آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈین صحافی کے والدین کی وائرل کہانی: ماں کے لڈو کے شوق میں گھر پر ہائی سپیڈ انٹرنیٹ لگوانا پڑا
سوشل میڈیا پر زیادہ تر یا تو خبریں چلتی ہیں یا ان پر تبصرے۔۔۔ ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالتے سیاستدان اور ان کے جیالوں کی نوک جھوک۔۔۔
لیکن کبھی کبھار آپ کو کچھ ایسا پڑھنے کو بھی مل جاتا ہے جسے دیکھ کر آپ کہتے ہیں ’ارے یہ تو لگتا ہے میرے گھر کی کہانی ہے۔‘
اب ہم سب کے والدین ٹیکنالوجی میں ہم جتنے تیز تو ہیں نہیں تو روزمرہ کی بنیاد پر ہر ایک کے گھر میں کوئی واقع رونما ہو رہا ہوتا ہے۔
گذشتہ روز ہمسایہ ملک انڈیا کے شہر کلکتہ میں رہنے والے ایک ٹیکنالوجی جرنسلٹ سویک داس سے بھی ایک ایسا ہی تھریڈ پوسٹ کیا۔ جس میں انھوں نے اپنے والدین کے حوالے سے ایک واقعے کی براہ راست منظرکشی کی تھی۔
’حالی ہی میں، میرے والدین جنھیں ٹیکنالوجی کی اتنی سمجھ بوجھ نہیں، انھوں نے گھر پر فائبر براڈ بینڈ کنکشن لینے کا فیصلہ کیا۔‘
اور جانتے ہیں اس فیصلے میں سویک کے والدین کی حوصلہ افزائی کس نے کی؟ سویک کے پڑوسیوں نے ان کی والدہ کو یہ کہتے ہوئے آمادہ کیا کہ یہ کنکشن اتنا اچھا ہے اسے لگوانے کے بعد انھیں لڈو کھیلنے میں کسی مسئلے کا سامنا نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سویک کہتے ہیں کہ دو دن قبل جب انھوں نے اپنی والدہ کو یہ یقین دہانی کروائی کہ 100 ایم بی پی ایس انٹرنیٹ کنیکشن پر لڈو واقعی آسانی سے کھیلی جا سکتی ہے، اس کے بعد انھوں نے فوراً ہی انٹرنیٹ والوں کو کال کردی گئی۔
جیسا کہ حالیہ کچھ مہینوں نے دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا پھیلی ہوئی ہے اور انڈیا میں تو حالات خاصے خراب ہیں۔۔ لیکن سویک کے مطابق وبا ہے یا نہیں۔۔۔ ہمارے گھر اگر کوئی صبح 9 بجے آتا ہے، تو آپ اسے صرف انٹرنیٹ لگا کر جانے کو نہیں کہہ سکتے۔
تو ایسے میں جب براڈ بینڈ کمپنی والے سویک کے گھر آئے تو باقاعدہ چائے بنائی گئی اور ہر کسی نے ایک ساتھ ایسے بیٹھ کر چائے پی کہ خداناخواستہ آپس میں کوئی معاشرتی دوری نہ رہ جائے۔
سویک کہتے ہیں ’براڈ بینڈ والے لڑکوں چائے ختم کرتے ہی کام شروع کر لیا۔ اسی اثنا میں میرے والد نے یہ پوچھنے کے لیے مجھے فون کیا کہ ’میرے کسی ای میل اور پاس ورڈ کے بغیر میرے گھر پر انٹرنیٹ کیسے چلے گا؟‘ جلد سے انھیں یقین دہانی کرائی گئی کہ کنکشن انسٹال کرنے کا ای میل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس براڈ بینڈ لگائے جانے کے اوقات میں سویک کی پڑوسی آنٹی نے ان کی والدہ سے کہا کہ وہ خود ان کے گھر آکر دیکھیں کہ ٹی وی پر ویڈیو کتنی اچھی آ رہی ہے۔
