کو سنیچر کے روز (26 جون) کو سری نگر کی ایک عدالت میں پیش کیا۔
سری نگر کی ایک نچلی عدالت میں منمیت کے کیس کی سماعت سنیچر کی رات دیر تک جاری رہی۔
اس دوران درجنوں سکھوں نے عدالت کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی لڑکیوں کو ان کے والدین کے پاس واپس بھیجا جائے۔
گرودوارہ پربندھک (انتظامیہ) کمیٹی بڈگام کے صدر سنتپال سنگھ نے اس بارے میں ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ جب لڑکی کو عدالت لایا گیا اور اس کا بیان ریکارڈ کرایا گیا تو اس وقت اس کے اہل خانہ کو عدالت کے اندر کیوں جانے کی اجازت نہیں دی گئی؟
انھوں نے کہا: 'یہ کیسا انصاف ہے؟ کیا ہم ایسی عدالت سے انصاف کی توقع کرسکتے ہیں؟'
تاہم کشمیر کے سینیئر وکیل ریاض خاور نے بتایا کہ جب عدالت کسی کا بیان ریکارڈ کرتی ہے تو کسی کو بھی ریکارڈنگ روم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔
منمیت نے عدالت میں جو کچھ بیان دیا اس کے بارے میں ابھی تک مکمل معلومات سامنے نہیں آئی ہے۔
تاہم پولیس ذرائع نے بتایا کہ جج نے منمیت کور کو عدالت میں کہا تھا کہ وہ جہاں چاہتی ہیں وہاں جانے کے لیے آزاد ہیں۔
منمیت کور کو سنیچر کو رات گئے ان کے والدین کے حوالے کردیا گیا۔
ادھر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جارہی ہے جس کے بارے میں دعوی کیا جارہا ہے کہ یہ ویڈیو منمیت کور کی ہے۔
بی بی سی اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کرسکی ہے لیکن ابھی تک منمیت کے والدین یا کسی سکھ تنظیم کی طرف سے اس ویڈیو کی تردید نہیں کی گئی ہے۔
ویڈیو میں منمیت نے کہا ہے: 'میں نے ایک سال پہلے ہی اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا۔ شاہد نذیر بھٹ کے ساتھ میرا نکاح ہوا ہے۔ اب میرے کنبے کے افراد مجھ پر تشدد کر رہے ہیں اور ریناواڑی کا ایس ایچ او مجھے ہراساں کررہا ہے۔ اگر مجھے کچھ ہوا یا میرے شوہر کو ہاتھ لگایا گیا تو میں اپنی جان دے دوں گی۔ اور اس کے ذمہ دار میرے گھر والے اور ریناواڑی کے ایس ایچ او ہوں گے۔'
منگل کے روز منمیت کے اہل خانہ نے سکھ مذہب سے آنے والے ایک فرد سکھپریت سنگھ سے اس کی شادی کرا دی۔ شادی کے بعد انھیں دہلی لے جایا گیا ہے۔ سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں اکالی دل کے رہنماؤں نے اس شادی کی تصدیق کردی۔
بی بی سی نے منمیت کور کے والد راجیندر سنگھ بللی سے بات کرنے کی متعدد بار کوشش کی لیکن ان کا فون بند ہی رہا۔ پتا چلا کہ راجیندر سنگھ ابھی کشمیر میں موجود نہیں ہیں۔
منمیت کے گھر والوں نے شادی کرا دی اور منمیت کو دہلی بھیج دیا لیکن شاہد تاحال پولیس کی تحویل میں ہیں۔
شاہد کے وکیل جمشید گلزار نے بتایا کہ ان کا کردار صرف شاہد کی ضمانت تک ہی محدود ہے۔
شاہد کے وکیل نے اس معاملے میں مزید بات کرنے سے انکار کردیا۔
انھوں نے کہا کہ شاہد کی ضمانت کی سماعت آنے والی پانچ تاریخ کو ہوگی۔
نکاح کے کاغذات
منمیت کور کی شادی کی مخالفت کرنے والی سکھ تنظیم کے لوگوں نے کہا تھا کہ شاہد کی عمر پچاس سال سے اوپر ہے اور لڑکی کی عمر صرف 17-18 سال ہے۔ لیکن شاہد کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ شاہد 1991 میں پیدا ہوا تھا۔
ایک سینیئر پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر کہا کہ منمیت کے بارے میں 'جبری تبدیلی مذہب اور جبری شادی' کی بات کہی جا رہی ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
شاہد نذیر کے لواحقین نے منمیت کور اور شاہد نذیر کی شادی کی دستاویزات دکھائے جن کی کاپی بی بی سی کے پاس موجود ہے۔
لیکن شاہد کے اہل خانہ نے ریکارڈ پر کچھ کہنے سے انکار کردیا۔
