آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات: اگلے مرحلے میں کیا ہو سکتا ہے؟
- مصنف, سکندر کرمانی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
امریکہ اور طالبان کے حکام نے جب فروری میں قطر میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تو انھوں نے اسے ’امن معاہدہ‘ کہنے سے گریز کیا۔
اس کے بعد کے ہفتوں میں یہ واضح ہو گیا کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا۔ باغیوں کی طرف سے بین الاقوامی فوجی دستوں پر حملے رُک گئے لیکن طالبان اور افغان سکیورٹی فوسز کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔
معاہدے میں افغانستان سے غیر ملکی دستوں کے انخلا کی ابتدائی تاریخ طے کی گئی، اس شرط پر کہ طالبان کی جانب سے القاعدہ کو امریکہ یا اس کے اتحادیوں پر حملہ کرنے کے لیے یہ سرزمین استعمال کرنے سے روکا جائے گا۔
اس میں پہلی بار طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کے آغاز کا بھی عہد کیا گیا تھا تاکہ افغان رہنما کسی سیاسی حل کے حصول کے لیے قدم بڑھا سکیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مذاکرات رواں ہفتے قطر میں ہونے جارہے ہیں جس سے دو دہائیوں تک چلنے والی جنگ اور ہزاروں ہلاکتوں کے اس سلسلے کو ختم کیا جاسکے۔ ان مذاکرات کو مارچ میں شروع ہونا تھا لیکن قیدیوں کی رہائی کے منصوبے میں کئی ماہ کی تاخیر کے باعث یہ متاثر ہوئے۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے میں طے پایا تھا کہ طالبان کے ’پانچ ہزار تک‘ قیدیوں کو افغان حکومت کی جانب سے مذاکرات سے قبل رہا کیا جائے گا اور بدلے میں طالبان سکیورٹی فورسز کے ایک ہزار ایسے اہلکاروں کو رہا کریں گے جو عسکریت پسندوں کی قید میں ہیں۔
افغان حکومت نے، جو امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کا حصہ نہیں تھی، اس شرط پر اعتراض کیا تھا۔ افغان حکام کو امید تھی کہ وہ طالبان قیدیوں کی رہائی پر کوئی رعایت حاصل کر سکیں گے۔ لیکن طالبان نے اس کے بجائے پُرتشدد واقعات میں اضافہ کا راستہ اپنایا۔
امریکہ-طالبان معاہدے کا ضمیمہ، جسے تاحال عوام کے سامنے نہیں لایا گیا، کا مقصد جھڑپوں میں کمی لانا تھا۔ ایک قابل اعتماد ذریعے کے مطابق طالبان کو دیہی علاقوں میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن بڑے شہروں میں نہیں۔
دریں اثنا امریکہ کسی کیمپ یا گاؤں میں موجود طالبان جنگجوؤں پر فضائی حملہ نہیں کرے گا اور صرف ایسی جگہوں کے کچھ فاصلے پر فضائی حملے کر سکے گا جہاں جنگی کارروائیاں جاری ہوں۔
اس سے طالبان کو دور دراز علاقوں میں چیک پوائنٹس پر موجود افغان سکیورٹی فورسز پر حملے بڑھانے کی کھلی چھوٹ مل گئی۔
کچھ مواقع ایسے بھی آئے جب اس عسکریت پسند گروہ نے بعض شہروں میں بڑے حملے کیے۔ شاید وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ امریکی ردعمل کیا ہو گا۔ اس طرح انھوں نے افغان حکومت پر دباؤ بڑھا دیا۔
حکومت کی حمایت کرنے والے بعض رہنماؤں کو ہدف بنا کر ان پر قاتلانہ حملے بھی ہوئے لیکن مشکوک طور پر کسی گروہ نے ان کی ذمہ داری قبول نہ کی۔
آخرکار صدر اشرف غنی نے حراست میں لیے گئے 400 طالبان قیدیوں کو رہا کردیا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ قیدی سنگین جرائم کے ذمہ دار تھے۔
ان کی رہائی کے فیصلے کے باوجود کئی مرتبہ تاخیر ہوئی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ افغان حکومت نے طالبان کی قید میں اپنے کئی فوجیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اور ایک دوسری وجہ یہ بھی کہ فرانس اور آسٹریلیا نے ایسے جنگجو قیدیوں کی رہائی کی مخالفت کی تھی جو افغان شہریوں کی ہلاکتوں میں ملوث رہے تھے۔
