آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں لاک ڈاؤن کے دوران پتنگ بازی میں اضافہ: ’پتنگ خریدنے کے لیے لوگ پاکستان سے بھی کالز کر رہے ہیں‘
- مصنف, رومیتا سلوجا
- عہدہ, بزنس رپورٹر، دلی
محمد احمد گذشتہ 11 برسوں سے پتنگیں بیچ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے کام میں اتنے مصروف پہلے کبھی نہیں رہے جتنا آج کل ہیں۔
انڈیا کے شہر دلی میں اُن کی دکان میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران پتنگوں کی فروخت کافی بڑھی ہے اور یہ سب کورونا وائرس کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔
احمد کے مطابق 25 مارچ کو انڈیا میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اور اس کے بعد سے کئی دنوں میں انھیں اپنی دکان پر اضافی سامان لا کر رکھنا پڑتا ہے۔ وہ اکثر صبح کو ڈیڑھ لاکھ انڈین روپے کا سامان دکان پر لا کر رکھتے ہیں تو یہ تمام سامان اکثر شام گئے تک ہی بِک جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں فون کالز سے تنگ آ چکا ہوں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اچانک ہر کسی کو پتنگ چاہیے۔ مجھے پورے ملک سے فون کالز آ رہی ہیں، (جن میں) مہاراشڑ، تامل ناڈو، راجھستان وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں اتنی طلب ہے کہ میں اسے پورا نہیں کر پا رہا۔‘
کورونا وائرس کی وجہ سے عائد کردہ پابندیوں کے دوران جہاں اٹلی میں شہریوں نے اپنی بالکونی اور کھڑکیوں سے گانے گائے وہیں انڈین شہریوں نے اپنی چھتوں سے پتنگیں اڑائیں۔
ممبئی میں دکاندار احسن خان کہتے ہیں کہ یہ خدشہ ہے کہ انڈیا میں پتنگیں ختم ہو جائیں گی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اپریل سے اگست کے درمیان (پتنگ کی فروخت کا) رجحان کم رہتا ہے، لیکن اس سال میں نے (اس دورانیے میں) پانچ لاکھ پتنگیں بیچیں ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ انھیں لاک ڈاؤن کے دوران ہمسایہ ملک پاکستان سے بھی کالز آئی ہیں جہاں انڈیا کی طرح کورونا وائرس کے دنوں میں پتنگ بازی کا جنون بڑھتا دکھائی دیا ہے۔
’مجھے پاکستان میں کراچی اور لاہور سے بھی لوگوں کی کالز آ رہی ہیں جو مجھے عام رقم سے دگنے پیسے دینے کی پیشکش کر رہے ہیں۔‘
صدیوں سے ایشیا کے اس خطے میں پتنگ بازی مصروف رہنے کا ایک مشغلہ رہا ہے۔ تاریخ دان کہتے ہیں کہ پتنگ بازی ابتدائی طور پر یہاں آنے والے چینی سیاحوں نے متعارف کرائی تھی۔
تاہم یہ انڈیا میں ایک موسمی سرگرمی ہے۔ ملک کے اکثر حصوں میں ماکار سانکرانتی کے تہوار کے دوران پتنگوں کی فروخت بڑھ جاتی ہے۔ یہ تہوار 14 جنوری میں موسمِ بہار اور فصل کی کٹائی سے قبل منایا جاتا ہے۔
اس تہوار کے ساتھ پتنگ بازی کو جوڑنے کی روایت ہے۔ مغربی ریاست گجرات میں اسی روز پتنگ بازی کا بین الاقوامی تہوار منایا جاتا ہے۔
اس کی تیاریاں کئی مہینوں قبل شروع ہو جاتی ہیں اور پورے ملک سے پتنگ بنانے والے گجرات اور ممبئی آ کر تہوار میں انڈیا کی روایتی رنگ برنگی پتنگوں کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔
بسنت پانچامی اور پہلا بیساکھ جیسے دیگر تہواروں کے موقع پر بھی شمالی انڈیا میں پتنگوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور یہ سلسلہ اپریل تک جاری رہتا ہے جس کے بعد فروخت کم ہو جاتی ہے۔