انھوں نے کہا کہ ان کا بیٹا ابھی بھی زیر حراست ہے، ان کی جان کو خطرہ ہے لہذا وہ اس معاملے پر بات نہیں کرسکتے ہیں۔
بی بی سی کے پاس دستیاب شادی کی دستاویزات میں نکاح نامہ اور شادی کے معاہدے شامل ہیں۔
نکاح نامہ کے مطابق منمیت اور شاہد نے پانچ جون کو شادی کی۔ شادی کے بعد ان دونوں نے 22 جون 2021 کو بارہمولہ کی ضلعی عدالت میں ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے۔ اس معاہدے میں منمیت نے بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور شاہد نذیر سے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔
ویرہ پال کور کی کہانی
جہاں منمیت اور دنمیت کی کہانیاں سرخیاں بن رہی ہیں وہیں ویرہ پال کور نامی ایک اور سکھ لڑکی کا معاملہ کچھ دن پہلے سامنے آیا تھا۔
ویرہ پال کور نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے اپنی شادی کا ذکر کیا تھا اور سکھ لڑکیوں کی جبری تبدیلی مذہب اور شادی کے الزامات کی تردید بھی کی تھی۔
28 سالہ ویرہ کور نے بتایا کہ انھوں نے بھی سنہ 2021 میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کرلیا اور اسی سال شادی بھی کرلی۔
ویرہ پال کور نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام خدیجہ رکھا ہے۔
ان کی شادی 32 سالہ منظور احمد سے ہوئی ہے جو ضلع بڈگام کے پنجن گاؤں کے رہائشی ہیں۔
منظور احمد نے بتایا کہ دونوں کی محبت کا آغاز سنہ 2012 میں ہوا تھا۔ خدیجہ فی الحال ان کے گھر اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہیں۔
بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں خدیجہ نے کہا: 'میں سنہ 2014 سے مذہب اسلام کی پیروی کر رہی ہوں۔ میں اپنے گھر میں پنج وقتہ نماز پڑھتی تھی اور روزے بھی رکھتی تھی۔ میرے گھر میں میری بہن اور آنٹی پہلے سے ہی میرے افیئر کو جانتی ہیں۔ اور اس معاملے جو 'لو جہاد' کی باتیں ہو رہی ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ میں نے بندوق کی نوک پر نہ تو اسلام قبول کیا اور نہ ہی شادی کی۔'
ویرہ (خدیجہ) کے شوہر منظور نے ہمیں بتایا کہ ان کی شادی رواں سال جنوری کے مہینے میں ہوئی۔
منظور کہتے ہیں کہ اگر ویرہ نے سکھ مذہب چھوڑ کر اسلام قبول نہیں کیا ہوتا تو بھی وہ انھیں قبول تھیں اور شادی کرنے میں کوئی پریشانی نہیں تھی۔
منظور نے ایم ایس سی تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ خدیجہ نے پولی ٹیکنک میں ڈپلومہ حاصل کیا ہے۔
سکھ تنظیموں کے الزامات
گذشتہ سنیچر کے روز سرینگر عدالت کے باہر سکھوں کی ہنگامہ آرائی اور مظاہرے کے بعد اگلے دن یعنی اتوار کو دہلی اکالی دل کے ترجمان اور دہلی سکھ گوردوارہ انتظامیہ کمیٹی کے صدر منجندر سنگھ سرسا سرینگر پہنچے اور انھوں نے مقامی سکھ رہنماؤں کے ساتھ مظاہرہ کیا جس میں یہ الزام لگایا کہ کشمیر میں سکھ لڑکیوں کو بندوق کے زور پر اغوا کیا جارہا ہے۔ مذہب تبدیل کرایا جا رہا اور پھر زبردستی مسلمان لڑکوں کے ساتھ شادی کرائی جا رہی ہے۔
سرینگر میں مظاہرے کے دوران سرسا نے مطالبہ کیا کہ انڈیا کی کچھ دوسری ریاستوں میں موجود سخت قانون کی طرز پر جموں و کشمیر میں سخت قانون نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ 'جبری تبدیلی مذہب' کے عمل کو روکا جاسکے۔
منمیت کور کو سنیچر کی رات ہی ان کے والدین کے حوالے کردیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود سرسا کا اس بارے میں بیان اتوار اور پیر کو آتا رہا۔
سرسا نے 26 جون کو پہلا ٹویٹ کیا تھا کہ جس سکھ لڑکی کے بارے میں بات کی جارہی ہے وہ محبت کا معاملہ نہیں بلکہ جبری شادی کا معاملہ ہے اور لڑکے کی عمر 60 سال ہے۔