تاہم امریکہ میں اس حوالے سے پریشانی بڑھ گئی اور گذشتہ ہفتے تمام باقی قیدیوں کو رہا کردیاگیا۔
تاہم امریکی اس صورتحال کی وجہ سے تیزی سے جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتے گئے اور باقی طالبان قیدی بھی گذشتہ ہفتے رہا کر دیے گئے جبکہ ایسے سات قیدیوں کو قطر کے حوالے کرنے کے انتظامات کر لیے گئے ہیں جو غیر ملکیوں پر حملوں میں ملوث تھے۔ ان افراد کو قطر میں زیرِ نگرانی رکھا جائے گا۔
امن معاہدے میں کیا داؤ پر لگا ہے؟
امن کے قیام کے سلسلے میں اگلا مرحلہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت کا آغاز ہے۔ ان بین الافغان مزاکرات کا محور اصل امن معاہدہ ہو گا۔
حکام اور یقیناً عام افغانوں کو امید ہے کہ جنگ بندی پر اتفاق ہو جائے۔ اپنے مطالبات پورے ہونے تک طالبان جنگ جاری رکھنے پر تیار نظر آتے ہیں۔
طالبان کو تشدد ہی میں سب سے زیادہ فائدہ دکھائی دیتا ہے اور وہ اپنے جنگجوؤں کو ہتھیار رکھنے کی اجازت دینے کے بارے میں خاصے محتاط نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ خطرہ ہے کہ کہیں ان جنگجوؤں کو دوبارہ منظم کرنا مشکل نہ ہو جائے اور یہ بھی کہ کہیں یہ حریف تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شامل نہ ہو جائیں۔
مذاکرات کار ملک کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بھی کسی طرح کے معاہدے کی کوشش کریں گے۔
یہ ایک مشکل ہدف ہے۔ کس طرح ایک دوسرے سے متصادم اور مقابلہ کرنے والے تصورات کو ہم آہنگ کیا جائے۔ ایک طرف طالبان اور دولت اسلامیہ کی سوچ ہے تو دوسری طرف ایک ایسا افغانستان ہے جو گذشتہ دو دہائیوں کے دوران زیادہ جدید اور زیادہ جمہوری بنیادوں پر آگے بڑھا ہے۔
90 کی دہائی کے وسط سے سنہ 2001 میں امریکہ کے حملے تک طالبان نے افغانستان کے بیشتر علاقے پر حکومت کی جس دوران انھوں نے شریعت کے قوانین پر اپنی سخت گیر تشریح کے مطابق عمل کروایا۔ خواتین کے کام پر اور بچیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
طالبان کا اصرار ہے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کے مخالف نہیں ہیں اور وہ اکثر اس بات سے بھی انکار کرتے ہیں کہ انھوں نے کبھی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگائی تھی۔ طالبان کی جانب سے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے اسلامی احکامات سے متعلق بیانات بھی آتے رہے ہیں۔ تاہم اکثر افغانوں کو یقین نہیں ہے کہ طالبان کی سوچ کس حد تک تبدیل ہوئی ہے۔
صفِ اول کی صحافی فرح ناز فوروطان نے ایک آن لائن مہم شروع کی ہے جس کا عنوان ہے ’مائی ریڈ لائن‘ یا ’میرے برداشت کی حد۔‘ اس مہم کا مقصد خواتین کی ان ذاتی آزادیوں کو اجاگر کرنا ہے جو کسی صورت ختم نہیں ہونی چاہییں۔
فرح ناز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’طالبان کو آج کے افغانستان کی حقیقت کو قبول کرنا پڑے گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان امن مذاکرات کے اصل نتائج نہیں حاصل ہوں گے۔‘
امن کی کوششوں پر نظر رکھنے والے ایک سفارت کار کا کہنا ہے کہ طالبان نے اپنے سیاسی تصورات کو بیان کرنے وقت جان بوجھ کر مبہم رکھا ہوا ہے۔
گزشتہ برس ایک انٹرویو میں میں نے طالبان کے اعلیٰ مذاکرات کار سے خاص طور پر یہ پوچھا کہ کیا وہ جمہوری عمل کو قبول کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کچھ کہہ نہیں سکتے ’افغانستان میں کئی طرح کے طرزِ حکومت کو آزمایا جا چکا ہے۔ کچھ لوگ اماراتی نظام تو کچھ صدارتی نظامِ حکومت چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کرنے والوں کی اکثریت جو بھی چاہیے گی طالبان اسے قبول کر لیں گے۔
امریکی فوجیوں کی گھر واپسی
