انڈیا: چمکتی، بل کھاتی شمسی نہروں کا جال دیہات کے رہائشیوں کی زندگی کیسے بدل رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, کلپنہ سندر
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
گجرات کے چھوٹے سے گاؤں میں دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں شمسی توانائی کے نیلے پینلوں کی لمبی قطار دور تک نظر آتی ہے۔ شمسی توانائی کے پینل نہر کے اوپر سٹیل کے ڈھانچے پر نصب کیے گئے ہیں۔
یہ چالیس گھروں کا چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں لکڑی کی دیواریں ہیں اور آوارہ گائیں ہر طرف نظر آتی ہیں۔ اس گاؤں کا شمار انڈیا کے ایسے دیہی علاقوں میں ہوتا ہے جو تھوڑا عرصہ پہلے تک بجلی کی سہولیت سے محروم تھا۔
لیکن اب اس گاؤں کے رہائشی بھی بجلی کے بلب روشن کر کے سورج غروب ہونے کے بعد بھی گائے کا دودھ نکال سکتے ہیں اور بچے بجلی کی روشنی میں پڑھائی کر سکتے ہیں۔
انڈیا روایتی طور پر بجلی کی پیدوار کے لیے کوئلے پر بھروسہ کرتا آیا ہے۔ سنہ 2018 تک انڈیا میں بجلی کی کل پیداوار کا 72 فیصد کوئلے سے حاصل کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا میں شمسی توانائی کی گنجائش بہت ہے، جہاں سال میں کم از کم تین سو روشن دن ہوتے ہیں اور انڈیا میں توانائی کی مانگ بھی بہت ہے، اسی لیے وہ شمسی توانائی کے لیے موزوں جگہ ہے۔
انڈیا میں 2020 کی پہلی سہ ماہی تک ملک میں شمسی توانائی کی پیداوار 36 گیگا واٹ ہو چکی ہے اور سنہ 2022 تک اسے 100 گیگا واٹ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
شمسی توانائی کی پیداوار کے لیے سب سے بڑا مسئلہ جگہ کا حصول ہے جہاں پر پینل لگائے جائیں۔ انڈیا میں زمین قدرے مہنگی ہے اور ایک قطعہ زمین کے اکثر اوقات ایک سے زیادہ مالک ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی خریداری میں بہت وقت درکار ہوتا ہے۔ انڈیا کی زیادہ آبادی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انڈیا میں آبادی کی فی کس اوسط 464 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔
چھتوں کے اوپرسولر پینل مسئلے کا ایک حل ہے لیکن چھتوں کے اوپر جگہیں بھی محدود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریاست گجرات میں اس کا حل نکالا گیا ہے۔ یہاں نہروں پر سٹیل کے ڈھانچوں کے اوپر سولر پینل لگائے گئے ہیں جس سے جگہ، پانی اور کاربن کے اخراج کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔
جینسول انجینیئرنگ سے تعلق رکھنے والے پیال سیکسینا کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ برسوں میں انڈیا میں شمسی توانائی کے شعبے کی توجہ بڑے پراجیکٹس سے ہٹ کر چھوٹے پراجیکٹس کی طرف ہوئی ہے جہاں جگہ بچانے کے لیے نئے نئے طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔
سنہ 2014 میں گجرات کے ضلع ودودارہ میں 18 ملین ڈالر کی لاگت سے شمسی توانائی کا ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا جس میں 750 میٹر لمبی نہر کے اوپر شمسی توانائی کے پینلز لگائے گئے۔ نرمادہ دریا سے نکلنے والی لمبی نہروں کے اوپر لگائے گئے سولر پینلز سے کئی جگہوں پر بجلی حاصل کی جاتی ہے۔
’گراس روٹس رورل انوویشن ڈویلپمنٹ‘ کے چیف ایگزیکٹیو مانک جولی کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ بجلی دیہات میں پیدا کی جاتی ہے لہذا اس میں ٹرانسمیشن کے نقصانات بہت کم ہیں۔
جب کاشتکاروں کو بجلی کی بہت ضرورت ہوتی ہے تو شمسی نہروں سے پیدا ہونے والی بجلی انھیں مہیا کی جاتی ہے اور جب بجلی وافر مقدار میں ہو تو اسے نیشنل گرڈ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔
گجرات میں پہلے پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد نہروں کے اوپر شسمی توانائی کے کئی منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں جن میں ایک نرمادا دریا سے نکلنے والی نہروں پر 40 میل لمبی شمسی نہروں کا منصوبہ ہے جس سے 100 میگا واٹ بجلی حاصل کرنا مقصود ہے۔ اس منصوبے پر ایک ارب ڈالر کی لاگت متوقع ہے۔
گجرات میں نہروں کی لمبائی 80 ہزار کلومیٹر ہے۔ گجرات کی سٹیٹ الیکٹریسٹی کارپوریشن کے مطابق نہروں کی صرف 30 فیصد لمبائی پر سولر پینل لگا کر 18ہزار میگا واٹ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس سے نوے ہزار ایکٹر زمین بھی بچ جاتی ہے۔
