آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے کسی بھی آرمی چیف کا سعودی عرب اور یو اے ای کا پہلا دورہ اور پاکستان
انڈیا کی فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نراونے منگل کے روز سے ایک ہفتے کے لیے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ان دونوں ممالک کا کسی بھی انڈین آرمی چیف کا یہ پہلا دورہ ہے۔
سیاسی ماہرین کے خیال میں انڈیا کے آرمی چیف کے اس دورے سے انڈیا کے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔ جنرل نراونے کا یہ تیسرا غیر ملکی دورہ ہے۔ اکتوبر کے شروع میں وہ انڈیا کے سیکریٹری خارجہ ہرش شرنگلا کے ساتھ میانمار گئے تھے اور گذشتہ ماہ ہی نیپال کے دورے سے واپس آئے تھے۔
انڈین فوج نے اپنے بیان میں اس دورے کو ’تاریخی‘ قرار دیا ہے۔ جنرل نراونے دونوں ممالک کے آرمی چیف سمیت اعلیٰ فوجی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ ان کا یہ دورہ 14 دسمبر کو اختتام پذیر ہوگا۔
انڈین آرمی چیف 9 اور 10 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کے دورے کے بعد سعودی عرب جائیں گے۔ وہاں وہ رائل سعودی فورس کے صدر دفتر، جوائنٹ فورس کمانڈ ہیڈ کوارٹر اور کِنگ عبد العزیز وار کالج کا دورہ کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ سعودی قومی دفاعی یونیورسٹی میں طلبا اور اساتذہ سے خطاب بھی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے
اس سے قبل انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر 24 سے 26 نومبر کے دوران بحرین اور متحدہ عرب امارات کے دورے پر تھے۔ مودی حکومت نے مغربی ایشیا کو اپنی خارجہ پالیسی میں سب سے اہم مقام دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنرل نراونے کا دورہ
انڈیا کے آرمی چیف کے اس دورے کو خطے کے میڈیا نے بھی خبروں کی زینت بنایا ہے۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ’چین، امریکہ اور جاپان کے بعد سعودی عرب انڈیا کا چوتھا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا، سعودی عرب سے سب سے زیادہ تیل درآمد کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں نریندر مودی حکومت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے پر بھی توجہ دی ہے۔'
الجزیرہ پر جنرل نراونے کے سعودی اور متحدہ عرب امارات کے دورے کی اہمیت پر جے این یو میں انٹرنیشنل سٹڈیز کے پروفیسر ہیپیمون جیکب نے کہا کہ انڈیا ان دونوں ممالک کے ساتھ دفاعی پارٹنرشِپ بڑھانا چاہتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ آرمی چیف کو سی ڈی ایس جنرل راوت یا این ایس اے اجیت ڈوبھال کو نہ بھیج کر فوجی سربراہ کو بھیجنا ’کسی پہیلی سے کم نہیں لگتا‘۔
خلیجی ممالک میں انڈیا کے 85 لاکھ مزدور کام کرتے ہیں۔ صرف سعودی عرب میں ہی 27 لاکھ سے زیادہ انڈین کام کرتے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات کی 30 فیصد آبادی انڈین ہے۔
انڈیا کی فوج کے سربراہ کے دورے کی اہمیت
انڈین فوج کے سربراہ منوج نراونے کا خلیجی ریاستوں کے دورے کی اہمیت پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پاکستان کی فوج کے سابق لیفٹینٹ جنرل اور دفاعی تجزیہ کار امجد شعیب کا کہنا تھا کہ انڈیا کے ان ممالک سے تعلقات میں ماضی کی نسبت زیادہ قربت آئی ہے اور اس میں صرف انڈیا کا کمال نہیں ہے بلکہ یہ ان ممالک کی بھی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا اس کی متعدد وجوہات ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ انڈیا، امریکہ کا چین کے خلاف سٹریٹیجک پارٹنر ہے۔امریکہ انڈیا کو تمام بین الاقوامی فورمز پر آگے لانے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ ممالک جو امریکہ کے اتحادی یا قریب ہیں انڈیا کے تعلقات ان سے بہتر ہو رہے ہیں۔ انڈیا کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے بھی امریکہ کوشش کر رہا ہے۔