اس کے بعد پتنگوں کی فروخت انڈیا کے یوم آزادی 15 اگست سے قبل دوبارہ بڑھ جاتی ہے۔
لیکن رواں سال کورونا وائرس کے باعث نافذ ہونے والے لاک ڈاؤن کے دوران پتنگ بنانے کی صنعت ان مہینوں میں بھی متحرک رہی۔ لاک ڈاؤن میں جون سے اگست تک نرمی دیکھنے میں آئی لیکن اس کے باوجود سکول بند رہے جس کے بعد بچوں میں پتنگوں کی طلب بڑھتی رہی۔
ممبئی میں اپنے بیٹے کے ساتھ پتنگ بنانے کے شعبے سے وابستہ شاہدہ رحمان کہتی ہیں کہ ’آپ باہر نہیں جا سکتے تھے۔ اپنے بچوں کو پارک نہیں لے جا سکتے تھے۔ تو لوگوں نے وقت گزارنے کے لیے پتنگیں اڑانے کو ترجیح دی۔‘
انڈیا میں بعض شہروں میں لاک ڈاؤن کے دوران حکام نے پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی تھی کیونکہ انھیں چھتوں کے ذریعے ہمسایوں میں وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے خدشات تھے۔ لیکن مجموعی طور پر پتنگ کی خرید و فروخت عروج پر رہی ہے۔
انڈیا میں 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق پتنگ بازی کا شعبہ آٹھ کروڑ 50 لاکھ ڈالر پر محیط ہے۔ انڈیا سے پوری دنیا میں پتنگیں برآمد کی جاتی ہیں لیکن زیادہ فروخت مقامی مارکیٹ میں ریکارڈ کی جاتی ہیں۔
کم عمر لڑکے اور نوجوان ہی زیادہ تر پتنگ بازی کرتے ہیں لیکن یہ صنعت کافی حد تک خواتین مزدوروں پر مبنی ہے۔ کئی خاندانوں میں خواتین اور ان کے بچے گھروں میں پتنگیں بناتے ہیں۔
حبہ بھی یہی کاروبار کرتی ہیں۔ وہ دلی کے قریب بریلی میں اپنے گھر میں اپنی بہن کے ساتھ ایک دن میں 50 پتنگیں بناسکتی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران بڑی طلب نے ان کی آمدن میں اضافہ کیا ہے کیونکہ پتنگوں کی فروخت اور قیمت میں واضح اتار آیا ہے۔
عام کاغذ اور لکڑی سے بنی پتنگ کی قیمت 10 روپے سے بڑھ کر 20 روپے ہو گئی ہے۔
بریلی کے دکاندار محمد اشرف کہتے ہیں کہ وہ اپنی دکان لاک ڈاؤن کے اصولوں کی وجہ سے صبح جلدی نہیں کھول پاتے لیکن اس کے باوجود اگست سے قبل انھوں نے دو لاکھ روپے کی پتنگیں بیچی ہیں۔
’اس سال سب بدل گیا۔۔۔ یہ اضافی آمدن کا ذریعہ بنا۔‘
احسن خان کہتے ہیں کہ یہ فروخت انڈیا کے چھوٹے شہروں اور گاؤں میں زیادہ ہوئی ہے کیونکہ وہاں اکثر افراد کے پاس اپنی چھت ہوتی ہے۔ یہ ممبئی جیسے بڑے شہروں کے برعکس ہے جہاں اکثر افراد فلیٹ میں رہتے ہیں اور پتنگ اڑانے کے لیے انھیں باہر اجتماعی جہگوں پر جانا پڑتا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران ان جگہوں پر جانے سے منع کیا گیا تھا۔
دوسرے ملکوں کی طرح انڈیا میں بھی دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے کا خطرہ موجود ہے۔ اگست میں انڈیا میں 20 لاکھ متاثرین کی تصدیق ہوئی تھی۔ یہ عالمی وبا کی ابتدا سے ملک میں ماہانہ متاثرین کی سب سے بڑی تعداد رہی۔
یہاں سب سے بڑا خدشہ آبادی کی صحت اور حفاظت کے حوالے سے ہے لیکن یہ کافی حد تک ممکن ہے کہ ان مشکل حالات میں بھی پتنگ بازی کا رجحان جاری رہے گا اور اگر لوگوں کو گھر رہنے پر دوبارہ مجبور کیا جاتا ہے تو پتنگ اڑانا ان کے لیے تفریح کا ایک مقبول ذریعہ بنا رہے گا۔