شمسی نہروں کے فوائد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نہروں کے اوپر سولر پینل لگانے کے کئی فوائد ہیں۔ اس سے نہ صرف مقامی سطح پر بجلی پیدا ہوتی ہے اور زمین بھی بچ جاتی ہے بلکہ یہ گیس اور کوئلے کے پلانٹ کی نسبت بہت جلد مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ نہروں کے اوپر سائے کی وجہ سے نہروں سے پانی بخارات بن کر اڑ نہیں جاتا جس سے فصلوں اور لوگوں کے لیے وافر پانی مہیا ہوتا ہے۔
بھارت کی بعض ریاستیں جن میں راجستھان، مہاراشٹرا اور گجرات شامل ہیں، وہاں نہریں صرف زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں وہاں گرمی کی وجہ سے پانی کا ضیاع ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ان شمسی نہروں کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ نہروں کے اوپر سائے کی وجہ سے نہر میں کائی نہیں اُگتی۔ کائی پانی کے پمپوں میں اکٹھی ہو جاتی ہے۔
گجرات انرجی ریسرچ اینڈ مینیجمنٹ انسٹیٹیوٹ کے سینیئر پراجیکٹ آفیسر نیلش کمار کا کہنا ہے کہ سولر پینل کی وجہ سے سورج کی روشنی براہ راست پانی پر نہیں پڑتی جس سے پانی میں کائی کی پیدوار میں بہت کمی واقع ہوتی ہے۔ ان سولر پینلز کی وجہ سے نہ صرف پانی کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ سولر پینلز بھی نیچے پانی کی موجودگی سے ٹھنڈے رہتے ہیں جس سے ان کی پیداواری صلاحیت میں 2.5 سے پانچ فیصد کا اضافہ ہوتا ہے۔
شمسی نہروں کے نقصانات
جہاں نہروں کے اوپر سولر پینل لگانے کے فوائد ہیں وہیں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ نہروں کے اوپر سولر پلانٹ لگانا عام جگہ پر پلانٹ لگانے سے زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔ سٹیل کے جن ڈھانچوں کے اوپر سولر پینلز کو لگایا جاتا ہے انھیں زنگ آلود ہونے سے بچانے کے لیے اضافی قلعی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان پینلز کو لگانے کے لیے صحیح جگہ کا انتخاب بھی مشکل مرحلہ ہے۔
ڈھنگرا کا کہنا ہے کہ جہاں نہر بہت چوڑی ہو تو وہاں سٹیل کے ڈھانچے کی تیاری مشکل اور مہنگی ہو جاتی ہے۔ اگر کسی جگہ نہر کی چوڑائی کم ہو تو وہ بھی ایک مسئلہ ہے۔
سولر پینل کی استعداد کو بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ پینلز کی باقاعدگی سے صفائی ہو۔ نہر کے اوپر لگے سولر پینلز کے مرمتی کام اور صفائی کو برقرار رکھنا زمین پر لگے پینلوں سے مشکل ہوتا ہے اور اس کے لیے خصوصی سیڑھیاں بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ کمپنیاں پینلوں کی صفائی کے لیے روبوٹ کا استمعال کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیال سیکسینا کا کہنا ہے کہ چونکہ نہروں کے اوپر لگائے گئے سولر پینل ایک بڑے علاقے پر پھیلے ہوتے ہیں اس لیے ان کے گرد دیواریں بنانا یا باڑ لگانا آسان نہیں، سکیورٹی کے خدشات بہت ہیں اور بجلی کی چوری کو روکنے کے لیے کیمرے استعمال کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
بل کھاتے نہری راستے بھی پریشانی کا سبب ہیں۔ بجلی کی زیادہ پیداوار کے لیے ضروری ہے کہ سولر پینلز کا رخ جنوب کی جانب ہو لیکن نہر کی سمت کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ جب نہروں کی صفائی کی ضرورت ہو تو سولر پینلز کی موجودگی سے نہروں کی صفائی مشکل ہو جاتی ہے۔ سولر پینلز پر براہ راست دھوپ کو ممکن بنانے کے لیے اکثر اوقات نہر کے قریب لگے درختوں کو کاٹنا پڑتا ہے۔
انڈیا کی آٹھ ریاستوں میں شمسی نہروں کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ جولی کا کہنا ہے کہ اس طری کی جدت اور اختراع سے لاکھوں کاشتکاروں کو سستی بجلی مہیا کی جا سکتی ہے جس سے ان کے منافع میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماحولیات کے تحفظ کے لیے قائم فنڈ سے منسلک ریسرچر صباح عثمانی کا کہنا ہے کہ انڈیا کی نہروں سے مزید قابل تجدید توانائی حاصل کی جا سکتی ہے اگر اوپر سے شمسی اور نیچے پانی سے پن بجلی کو اکٹھا کر لیا جائے۔
نہروں کے اوپر لگے سولر پینلز سے نیچے نہروں کو فائدہ اور اوپر سولر پینل کو پانی کی ٹھنڈک سے اس صلاحیت میں اضافے کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایسی چمکتی دمکتی شمسی نہریں انڈیا میں بہت عام ہو جائیں گی۔