سویک کہتے ہیں ان کی والدہ اتنی جلدی کسی کی باتوں میں نہیں آتیں لہذا انھوں نے ریموٹ ٹیک سپورٹ (یعنی سویک) کو ایک تصویر بھیجی اور یہ پوچھنے کے لیے فون کیا کہ کیا واقعی یہ کوئی اچھی تصویر آ رہی ہے۔
آپ کا تو پتا نہیں لیکن یہاں مجھے میری والدہ یاد آ گئیں۔۔۔ یقین مانیے وہ ہوتیں تو 110 فیصد یہی کرتیں۔
آگے چل کر سویک لکھتے ہیں کہ کنکشن انسٹال ہونے کے بعد براڈ بینڈ والوں نے ان کے والد کو بتایا کہ استعمال نہ کرنے کی صورت میں ہر بار روئٹر کو بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
بس پھر کیا تھا یہ سنتے ہی سویک کے والد نے انھیں کال کرکے پوچھا ’ اگر اب کوئی اور ہمارے انٹرنیٹ کا استعمال شروع کردے تو کیا ہوگا؟‘
سویک کہتے ہیں اب میں انھیں کیا انکار کرتا، کیونکہ سوال تو انھوں نے ایک دم جائز پوچھا تھا۔
ان کے والد کو یقین دلایا جاتا ہے کہ ہم ایک مضبوط پاس ورڈ ترتیب دیں گے اور اس رؤٹر کو محفوظ طریقے سے تشکیل دیں گے، تاکہ خطرہ کم ہوسکے۔ اس پر وہ پوچھتا ہیں ’تو کیا اس کو میرے ای میل پاس ورڈ کی ضرورت ہوگی؟
ان کو یہ بتانے کے بعد کہ ان کے ای میل کا ابھی بھی روٹر پاس ورڈ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، بعد میں ان کے والد کو معلوم ہوتا ہے کہ اس لینڈ لائن کنکش کے ساتھ وہ مفت لینڈ لائنز کالز کر سکتے ہیں۔
خیر بلآخر کنکشن چالو ہوگیا۔ انٹرنیٹ کمپنی والے واپس آئے اور والد سسے فون میں کچھ ایپس ڈاؤن لوڈ کروائیں جو نیٹ ورک کونفیگر کروانے میں مدد کریں گی۔
ان کی والدہ کو ان ایپیس پر اعتبار نہیں آیا لہذا انھوں نے انکار کر دیا۔
اور والد نے براڈ بینڈ والوں سے پھر سے پوچھا کہ کیا اب ان کے ای میل آئی ڈی اور پاس ورڈ کی ضرورت پڑے گی۔
سویک کو ایک اور فون کال آئی جس میں انھوں نے اپنے والدین کو بتایا کہ وہ (یعنی سویک) بھی ایس ایس آئی ڈی اور ان پاس ورڈ وغیرہ بنا سکتے ہیں۔
اب ناجانے کس وجہ سے ایک بار پھر سے ان کے والد نے فرض کر لیا کہ یہ ان کا ای میل پاس ورڈ ہے۔ لہذا انھوں سے سب کے سامنے اونچی آوا میں پاس ورٹ دھرا دیا۔
وضاحتوں کے ایک اور دور کے بعد والد کے ای میل کا پاس ورڈ تبدیل ہو رہا ہے تو والدہ پوچھتی ہیں کہ کیا وہ بھی وہی پاس ورڈ استعمال کرنے کے قابل ہوں گی؟ ۔انھیں یقین دلایا گیا ہے کہ وہ یہی پاس ورڈ بنا کسی مسئلے کے استعمال کر سکیں گی۔
جیسے ہی انٹرنیٹ والے سویک کے والدین سے بہت سی دعائیں لے کر رخصت ہوئے، ان کے گھر میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی کہ پاس ورڈ ہونا کیا چاہیے۔ والد چاہتے ہیں اسے آسان رکھا جائے اور ان کا نام ہی پاس ورڈ کے طور پر رکھیں۔
جب انھیں یہ بتایا گیا یہ پاس ورڈ ایک برا خیال ہے، اب وہ چاہتے ہیں کہ پاس ورڈ ان کے والد کے نام پر ہونا چاہیے۔۔۔ کیونکہ اس سے بڑوں کے لیے عزت ظاہر ہوتی ہے۔