انھوں نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ عدالت نے غلط طریقے سے لڑکی کو ایک مسلمان شخص کی تحویل میں دے دیا ہے۔ انھوں نے لڑکی کو ذہنی طور پر بیمار بھی قرار دیا۔
انھوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی۔
سرسا کے بعد، اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل نے بھی ٹویٹ کیا کہ وہ ایک سکھ لڑکی کے اغوا اور جبری شادی پر سخت رنجیدہ ہیں اور انھوں نے سرسا کو فوری طور پر سری نگر جانے کا حکم دیا ہے۔
اتوار 27 جون کو سرسا سرینگر پہنچے اور مقامی سکھوں کے ساتھ مظاہرہ کیا اور حکومت ہند سے ایسے معاملات کو سختی سے نمٹنے کی اپیل کی۔
انھوں نے کہا کہ سی اے اے کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران سکھوں نے مسلم لڑکیوں کو ان کے گھروں تک بحفاظت پہنچنے میں کتنی مدد کی تھی لیکن سرینگر میں ایک بھی مسلم لیڈر اس معاملے میں سکھوں کی حمایت میں آگے نہیں آیا۔
انھوں نے دعوی کیا کہ انھوں نے اس معاملے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی بات کی ہے اور اپیل کی ہے کہ وہاں بھی مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کی طرح ایسا قانون بنانا چاہیے کہ لڑکیوں کو بین المذاہب شادیوں کی صورت میں اپنے والدین کی اجازت لینا لازمی قرار دی جائے۔
سرسا کے مطابق امت شاہ نے انھیں یقین دلایا کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
سرسا نے جموں وکشمیر پولیس چیف دلباغ سنگھ سے بھی ملاقات کا دعوی کیا اور ٹویٹ کے ذریعے اس حوالے سے معلومات فراہم کیں۔
سرسا اور عمر عبداللہ کے درمیان ٹوئٹر پر مباحثہ
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ سکھوں اور مسلمانوں کے مابین دیوار کھڑی کرنے کی کوشش سے ریاست کو بہت نقصان ہوگا۔
انھوں نے ٹویٹ کیا: 'کشمیر میں سکھوں اور مسلمانوں کے مابین اختلافات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے ریاست جموں وکشمیر کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ دونوں برادریوں نے اچھے وقت اور برے وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور زمانے سے جاری باہمی تعلقات کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا مقابلہ کیا ہے۔'
انھوں نے کہا کہ اگر کسی نے قانون شکنی کی ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
عمر عبداللہ کو جواب دیتے ہوئے سرسا نے لکھا: 'کوئی بھی اختلافات پیدا نہیں کررہا ہے، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ آپ کی برادری کے ایسے لوگوں کا بائیکاٹ کیا جائے اور وادی میں ہونے والی 'جبری تبدیلی مذہب' کو روکیں۔'
کشمیر کی مقامی سکھ تنظیمون کا موقف
سرسا کے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے آل پارٹی سکھ رابطہ کمیٹی کے چیئرمین جگ موہن سنگھ رائنا کا کہنا ہے 'گن پوائنٹ کی بات ہی نہیں ہے، یہ جھوٹی بیان بازی ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ بیان کہاں سے آیا؟ ہم چاہتے ہیں کہ اس بیان کی تحقیقات ہو۔ باہر سے کچھ سکھ رہنما کشمیر آ کر سکھوں اور مسلمانوں کے بھائی چارے کو خراب کرنا چاہتے ہیں جس کی ہم اجازت نہیں دیں گے۔'
منگل کو سرینگر میں سرینگر اکالی دل کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر دہلی سے آنے والے کسی سکھ نے ایسا بیان دیا ہے جس سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچی ہے تو وہ اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔
بہت سارے سوالوں کے جواب نہیں ہیں
