آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آسیہ اندرابی: پاکستانی پرچم لہرانے والی ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ کو سنگین الزامات کا سامنا کیوں ہے؟
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس سرینگر
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ چار دہائیوں سے سخت گیر مذہبی اصلاح، انڈیا مخالف مسلح مزاحمت کی مبینہ حمایت اور خواتین کی ’اخلاقی تربیت‘ کے لیے سرگرم خواتین کی تنظیم ’دُخترانِ مِلت‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی کی بُرقعہ پہنے تصاویر جنوب ایشیائی میڈیا کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوتی رہی ہیں۔
چند سال قبل انڈین حکومت نے ’تخریب کاری‘ اور ’ملک دُشمنی کی حمایت‘ کی پاداش میں اُن کی تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کو کالعدم قرار دے کر تنظیم کی سربراہ آسیہ اندرابی کو اُن کی دو ساتھیوں، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین، سمیت گرفتار کر کے نئی دلی کی تہاڑ جیل میں قید کر لیا تھا۔
انڈیا میں حال ہی میں نافذ ہونے والے ’ان لا فُل ایکٹِوِٹیز پریوینشن ایکٹ‘ کی مختلف شِقوں کے تحت ان پر اور اس کی ساتھیوں پر مقدمے درج کیے گئے ہیں۔ اس نئے قانون کا مقصد ملک میں غیرقانونی سرگرمیوں کا انسداد ہے۔
آسیہ اور ان کی ساتھیوں پر یہ مقدمات انڈیا کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ’نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی‘ یا این اے آئی نے درج کیے ہیں اور حال ہی میں انڈین سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ فی الفور آسیہ اور اُن کی ساتھیوں کے خلاف فرد جُرم دائر کرے۔
انڈین سپریم کورٹ میں اب اس مقدمے کی سماعت 18 جنوری (یعنی آج بروز پیر) کو ہو رہی ہے اور اگر آسیہ کو انڈین عدالت عُظمیٰ نے قصوروار قرار دیا تو اُنھیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
واضح رہے انڈیا میں نئے قانون کے مطابق عمرقید کا مطلب تاحیات قید ہے۔ سنہ 2012 میں انڈین سپریم کورٹ نے وضاحت کی تھی کہ عمر قید کا مطلب تاحیات قید ہے تاوقتیکہ حکومت اس میں رعایت نہ برتے۔
یاد رہے کہ آسیہ اندرابی کے شوہر اور سابق عسکریت پسند عاشق حسین فکتو عرف قاسم گذشتہ 27 سال سے جیل میں قید ہیں۔ عاشق حسین کے حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں سب سے طویل مدت قید میں رہنے والے شخص ہیں۔
آسیہ اندرابی کون ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
60 سالہ سیّدہ آسیہ اندرابی سرینگر کے اندرابی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ سرینگر اور کشمیر کے دیگر کئی اضلاع میں آباد اندرابی خاندان کا دعویٰ ہے کہ اُن کے اجداد، سیّد احمد اندرابی اور سیّد محمد اندرابی، حِجاز (موجودہ سعودی عرب) سے افغانستان کے علاقے ’اندراب‘ اور پھر چودہویں صدی عیسوی کے آخری عشرے میں کشمیر آئے۔
یہ خاندان یہاں پہلے سے مقیم مشرق وسطیٰ کے اسلامی مبلغین، خاص طور سے سید علی ہمدانی، کے تبلیغی مشن کے ساتھ وابستہ ہو گیا۔
کشمیر کے اندرابیوں کا دعویٰ ہے کہ اُن کا شجرہٴ نسب پیغمبر اسلام سے جا ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