والدہ چاہتی ہیں کہ پاس ورڈ میں ان کی والدہ کا نام بھی شامل کیا جائے۔ دونوں اس بات پر اتفاق کرتے ہیں۔
خیر آئی ڈی اور پاس ورڈز کی تشکیل کے بعد انھوں نے پڑوسی آنٹی کو فون کیا۔ آنٹی اس بات پر مایوس ہیں کہ ہمارا ٹی وی انٹرنیٹ سے منسلک کیوں نہیں ہے۔۔۔ لہذا وہ مدد کی پیش کش کرتی ہیں، اور سویک کے والد بڑے آرام سے انھیں نیا پاس ورڈ بتا دیتے ہیں۔
سویک کی والدہ نے غلطی کا احساس ہوتے ہی انھیں آگاہ کیا۔ اب ایک بار پھر پاس ورڈ تبدیل کیا گیا اور آنٹی کو باقاعدہ حکمت عملی سے گھر سے نکلنے کے لیے کہا گیا۔
جس پر آنٹی بالکل خوش نہیں ہوئیں کیونکہ ارے بھئی آخر کو یہ آئیڈیا دیا ہی انھوں نے تھا۔
آخر کار ایک بار پھر ایک سٹریٹیجک پاس ورڈ ترتیب دیا گیا، ان کے والد نے کئی کوششوں کے بعد نئے پاس ورڈ کے ذریعے اپنا فون انٹرنیٹ سے کنیکٹ کر ہی لیا۔ اس کام میں ان کی والدہ تیز نکلیں۔۔ اب یہ بات ان کے والد کو پسند نہیں آئی۔۔ انھیں ایسا لگا جیسے وہ سکول کے ٹیسٹ میں دوسرے نمبر پر آئے ہیں۔
خیر اللہ اللہ کرکے انٹرنیٹ کام کر رہا ہے، ٹی وی اسے سے منسلک ہو گیا ہے اور فون بھی ٹھیک کام کر رہے ہیں۔
والد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اونچی آواز میں پاس ورڈ نہ دھرائیں۔ جس پر ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہنے کے باوجود بھی ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ وہ پہلے بھول گئے ہیں پاس تھا کیا۔
خیر اللہ اللہ کرنے ان کے گھر انٹرنیٹ لگا گیا۔ مزید ٹویٹس میں سویک نے اس دوران پاسورڈ کتنی بار تبدیل ہوا، ان کے والد کا ای میل پاس ورڈ کا جنون اور بہت کچھ شئیر کیا جس پر سوشل میڈیا صارفین کے بقول
سوشل میڈیا پر ردعمل
کہنے کو تو یہ آج کل کے ہر گپر کی کہانی معلوم ہوتی ہے لیکن سیوک کے منفرد اندازِ بیان اور مرحلہ وار کمنٹری کی بدولت یہ کہانی ٹویٹر پر وائرل ہے۔
سیوک کا یہ تھریڈ تقریباً 2200 مرتبہ ری ٹویٹ کیا جا چکا ہے اور اس پر تقریباً 10 ہزار لائیکس آ چکی ہیں۔
کئی صارفین اس تھریڈ پر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں تو کئی اپنے والدین کو ٹیگ کرکے کہتے نظر آئے کہ اسے پڑھ کر آپ کی یاد آ گئی۔
کئی صارفین کا کہنا تھا کہ اگر سیوک کی جگہ وہ ہوتے تو یقیناً ان کی برداشت جواب دے جاتی۔
خیر سیوک خاصے خوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کے والد کا ای میل پاس ورڈ کا جنون اور ماں کے لڈو کھلینے میں لوگوں کو اتنی دلچسپی ہو گی۔
وہ چاہتے ہیں کہ ہم سب بھی اپنے والدین کے ساتھ ہونے والے ٹیک ایڈونچر کی بنیاد پر باہمی تعاون سے بننے والے سٹوری پروجیکٹ شروع کریں۔