سرسا اور کچھ دوسرے سکھ رہنماؤں نے عدالت کے فیصلے پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے 'منمیت کی تحویل کسی مسلمان شخص کو دینا درست نہیں ہے۔' پھر انھوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سرسا نے ٹویٹ کیا: 'میں سرینگر میں سکھ لڑکیوں کی جبری شادی کے معاملے میں فوری طور پر ہدایات جاری کرنے پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا جی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ زبردستی تبدیلی مذہب کا شکار سکھ لڑکی کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کردیا جائے گا۔'
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عدالت نے پہلے لڑکی کی تحویل مسلمان شخص (جس سے لڑکی شادی کا دعویٰ کرتی ہے) کو دے دی پھر عدالت نے کن حالات میں اپنے فیصلے کو الٹ کر لڑکی کو اس کے والدین کو تحویل میں دے دیا؟ کیا اس سلسلے میں لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر سے کچھ ہدایات دی گئیں ہیں کیوں کہ خود سرسا یہ دعویٰ کررہے ہیں۔
سنیچر کے بعد سے منمیت کی کسی بھی میڈیا سے بات نہیں ہوئی ہے۔
جس مسلمان شخص شاہد نذیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ منیمت سے ان کی شادی ہوئی ہے وہ اس وقت پولیس تحویل میں ہیں۔ شاہد کا کنبہ اتنا خوفزدہ ہے کہ وہ کچھ نہیں کہہ رہے ہیں۔
یہ سب ہونے کے بعد بھی کوئی پولیس افسر میڈیا کے سامنے کچھ بھی بولنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پولیس افسران یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ زبردستی تبدیلی مذہب یا جبری شادی کا معاملہ نہیں ہے، لیکن وہ کیمرے کے سامنے وہی بات نہیں کہہ رہے ہیں۔
احتجاج کی آوازیں
اگرچہ پولیس اس معاملے میں خاموش ہے لیکن خود سکھ برادری کی بہت سی خواتین اس معاملے پر اپنا موقف سامنے رکھ رہی ہیں۔
سرینگر کے ایک کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر گرمیت کور نے بی بی سی کو بتایا: 'ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ابھی سوچ اتنی بلند نہیں ہوئی کہ ہم یہ فیصلے لے سکیں۔ ایک وقت ہم ایک ہی خاندان میں رہتے ہیں، لیکن جب بھائی کی شادی ہوجاتی ہے اور ایک نئی بہو یا بھابی گھر آتی ہے بتو ان کی بھی سوچ ایک جیسی نہیں رہتی ہے۔ یہاں تو علیحدہ مذہب ہے، برادریاں ہیں اور ہماری سوچ مختلف ہے۔ خیالات میں اختلاف ہونا میری رائے میں ایک معمول کی بات ہے۔ مجھے اس میں کوئی پریشانی نظر نہیں آتی ہے، لیکن اقلیتوں میں اپنا عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ اپنی مرضی کی بات وہاں ہوتی ہے جہاں سوچ بلند ہوتی ہے۔'
پیشہ سے وکیل اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن گونیت کور اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے لکھتی ہیں: 'میں نہیں جانتی تھی کہ ڈی جی ایم سی (دہلی گرودوارہ پربندھک کمیٹی) کے انتخابی ایجنڈے میں خواتین کو قابو میں رکھنا بھی شامل ہے۔ ہم لوگ ایک خطرناک راستے پر گامزن ہیں۔ ایک سکھ عورت کی حیثیت سے یہ میرے لیے بہت خوفناک ہے۔'
خوشی کور لکھتی ہیں: 'اب میں خاموش نہیں رہ سکتی۔ کیا ہمیں ان سب سکھ خواتین کو واپس لانا چاہیے جنھوں نے ہندوؤں سے شادی کی ہے۔ ان سکھ مردوں کا کیا ہوگا جنھوں نے قوم (سکھ برادری) کے باہر شادی کی ہے اور بیرون ملک مقیم سکھوں کا کیا ہوگا جنھیں نے غیر انڈینو سے شادی کی ہے۔'
دہلی کی معروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والی اور کشمیر کی رہائشی کومل جے بی سنگھ کا کہنا ہے 'عزت اور شرم کی ساری ذمہ داری کسی بھی مذہب میں عورت کے جسم پر عائد ہوتی ہے۔ دونوں اطراف کے لوگ اسے فتح اور شکست کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کاش وہ اس بات کو سمجھتے، ان کی تھوڑی سے کونسلنگ کی جاتی اور وہ سب کچھ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے۔'