سابق لیفٹینٹ جنرل امجد شعیب کا کہنا تھا کہ دوسری وجہ ان مملک کے اپنے معاشی مقاصد ہیں، کورونا کے وبا کے بعد تیل کے کاروبار میں کمی کے باعث سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی معیشت بہت دباؤ میں ہے۔ سعودی عرب اپنا بجٹ پورا نہیں کر پا رہا لہذا وہ اپنی معیشت کے لیے نئی منڈیاں دیکھ رہیں ہیں۔ کیونکہ انڈیا ایک بڑی آبادی والا ملک ہے اور اس کی معیشت بھی بہتر جا رہی تھی لہذا سعودی عرب کو وہاں معاشی سرمایہ کاری کے فوائد نظر آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'تیسرا مسئلہ سیاسی ہے، خلیجی ریاستیں امریکہ سے اتنی خوفزدہ ہیں کہ اگر امریکہ یہ نعرہ لگا دے کہ ان ممالک میں جمہوریت ہونی چاہیے تو یہ حکومتیں دنوں میں گر جائیں گی۔ لہذا یہ امریکہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتے اس لیے اسرائیل اور انڈیا ان ممالک میں اپنے قدم جما رہے ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ اگر دفاعی اعتبار سے دیکھا جائے تو دونوں ممالک میں جہاں فوجی تعاون بڑھے گا ان میں سے ایک یہ ہے کہ سعودی فوجی افسران کی تربیت سازی کے لیے انڈیا بھیجا جائے اور وہاں سے کچھ انڈین فوجی سعودی عرب میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ٹریننگ کریں۔
ان کا کہنا تھا دوسرا فائدہ جو انڈیا کو ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں کسی وقت میں دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ خاصی بڑی پیشرفت ہوتی ہے اور دو ممالک کی افواج ایک دوسرے کو بہتر طور پر جان اور سمجھ سکتے ہیں۔
سعودی عرب، انڈیا تعلقات کا پاکستان پر کیا اثر ہوگا؟
حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب انڈیا کے قریب آئے ہیں۔ دونوں ممالک نے وزیر اعظم مودی کو اعلیٰ شہری اعزاز بھی دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب دونوں انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں 42 ارب ڈالر کا پیٹرو کیمیکل پلانٹ بنا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کا خیال ہے کہ انڈیا توانائی کا سب سے بڑا صارف ہے۔
متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر خاموش رہے تھے جبکہ پاکستان کی جانب سے پورا دباؤ تھا کہ دونوں ممالک کو کچھ کہنا چاہیے۔
گذشتہ ماہ متحدہ عرب امارات نے مجموعی طور پر 13 ممالک کے شہریوں کو کام کی غرض سے عرب امارات آنے کا ویزا دینا بند کر دیا تھا اور پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔
خبر رساں ادارے مِڈل ایسٹ آئی نے جنرل نراونے کے دورے کو خاصی اہمیت دی ہے۔ اس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے ’انڈیا کے آرمی چیف کا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان کے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات خراب دور سے گزر رہے ہیں۔‘
سعودی عرب اور انڈیا کے قریبی تعلقات کے پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے کے جواب میں سابق لیفٹینٹ جنرل امجد شیعب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کے تناظر میں اس دورے کو دیکھا جائے تو پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ بہت گہرے تعلقات رہے ہیں اور اب بھی بہت خصوصی تعلق ہے، آج بھی ہمارے فوجی وہاں ہیں، سعودی عرب کی انسداد دہشت گردی کی فورس جس کی سربراہی سابق پاکستانی جنرل راحیل کرتے ہیں وہاں بھی ہمارا اثر ہے کیونکہ وہاں بہت سے پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ان حالات میں پاکستانی فوجیوں کے بارے میں جو اعتماد کی فضا چلی آ رہی ہے بڑا مشکل ہے کہ انڈیا فوری طور پر اس کو ختم کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
اس سوال پر کہ اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم 'او آئی سی' کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کو تسلیم کرنے کا جشن کیا پھیکا پڑ جائے گا سابق لیفٹینٹ جنرل امجد شعیب کا کہنا تھا کہ بالکل یہ جشن پھیکا نہیں پڑے گا، کیونکہ پاکستان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت اسلامی ممالک سے صرف دو ہی چیزیں مانگتا ہے ایک کہ وہ پاکستانی شہری جو ان ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں انھیں وہاں کام کرنے دیا جائے اور دوسرا کشمیر کے مسئلے پر حمایت۔
ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تعلقات اور پالیسیوں کے حوالے سے آج دنیا آزاد ہے، عالمی سطح پر نئے اتحاد بن رہے ہیں، آج چین مغربی دنیا کے سامنے ایک چیلنج بن کر کھڑا ہے اور اس صف بندی میں ہر ملک اپنے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرے گا۔پاکستان کی چین اور ترکی سے بہت قربت ہے۔
ان کا کہنا تھا سعودی صحافی خاشقجی کے قتل کے معاملے پر ترکی نے جو کردار ادا کیا سعودی عرب اس سے بڑا خائف ہے اور پاکستان ان دونوں ممالک کے ساتھ اپنی آزادانہ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں، اسی طرح یمن اور ایران کے معاملے میں بھی سعودی عرب کے تحفظات ہیں لیکن پاکستان کی پالیسی آزاد ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کی تاریخ اتنی گہری ہے کہ وہ انڈین آرمی چیف کے ایک دورے سے ملیا میٹ نہیں ہو گی۔
پاکستان سعودی عرب کا روایتی حلیف رہا ہے۔ حال ہی میں انڈیا نے سعودی عرب کی قیادت والی تنظیم او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کشمیر کا ذکر کیے جانے پر تنقید کی تھی۔
واضح رہے کہ نائیجر کے دارالحکومت نیامی میں اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم 'او آئی سی' کے وزرا خارجہ کے 47ویں اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے تنازعے پر پاکستان کے موقف کو اپنایا گیا جس کے بعد یہ مسئلہ پھر سے سفارتی سطح پر عالم اسلام کا ایک مسئلہ سمجھا جا سکے گا۔
انڈیا کا اعتراض
سعودی عرب نے جی 20 سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تھی۔ اس موقع پر سعودی عرب نے ایک بینک نوٹ جاری کیا تھا جس پر ممبر ممالک کا نقشہ تھا۔ اس نقشے میں کشمیر کو انڈیا سے الگ دکھایا گیا تھا۔ انڈیا نے اس بارے میں سخت اعتراض کیا تھا۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کے مسئلے پر او آئی سی کا اجلاس طلب نہ کرنے پر سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد سعودی عرب نے پاکستان سے قرض واپسی کا مطالبہ کیا تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی آ گئی تھی۔ جس کے بعد پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب جا کر تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کی تھی۔
خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ آئی نے لکھا ہے کہ ’باجوہ کے اس دورے کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ فروری 2018 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لِسٹ میں شامل کیے جانے پر سعودی عرب نے اسے ویٹو نہیں کیا تھا جس سے پاکستان کو جھٹکا لگا تھا۔ سعودی عرب نے یمن میں اپنے زیر قیادت فوجی اتحاد میں اپنی فوج بھیجنے پر پاکستان پر زور دیا تھا لیکن پاکستان نے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔‘
انڈین وزیر اعظم کے لیے سعودی عرب خاص ہے
29 اکتوبر 2019 کو سعودی عرب کے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے عرب نیوز کو دیے گیے ایک انٹرویو میں کہا تھا 'سنہ 2016 میں پہلی بار میں سعودی عرب گیا تھا۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے، میں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے پانچ بار ملاقات کی ہے۔ مجھے ولی عہد شہزادہ سے پہلی گرم جوشی سے کی گئی ملاقات مجھے آج بھی یاد ہے اور اس دورے میں ہم ایک بار پھر اسی جوش کے ساتھ ملنے جا رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔‘
مودی نے اس انٹرویو میں کہا تھا ’تقریباً 27 لاکھ انڈین سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر بنا چکے ہیں۔ وہ یہاں کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انڈین شہریوں کی ایک بڑی تعداد ہر سال حج اور کاروبار کے لیے یہاں آتی ہے۔ میرا ان کے لیے پیغام ہے کہ آپ نے سعودی عرب میں اپنا جو مقام بنایا ہے اس پر ہمیں فخر ہے۔
’ان کی محنت اور عزم کی وجہ سے سعودی عرب میں انڈیا کا مقام بلند ہوا ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ آپ کا تعلق اسی طرح جاری رہے گا۔‘