آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران اور چین کی گہری دوستی سے انڈیا کیوں پریشان ہے؟
- مصنف, سندھوواسینی
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی، دہلی
ایران اور چین میں ایک حوصلہ مندانہ معاہدہ ہوا ہے جس پر اب پوری دنیا کی نظر ہے۔ دونوں ممالک کے مابین یہ اسٹریٹجک اور تجارتی معاہدہ آئندہ 25 سالوں تک قابل عمل ہوگا۔ تاہم اس معاہدے کے چند ہی روز بعد منگل کو خبر آئی کہ ایران نے انڈیا کو چابہار ریل منصوبے سے الگ کر دیا ہے۔
تہران نے اس کی وجہ انڈیا سے فنڈ ملنے میں تاخیر بتایا ہے۔ چار سال قبل ایران اور انڈیا کے درمیان افغانستان کی سرحد پر چابہار سے زاہدان تک ریلوے لائن بچھانے کا معاہدہ ہوا تھا۔ اب ایران نے خود ہی اس منصوبے کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر کام بھی شروع کر دیا ہے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 400 ارب ڈالر کے اس معاہدے کے تحت ایران اگلے 25 سالوں تک چین کو انتہائی سستی قمیت پر خام تیل فراہم کرے گا اور اس کے بدلے میں چین ایران میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گا۔
دونوں ممالک نے خاموشی سے یہ معاہدہ ایسے وقت میں کیا ہے جب دنیا کووڈ 19 کی وبا کا سامنا کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چونکہ ایران نے چین کے ساتھ یہ معاہدہ امریکہ کی پابندیوں اور دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا ہے اس لیے اس کے دوررس اثرات کی توقع کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاہدے کا اثر نہ صرف امریکہ بلکہ انڈیا سمیت پوری دنیا پر پڑے گا۔
معاہدے میں کیا ہے؟
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق معاہدے کے آرٹیکل چھ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک توانائی، بنیادی ڈھانچے، صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں باہمی تعاون میں اضافہ کریں گے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق 'فریقین نے آئندہ 25 سالوں تک باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔'
ایران کی پارلیمان نے ابھی تک اس معاہدے کی منظوری نہیں دی ہے اور نہ ہی اسے عام کیا گیا ہے لیکن نیویارک ٹائمز نے مجوزہ معاہدے سے وابستہ 18 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز حاصل کی ہے۔ ان دستاویزات پر جون سنہ 2020 کی تاریخ درج ہے اور اسے معاہدے کا 'حتمی بلیو پرنٹ' قرار دیا گیا ہے۔
معاہدے کے آغاز میں کہا گیا ہے کہ 'دو قدیم ایشیائی ثقافتیں تجارت، سیاست، ثقافت اور سکیورٹی کے شعبوں میں یکساں نظریات کے حامل دو اتحادی، بہت سے مشترکہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی مفادات رکھنے والے ممالک چین اور ایران ایک دوسرے کو اپنا اسٹریٹجک اتحادی سمجھیں گے۔'
ان دستاویزات کے مطابق یہ سمجھوتہ کچھ اس طرح نظر آتا ہے:
- ایران کی تیل و گیس کی صنعت میں چین 280 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
- چینی فریق ایران میں پیداواری اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بھی 120 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
- ایران آئندہ 25 سالوں تک چین کو باقاعدہ طور پر انتہائی سستی قیمتوں پر خام تیل اور گیس فراہم کرے گا۔
- ایران میں 5 جی ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں چین مدد کرے گا۔
- چین بڑے پیمانے پر بینکاری، ٹیلی مواصلات، بندرگاہوں، ریلوے اور دیگر درجنوں ایرانی منصوبوں میں اپنی شرکت میں اضافہ کرے گا۔
- دونوں ممالک باہمی تعاون کے تحت مشترکہ فوجی مشقیں اور تحقیق کریں گے۔
- چین اور ایران مل کر اسلحہ بنائیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات بھی شیئر کریں گے۔
اس معاہدے سے دونوں ممالک کو کیا فائدہ ہوگا؟
مشرق وسطی کے امور کے ماہر اور خلیجی ممالک میں انڈیا کے سفیر، تلمیذ احمد کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ چین اور ایران دونوں کے لیے کئی طرح سے اہم ہے۔
ان کے خیال سے چین ایران کا اتحادی بن رہا ہے، جس کی امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب جیسے طاقتور ممالک کی شدید مخالفت ہے۔ احمد کا خیال ہے کہ جس طرح سے ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کرکے 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' ڈالا تھا کہ وہ کافی حد تک اس معاہدے سے کمزور ہوجائے گا۔
امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران میں غیر ملکی سرمایہ کاری تقریبا رک گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں چین کی وجہ سے ایران میں غیر ملکی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور ترقی زور پکڑ سکتی ہے۔ دوسری طرف، خام تیل کا سب سے بڑا درآمد کرنے والا چین، ایران سے بہت ہی سستے نرخوں پر تیل اور گیس حاصل کرے گا۔
اس کے علاوہ دفاع کے معاملے میں چین کی پوزیشن کافی مضبوط ہے۔ لہذا چین دفاعی مصنوعات کے ذریعے یا اسٹریٹیجک صلاحیت کے ذریعے ایران کی دونوں طرح سے مدد کرسکتا ہے۔