آسیہ اندرابی کے خاندان میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے کبھی کوئی تحفظات نہیں پائے گئے۔ اُن کی اپنی خالائیں اور پھوپھیاں سبھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ خُود آسیہ نے بھی بائیو کیمسٹری میں گریجویشن کی ڈگری لی اور اُن دنوں انڈین ریاست اُترپردیش کے بلند شہر سے تعلق رکھنے والے سخت گیر اسلامی نظریات کے حامل شاعر اور مصنف ماہر القادری کی ترتیب کردہ کتاب ’خواتین کے دِلوں کی باتیں‘ منظرعام پر تھی۔
دس سال قبل آسیہ نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’اِس کتاب نے میری زندگی بدل دی اور میں نے خود کو اسلام کے لیے وقف کر دیا۔‘ اس کتاب میں امریکی یہودی خاتون مارگریٹ مارکوس کی وہ کہانی بھی تھی جس میں انھوں نے قبولِ اسلام کے بعد مریم جمیلہ کے طور پر نیویارک سے پاکستان تک کا اپنا نظریاتی سفر بیان کیا ہے۔
آسیہ کے مطابق اسی کتاب کو پڑھنے کے بعد انھوں نے طے کر لیا کہ بائیوکمیسٹری میں مزید تعلیم کی بجائے وہ اسلامیات کو اپنا تعلیمی مستقبل بنائیں گی اور پھر انھوں نے کشمیر یونیورسٹی سے عربی میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کر لی۔
مدرسہ تعلیم القرآن سے دخترانِ ملّت تک
آسیہ نے جس گھرانے میں پرورش پائی وہاں کی خواتین پہلے ہی اسلامی ایکٹِوازم میں پیش پیش تھیں۔ اُن کی ایک خالہ نے 1960 کی دہائی میں جہیز کے خلاف بیداری مہم چلائی تھی اور خواتین پر ہی مشتمل ایک میریج کمیٹی قائم کی تھی۔
اپنے خاندانی ماحول اور مطالعہ سے متاثر ہو کر 1980 کے اوائل میں ہی آسیہ نے پرانے سرینگر کے وسط میں ’مدرسہ تعلیم القرآن‘ قائم کر لیا جہاں لڑکیوں کو قران، حدیث، عربی زبان اور تجوید کی تعلیم دی جاتی تھی۔ عالمی سطح پر اسلام کی اصلاحی تحریکوں سے متاثر متعدد لڑکیاں اُن کے حلقہٴ اثر میں جمع ہو گئیں اور بعد میں اسی مدرسے نے خواتین کی مذہبی اصلاحی تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کی شکل اختیار کر لی۔
اصلاحی مُہم کاآغاز
نو مسلم مریم جمیلہ کے افکار کو پڑھنے کے بعد آسیہ جماعت اسلامی کی طرف پہلے ہی راغب ہو چکی تھیں اور بعد میں اسلامی خلافت، خواتین کے لیے پردہ اور نفاذِ شریعت کی قائل ہو گئیں۔ تاہم اُن کے بھائی سیّد عنایت اللہ اندرابی 1979 میں انقلابِ ایران کے بعد امام خمینی کے خیالات سے بے حد متاثر تھے اور انھوں نے بھی نوجوانوں میں سخت گیر نظریات کی ترویج و اشاعت کی۔
چند سال بعد ہی دخترانِ ملّت نے سرینگر کے سینما گھروں میں ہالی وُوڈ فلموں کی نمائش کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کر دی۔
سنہ 1987 میں آسیہ کی قیادت میں درجنوں برقعہ پوش لڑکیاں ہاتھوں میں برش اور سیاہی کے بالٹیاں لیے بازاروں میں ہالی وُوڈ فلموں کے پوسٹروں کو سیاہ کرتی نظر آئیں۔ وہ حجاموں کی دکانوں اور چائے خانوں میں لگے انڈین اور ہالی وُوڈ فلموں کے پوسٹرز بھی پھاڑ دیتی تھیں۔ اُن کے مطابق اس مہم کا مقصد ’فحاشی کو روکنا‘ تھا۔
اس مُہم کے بعد بڑی تعداد میں کالج اور یونیورسٹی میں زیرتعلیم لڑکیاں آسیہ اندرابی کے نظریات سے متاثر ہو کر دخترانِ ملت کے ساتھ وابستہ ہوگئیں اور تنظیم نے سرینگر کے کئی علاقوں میں اپنی درسگاہیں قائم کر لیں۔
مسلح شورش کے بعد کیا ہوا؟
31 اگست 1989 کو سرینگر میں انڈیا کے وفاقی ٹیلی گراف دفتر (تارگھر) میں بم دھماکہ ہوا۔ یہ گویا وادی میں کشمیر پر انڈیا کے فوجی و انتظامی کنٹرول کے خلاف مسلح شورش کی شروعات کا اعلان تھا۔