دریں اثنا امریکی فوجی دستے پہلے سے ہی کم کیے جاچکے ہیں۔ امریکہ-طالبان معاہدے کے تحت امریکی فوج کا انخلا مئی 2021 تک ممکن ہوسکے گا، بشرط یہ کہ طالبان القاعدہ سے متعلق وعدے پورے کرے اور حکومت سے بات چیت شروع کرے۔
امریکی فوج کا انخلا اس بات کا پابند نہیں کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان معاملات طے پا جائیں۔
رواں صدارتی انتخاب سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار عندیہ دیا کہ وہ امریکی فوج کو جلد از جلد گھر واپس بلانا چاہتے ہیں۔
انھوں نے نومبر تک امریکی فوجیوں کی تعداد پانچ ہزار تک محدود کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ تعداد 2001 میں امریکی مداخلت کے بعد سے سب سے کم ہے۔
اس مقصد میں تاحال امریکہ کے لیے کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی، اس بات سے قطع نظر کہ اقوام متحدہ اور امریکی حکام کی جانب سے متنبہ کیا گیا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے ساتھ تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔
ایک مبصر نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح طالبان سے یقین دہانی حاصل کرنا تھا کہ وہ انسداد دہشت گردی میں تعاون کریں گے جبکہ خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کو ترجیح نہیں سمجھا گیا۔
اطلاعات کے مطابق کئی یورپی ممالک کو تشویش ہے کہ اس رفتار سے فوجی انخلا اور بعد میں اس کے اثرات کیا ہوں گے۔
کچھ ماہرین کے مطابق اگر ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نومبر میں صدر منتخب ہوتے ہیں تو وہ امریکی انخلا کی رفتار کو کم کرنے میں دلچسپی ظاہر کرسکتے ہیں۔
یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے شاید جان بوجھ کر قیدیوں کی رہائی کے منصوبے میں تاخیر کی تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ آیا امریکی قیادت اپنے فیصلے میں تبدیلی کرتی ہے۔
افغانستان پر کون حکومت کرے گا؟
افغانستان سے امریکی انخلا کے ساتھ طالبان کے کئی حامی سمجھتے ہیں کہ وہ اب اس بات کا تعین کر سکیں گے کہ اس طرز کا معاشرہ قائم کیا جائے گا۔
ان مذاکرات میں اس گروہ کے حوالے سے پہلا تاثر سامنے آئے گا۔ تاحال قیادت نے اس ’اسلامی حکومت‘ قائم کرنے کی بات کی ہے جس میں ’سب کی شمولیت‘ ہوگی۔
بات چیت جاری ہے لیکن یہ امکان ہے کہ طالبان ایک ’عبوری‘ حکومت بنانے کی تجویز دیں گے جس کا وہ حصہ ہوں گے۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ کیسے کام کرے گی اور اس سے موجودہ افغان سیاسی قیادت پر کیا اثر پڑے گا۔
ماضی میں ان کے سخت مؤقف کے باوجود طالبان حکام نے زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانونی حیثیت کی قدر کرتے ہیں۔
سنہ 1990 کی دہائی میں صرف گنے چنے ممالک نے افغانستان میں ان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا، اور وہ پورے ملک پر قابض ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ آج بھی کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرنے کے باوجود طالبان شہری مراکز میں اپنا زور برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں رہے۔
خاص طور پر یورپی یونین نے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی حکومت انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتی تو یہاں سرمایہ کاری اور امداد روکی جاسکتی ہے۔
پیشرفت کی رفتار دیکھتے ہوئے مذاکرات کافی دیر تک چل سکتے ہیں اور ان کے نتائج فی الحال غیر یقینی ہیں۔ تاہم کئی برسوں کی لڑائی کے بعد میدانِ جنگ میں تو کوئی جیت نہیں سکا، لیکن اب کم از کم افغان شہریوں کو امن کا ایک موقع ملا ہے۔