دوسری طرف چین کے لیے ایران اہم ہے کیونکہ وہ اپنے 'ون بیلٹ ون روڈ' منصوبے کو کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
اس کا انڈیا پر کیا اثر پڑے گا؟
ماہرین کا خیال ہے کہ چین اور ایران کے مابین یہ معاہدہ انڈیا کے لیے بھی دھچکہ ثابت ہوسکتا ہے۔
امریکی پابندیوں کی وجہ سے انڈیا نے ایران سے تیل کی درآمد تقریبا بند کردی ہے جب کہ چند سال قبل تک وہ انڈیا کو تیل فراہم کرنے والا اہم ملک تھا۔
اس کے علاوہ ایران میں چینی سرمایہ کاری کے نقصان کا بھی انڈیا کو سامنا ہوگا۔ انڈیا ایران میں چابہار بندرگاہ کو فروغ دینا چاہتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پاکستان میں واقع گوادر بندرگاہ کا جواب ہے۔ چابہار تجارتی اور سٹریٹیجک لحاظ سے انڈیا کے لیے بھی اہم ہے۔ ایسی صورتحال میں چین کی موجودگی سے انڈین سرمایہ کاری کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔
اس معاہدے کی وجہ سے انڈیا کے لیے صورت حال امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب بمقابلہ ایران جیسی ہو سکتی ہے۔ اور یہ انڈیا کے لیے کتنا مشکل ہوگا؟
اس سوال کے جواب میں تلمیذ احمد کہتے ہیں: 'آزادی کے بعد سے اب تک انڈیا کی خارجہ پالیسی 'اسٹریٹیجک خودمختاری' کی رہی ہے۔ یعنی انڈیا نے کسی خاص ملک یا کیمپ میں شمولیت اختیار نہیں کرتا تھا، ان کے دباؤ میں نہیں آتا تھا اور تمام ممالک کے ساتھ اپنے مفادات کے مطابق دوستانہ تعلقات رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ انڈیا کی یہ پالیسی پچھلے چند سالوں کے دوران کمزور ہوئی ہے۔ انڈیا کے ہمسایہ ممالک میں یہ تاثر موجود ہے کہ انڈیا کہیں نہ کہیں امریکی اثر و رسوخ میں ہے۔
تلمیذ احمد کے مطابق انڈیا کے مفادات ایران، روس اور چین میں ہیں۔ انڈیا کے مفادات یوریشیا میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ امریکہ اور روس کے مابین لڑائی اس کی لڑائی نہیں ہوسکتی ہے۔
دنیا کا توازن کس طرح بدل جائے گا؟
ایران اور چین کی امریکہ کے خلاف ناراضگی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایران کی وزارت سے وابستہ ادارہ انسٹی ٹیوٹ فار ٹریڈ سٹڈیز اینڈ ریسرچ نے سنہ 2012 میں اپنے ایک مضمون میں کہا تھا کہ چین اور ایران کا اتحادی ہونا فطری بات ہے کیونکہ دونوں امریکی اور مغربی ممالک کے غلبے سے ناخوش ہیں۔
دونوں ممالک کی یہ ناراضگی آج اس معاہدے کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ چین دنیا کی سب سے طاقتور معیشت ہے اور ایران مغربی ایشیا کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ یہ دونوں قوتیں مل کر 'بالادستی دکھانے والی قوتوں' (امریکہ) کے دباؤ کو ختم کردیں گی۔
ایرانی امور کے ماہر اور سینیئر صحافی راکیش بھٹ کا خیال ہے کہ چین اور ایران واقعی امریکیوں کے لیے ایک چیلنج بنیں گے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'ایران میں روس کے بعد سب سے زیادہ قدرتی گیس کا ذخیرہ ہے۔ خام تیل کے معاملے میں بھی ایران سعودی عرب کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے چین سعودی عرب کی اجارہ داری کو چیلنج کرنا چاہتا ہے اور ایران کو اس کے متبادل کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔'
تلمیذ احمد بھی راکیش بھٹ کے خیالات سے متفق ہیں۔
انھوں نے کہا: 'میرے خیال سے یہ معاہدہ سٹریٹیجک لحاظ سے بہت اہم ہے اور اس کی وجہ سے خلیجی خطے میں بنیادی تبدیلی آئے گی۔ ایران اور چین کے ساتھ آنے سے علاقے میں ایک نیا 'پاور پلیئر' ابھرا ہے۔ مشرقی ایشیا میں ابھی تک امریکہ کا ہی غلبہ رہا ہے لیکن روس بھی پچھلے کچھ سالوں میں کسی حد تک یہاں پہنچ چکا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب چین نے یہاں اس طرح اپنا قدم بڑھایا ہے۔'
تلمیذ احمد کہتے ہیں: 'امریکہ نے تجارتی جنگ جیسے اقدامات کے ذریعے چین کے خلاف جو جارحانہ رویہ اپنایا اس نے چین کو ایران کے ساتھ یہ معاہدہ کرنے پر مجبور کیا اور اب دونوں ممالک امریکہ کے سامنے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔'
ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاہدے کے بعد ایران اور امریکہ کے ساتھ مغربی ممالک کا رویہ نرم ہوسکتا ہے۔
ایران کے عوام ناخوش؟
بی بی سی مانیٹرنگ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے عوام اس معاہدے سے خوش نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پر لوگ معاہدے کے بارے میں طرح طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایران کے سوشل میڈیا میں صارفین نے # ایران ناٹ فار سیل ناٹ فار رینٹ' یعنی ایران نہ فروخت ہونے کے لیے ہے اور نہ کرایے کے لیے ہے جیسے ہیش ٹیگ کے ساتھ اسے 'چینی استعمار' کا آغاز قرار دیا گیا ہے۔
راکیش بھٹ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے بارے میں ایران کے عوام میں چین کے سابقہ ریکارڈ کی وجہ سے بھی خوف ہے۔ چینی سرمایہ کاری نے افریقہ کے کینیا اور ایشیا کے سری لنکا جیسے ممالک کو قرض میں ڈبو دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں لوگوں کو خدشہ ہے کہ ایران کی تقدیر بھی ایسی ہی ہوگی۔