دختران ملت نے مسلح شورش شروع ہوتے ہی اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا۔ اس تنظیم نے شراب نوشی اور قماربازی کے خلاف بھی مہم چلائی اور اس کے ساتھ وابستہ برقعہ پوش خواتین اکثر اوقات وادی میں مبینہ فوجی زیادتیوں کے خلاف احتجاج بھی کرتی تھیں۔
یوں تو دختران کی سربراہ آسیہ اندرابی کشمیر میں نفاذِ شریعت اور خلافت کے قیام کی حامی تھیں، تاہم انھوں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیرکو ’پاکستان کا نیچرل حصہ‘ قرار دے کر کشمیری تحریکِ مزاحمت کے پاکستان نواز حلقے کی حمایت کی۔
وہ پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی پرچم لہراتی تھیں اور پاکستانی حکومت پر زور دیتی تھیں کہ وہ کشمیریوں کی تحریک کو بھرپور تعاون فراہم کرے۔
یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ اسی دوران گھر میں اُن کی شادی کی بات چھِڑی تو اُنھوں نے والدین سے کہا ’شادی کروں گی تو صرف مجاہد سے۔‘ چنانچہ اُن کی شادی پرانے سرینگر کے ذال ڈگر علاقے کے رہائشی عاشق حُسین فکتو سے کی گئی۔
فکتو اُن دنوں ایک مقامی مسلح تنظیم جمعیت المجاہدین کے ترجمان تھے اور قاسم کے نام سے معروف تھے۔ شادی کے دو سال بعد ہی فکتو اپنی اہلیہ آسیہ اندرابی اور چھ ماہ کے بیٹے محمد بن قاسم سمیت گرفتار ہوئے۔
تاہم فکتو کو ماتحت عدالتوں نے تمام الزامات سے بری کر دیا مگر چند ماہ بعد ہی انھیں مسلح تشدد اور شورش کے الزامات کے تحت دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں انڈین سپریم کورٹ نے انھیں سنہ 2003 میں عمرقید کی سزا سُنا دی۔
لگ بھگ گذشتہ 27 سال سے آسیہ کے خاوند قید میں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بعض حلقوں میں وہ ’نیلسن منڈیلا آف کشمیر‘ کے طور پر معروف ہیں۔ انھوں نے مدّتِ قید میں ہی اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور اسلام کے مختلف موضوعات پر 20 کتابیں تصنیف کیں ہیں، جن میں سے نصف درجن کتابیں انگریزی زبان میں ہیں۔
بُرقعہ مہم
سنہ 1992 میں آسیہ نے کشمیری خواتین سے اپیل کی کہ وہ گھر سے باہر برقعہ پہن کر نکلیں اور ایسا نہ کرنے والوں کے چہروں پر رنگ پھینکا جائے گا۔ چنانچہ اس اپیل پر بہت سی خواتین نے برقعہ پہنا تاہم جب اس مہم کا ہمہ گیر اثر نہ ہوا تو دختران ملت کی برقعہ پوش لڑکیاں مبینہ طور پر بغیر برقعہ کے لڑکیوں اور خواتین کے چہروں پر رنگ پھینکتی تھیں۔
دختران ملّت پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ خواتین کے چہروں پر تیزاب چِھڑک کر اُنھیں ہراساں کر رہی ہیں تاہم اِن کے چھوٹے بھائی طٰحیٰ اندرابی کہتے ہیں ’اُنھوں نے فقط رنگ کا استعمال کیا تھا، کبھی کسی پر تیزاب نہیں پھینکا۔‘
اس الزام کے حوالے سے پولیس ریکارڈ میں بھی کوئی باقاعدہ مقدمہ نہیں ہے۔
اُن کی ایک سابق ساتھی کا کہنا ہے ’آسیہ باجی کی مستقل مزاجی اور نظریاتی استقلال کا یہی ثبوت ہے کہ اتنی تشہیر کے باوجود چالیس سال سے کسی نے اُن کا چہرہ نہیں دیکھا۔‘
جنسی استحصال اور خُفیہ رومانس کے خلاف مہم
سنہ 2006 کے موسمِ بہار میں نیم فوجی اور پولیس افسروں کے ساتھ ساتھ ہندنواز سیاستدانوں اور افسرشاہی کے ذریعہ کم سن لڑکیوں کو نوکریوں کا جھانسا دے کر اُن کا مبینہ طور پر جنسی استحصال کرنے کا انکشاف ہوا تو دختران ملّت نے ہمہ گیر عوامی تحریک شروع کر دی۔
