آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے سیکریٹری خارجہ ہرش وی شرنگلا کا دورہ بنگلہ دیش کیا فاصلے کم کرنے کی کوشش ہے؟
انڈیا کے سیکریٹری خارجہ ہرش وی شرنگلا نے بنگلہ دیش کے ایک روزہ دورے کے دوران ملک کی وزیر اعظم شیخ حسینہ سے ملاقات کی ہے۔
انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کورونا کی وبا کے خلاف جنگ، ویکسین اور کورونا کے بعد معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کی کوششوں سمیت دیگر موضوعات پر بات ہوئی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا ہے۔ کورونا کے بحران اور لاک ڈاؤن کے بعد یہ ملک سے باہر شرنگلا کا پہلا دورہ ہے۔
یہ بھی سمجھا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش کی چین کے ساتھ نزدیکی میں اضافہ اس دورے کی وجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین، بنگلہ دیش کی دریائے تیستا سے متعلق پراجیکٹ کے لیے ایک ارب ڈالر کی مدد کرنے والا ہے۔
ان رپورٹس کے بعد انڈیا کے سیکریٹری خارجہ کا یہ دورہ اور بھی اہم ہو گیا ہے کیوںکہ طویل عرصے سے انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان دریائے تیستا کے پانی کی آپس میں تقسیم پر بات چیت جاری تھی۔
گذشتہ برس انڈین حکومت کے متنازع شہریت کے قانون کے مسئلے پر بنگلہ دیش کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔ دسمبر میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ عبد المومن اور وزیر داخلہ اسد الزمان خان نے اپنا انڈیا کا دورہ بھی منسوخ کر دیا تھا۔
اس کے بعد انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگی کی باتیں سامنے آئی تھیں۔ ایسے میں اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سدھارنے کی جانب اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تیستا کے پانی کا تنازع کیا ہے؟
دریائے تیستا انڈیا سے بہہ کر بنگلہ دیش جانے والے 54 دریاؤں میں سے ایک ہے۔ دریائے تیستا انڈیا میں سکم سے نکل کر مغربی بنگال سے گزرتا ہوا آسام میں جا کر دریائے برہما پتر میں ضم ہو جاتا ہے، اور اس طرح بنگلہ دیش پہنچتا ہے۔
بنگلہ دیش چاہتا ہے کہ تیستا کا پانی دونوں ممالک میں برابر تقسیم ہو۔ بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان دریائے تیستا کے پانی سے متعلق ہونے والے معاہدے پر اہم اعتراض مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بینرجی کو ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر تیستا کا پانی بنگلہ دیش کے ساتھ بانٹا گیا تو مغربی بنگال میں خشک سالی کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکم میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کی متعدد سکیموں کا انحصار دریائے تیستا پر ہے۔
ان سکیموں میں استعمال کے بعد ہی پانی مغربی بنگال میں آتا ہے۔ تیستا کا بہاؤ بھی کافی کمزور ہے۔ مغربی بنگال کا کہنا ہے کہ اتنا پانی بچتا ہی نہیں ہے کہ اسے بنگلہ دیش کے ساتھ بانٹا جا سکے۔
سنہ 2015 میں وزیرا عظم نریندر مودی کے بنگلہ دیش کے دورے کے بعد سے ہی اس بات کے امکانات محسوس کیے جا رہے تھے کہ دونوں ممالک کے درمیان دریائے تیستا سے متعلق کوئی معاہدہ ہو جائے گا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس معاملے میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
بنگلہ دیش سے انڈیا کے بڑھتے فاصلے
حالیہ عرصے میں بنگلہ دیش کے اربوں ڈالر کے پراجیکٹس چین کو ملے ہیں اور چین نے بنگلہ دیش کی مصنوعات کو کئی قسم کے ٹیکسوں سے نجات دے کر دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دیا ہے۔ بنگلہ دیش پاکستان کی طرح چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں بھی شامل ہے۔
بنگلہ دیش میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ اس نے شمال مشرقی انڈیا کے کئی شدت پسند گروہوں کو اپنے ہاں پناہ نہ دے کر اور انھیں پکڑنے میں انڈیا کی مدد کر کے اپنے ہمسائے ملک انڈیا کی مدد کی ہے۔ جبکہ انڈیا اس کے بدلے تیستا اور دوسرے دریاؤں کی تقسیم سے متعلق معاہدے نہیں کر سکا ہے۔
بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے گذشتہ برس انڈیا کے شہریت کے نئے قانون کو غیر ضروری قرار دیا تھا۔
پاکستان کے بنگلہ دیش سے بڑھتے تعلقات کے کیا معنی ہیں؟
چند ہفتے قبل بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ اے کے عبدالمومن اور ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی کے درمیان ہونے والی ملاقات کا مقصد اس وقت سمجھ آیا تھا جب 22 جولائی کی دوپہر پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے دفتر نے ٹویٹ کر کے یہ اعلان کیا کہ انھوں نے بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد سے طویل گفتگو کی ہے۔
شیخ حسینہ کے پریس سیکریٹری احسان الکریم کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان 15 منٹ طویل گفتگو ہوئی۔
ایسا نہیں ہے کہ ماضی میں دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ نہیں ہوا بلکہ عمران خان اور شیخ حسینہ کے درمیان بھی گفتگو ہو چکی ہے۔
تاہم کچھ عرصے سے پاکستانی میڈیا میں یہ بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی جانب سے لگ بھگ 50 برس قبل اس وقت کے مشرقی پاکستان سے جدا ہو کر ایک آزاد ملک بننے والا بنگلہ دیش اور پاکستان دونوں ہی روابط بہتر بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق گفتگو کے دوران عمران خان نے ’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی خراب صورتحال پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا‘ اور ساتھ ہی بنگلہ دیش میں کووڈ 19 اور سیلاب کی صورتحال کے بارے میں بھی بات کی اور شیخ حسینہ کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی تھی۔
سفارتکاروں کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات اور وزرائے اعظم کی فون کالز کو انڈیا کے کچھ سفارتی حلقوں میں انڈیا کی مشرقی سرحد پر تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