مبینہ جنسی استحصال کے اس سارے معاملے کے لیے پولیس نے صبینہ نامی ایک خاتون کو کلیدی ملزم قرار دیا۔ اس دوران آسیہ کی مہم اس قدر شدید ہو چکی تھی کہ سرینگر کے حبہ کدل علاقے میں واقع صبینہ کے گھر کی مشتعل ہجوم نے اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
صبینہ جیل سے رہائی کے بعد کینسر میں مبتلا ہوگئیں اور اپنے آخری انٹرویو میں انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’آسیہ اندرابی نے میری بہت کونسلنگ کی، میرے علاج میں میری مدد کی اور باعزّت زندگی گزارنے کی تلقین کی۔‘ بعدازاں صبینہ وفات پا گئیں تھیں۔
آسیہ نے جنسی استحصال کے لیے ’سماج میں گِرتے اخلاقی معیار‘ کو بنیادی وجہ قرار دیا اور سرینگر کے ریستورانوں اور باغ باغیچوں میں نوجوان جوڑوں کا تعاقب شروع ہوا۔ اُن دنوں سرینگر میں ایسے بیشتر ریستوران تھے جہاں بند کوُزے جوڑوں کے لیے مخصوص ہوتے تھے اور دختران ملّت کا دعویٰ تھا کہ ان ریستورانوں میں 'غلط کام' ہوتے ہیں اور لڑکیوں کا استحصال وہیں سے شروع ہوتا ہے۔
اس تحریک کے دوران آسیہ نے ہلالی خنجر ہاتھ میں اُٹھا کر سبھی لڑکیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے خنجر ساتھ رکھا کریں۔
غیرمسلح عوامی تحریک
سنہ 2008 میں وامِق فاروق اور طُفیل متو نامی کم سن طالب علموں کو نیم فوجی اہلکاروں نے سرینگر میں مبینہ طور پر گولی مار کر ہلاک کر دیا تو اس کے ردعمل میں شدید احتجاجی تحریک شروع ہوئی جو کئی ماہ تک جاری رہی۔ اس دوران مسلح عسکریت پسند حاشیہ پر رہے اور علیٰحدگی پسندوں کی کال پر لاکھوں لوگ روزانہ کشمیر کے طول و عرض میں احتجاجی مارچ کرتے تھے۔
ان مظاہروں میں دختران ملّت نے بھی حصہ لیا۔ یہاں تک کہ جب سنہ 2010 میں کپوارہ کے تین مزدوروں کا مبینہ فرضی جھڑپ میں فوج کے ہاتھوں ہلاکت ہوئی تو یہ تحریک شدید ترین ہوگئی۔ اس تحریک میں حریت کانفرنس کے نوجوان رہنما مسرت عالم بٹ پیش پیش تھے اور پولیس کا الزام ہے کہ اُن کی حمایت میں آسیہ اندرابی نے خواتین کو سرگرم کیا۔
آسیہ اور اُن کی ساتھیوں پر پولیس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں نے کئی دفعہ یہ الزام بھی عائد کیا کہ دخترانِ ملّت کی برقعہ پوش خواتین مسلح عسکریت پسندوں کے لیے اسلحہ کی نقل و حمل میں بھی ملوث ہیں۔
حالیہ گرفتاری
پانچ اگست 2019 کو انڈین حکومت نے کشمیر کی نیم خودمختاری کے خاتمے کا اعلان کر کے سارا کا سارا انتظامی کنٹرول براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ تاہم اس سے چند سال قبل ہی علیٰحدگی پسندوں اور ان کی تنظیموں کے خلاف ہمہ گیر کریک ڈاؤن شروع ہو چکا تھا۔
جماعت اسلامی، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور دختران ملّت کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اور این اے آئی نے درجنوں علیٰحدگی پسند رہنماؤں کو ’دہشت گردوں کی فنڈنگ‘ کے مبینہ معاملے میں گرفتار کر لیا تھا۔ اسی مہم کے دوران جولائی 2018 میں آسیہ اور ان کی دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو بھی تہاڑ جیل پہنچایا گیا۔
آسیہ کے ہم نشینوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چالیس سالہ عرصے میں وہ مجموعی طور پر کم و بیش 15 سال تک قید و بند میں رہی ہیں۔
ان پر نئے قانون ’یو اے پی اے‘ کے تحت سنگین الزامات لگائے گئے ہیں، جن میں ’انڈیا کی سالمیت، اقتدارِ اعلیٰ اور یکجہتی کو شدید طور پر غیرمستحکم کرنے‘ اور ’غیرملکی اداروں سے مسلح گروپوں کی اعانت کے لیے سرمایہ اکھٹا کرنے‘ جیسے الزامات سرفہرست ہیں۔
عدالت نے حکومت سے تینوں خواتین کے خلاف چارج شیٹ تیار کرنے کو کہا ہے اور اس معاملے کی 18 جنوری، یعنی آج، کو نئی دلیّ کی سپریم کورٹ میں سماعت طے ہے۔
آسیہ پر تنقید
آسیہ اندرابی کے اکثر رشتہ دار پاکستان، سعودی عرب، ملائیشیا اور انگلینڈ میں رہتے ہیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔ اُن کا بڑا بیٹا محمد بن قاسم ملائیشیا میں اپنی خالہ کے ساتھ رہتا ہے۔ 27 سالہ محمد ملائیشیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہیں پر ملازمت بھی کرتے ہیں۔
چھوٹے بیٹے احمد بن قاسم کی عمر 25 سال ہے اور وہ پاکستان میں مقیم آسیہ کی ایک اور بہن کے ساتھ رہتے ہیں، جہاں وہ سیاسیات اور علم الانسان کے شعبے میں زیرتعلیم ہیں۔
پاکستان میں مقیم اُن کی بڑی بہن کا ایک بیٹا ذوالقرنین پاکستانی فوج میں کیپٹین تھے تاہم سرینگر میں مقیم آسیہ کے چھوٹے بھائی طحیٰ اندرابی کا کہنا ہے کہ ذوالقرنین نے کئی سال قبل فوج کی نوکری چھوڑ کر آسٹریلیا ہجرت کی جہاں اُنھوں نے برقیات اور برقی انجنئرنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
اُن کا ایک اور بھانجا اِرتِیاز پاکستان میں فضائی انجینئرنگ کے لیکچرار تھے، تاہم طٰحیٰ اندرابی کے مطابق ’وہ 2013 میں لاپتہ ہو گئے۔‘
انڈین میڈیا کی بعض خبروں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اُنھیں پاکستان میں پاکستان مخالف دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ آسیہ کے ایک بھائی عنایت اللہ اندرابی لندن میں مقیم ہیں۔
آسیہ کے حریف اور ان کے مخالفین اُن پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ مبینہ طور ہر کشمیری نوجوانوں کو جہاد کی ترغیب دیتی رہی ہیں مگر اپنے بھائیوں یا بیٹوں میں سے کسی کو ہتھیار اُٹھانے کے لیے نہیں کہا۔
چند سال قبل جب آسیہ کے بڑے بیٹے محمد کی ملائیشیا کے ساحلِ سمندر پر تفریح کرتے ہوئے ایک تصویر وائرل ہو گئی تو کشمیر میں بی جے پی کی مقامی خاتون رہنما درخشاں اندرابی کا کہنا تھا ’ہم خوش ہی ہوئے جب آسیہ نے اپنے بیٹوں کا مستقبل بندوق نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ وابستہ کر دیا، لیکن اُنھیں یہ کہنا چاہیے کہ جو وہ سوچ رہی تھیں وہ غلط تھا، اُس سے قوم کو نقصان اُٹھانا پڑا۔‘
اقوام متحدہ سے اپیل
پاکستان میں مقیم آسیہ کے چھوٹے بیٹے احمد بن قاسم نے پاکستانی حکومت کی وزیر برائے انسانی حقوق شیرین مزاری کے ہمراہ حالیہ دنوں ایک پریس کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ سے اپیل کی تھی کہ وہ انڈین حکومت پر اُن کی رہائی کے لیے دباوٴ ڈالیں۔
حکومت پاکستان کا دعویٰ ہے کہ انڈین حکومت نے آسیہ اندرابی کے ’عدالتی قتل‘ کی تیاری کر لی ہے۔ اس دوران آسیہ کے اقربا کا کہنا ہے کہ اُنھیں جیل میں بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ وہ کئی ماہ سے پھیپڑوں، ہڈیوں اور فشارِ خون جیسے مختلف عارضوں میں مبتلا ہیں۔
اُن کے چھوٹے بھائی طحیٰ اندرابی کا کہنا ہے ’ہزار میل کا سفر طے کرنے کے بعد تہاڑ جیل میں شیشے کی ساوٴنڈ پرُوف دیوار کی اوٹ سے چند منٹوں کے لیے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے، جو ہمارے لیے نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے۔‘