آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امیتابھ کی فلم کی ریلیز پر ہنگامہ کیوں؟
- مصنف, مدھو پال
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، ممبئی
کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاوٴن کی وجہ سے انڈیا کے سنیما گھر بند پڑے ہیں۔ گذشتہ دو ماہ سے سنیما گھروں کے مالکوں کی کوئی کمائی نہیں ہو پا رہی ہے اور اب انھیں ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔
دراصل امیتابھ بچن اور آیوشمان کھرانا کی نئی فلم ’گلابو ستابو’ ریلیز ہونے کے لیے تیار تھی کہ تبھی لاک ڈاوٴن کا اعلان ہو گیا۔ فلم کے ڈائریکٹر سوجیت سرکار نے گذشتہ دنوں بتایا تھا کہ وہ اس فلم کو سنیما گھروں کے بجائے او ٹی ٹی پلیٹفارم یعنی اوور دا ٹاپ پلیٹ فارم ایمازون پرائم پر ریلیز کرنے جا رہے ہیں۔
سنیما گھروں کے مالکوں کو یہ خوف پریشان کر رہا ہے کہ اگر فلمیں او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر ریلیز ہونے لگیں تو تھیٹر بند کرنے کی نوبت آ سکتی ہے۔
گلابو ستابو کے علاوہ اداکارہ ودیا بالن کی فلم ’شکُنتلا’ بھی ایمازون پرائم پر ریلیز ہونے جا رہی ہے۔ فلم سازوں کے اس فیصلے سے سنیما گھروں کے مالک اور فلم ایکزیبیٹر سخت ناراض ہیں۔
سنیما اونرز اینڈ ایکزیبیٹرز ایسوسی ایشن کے صدر نتن داتار نے بی بی سی سے کہا ’ہم قطعی نہیں چاہتے کہ فلمیں سیدھے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر ریلیز ہوں۔ اگر انھیں ایسا قدم اٹھانا تھا تو پہلے ہمارے ساتھ مذاکرات کر لیتے۔ اس طرح بغیر بتائے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔’
انھوں نے کہا ’جس طرح فلم سازوں کا فلموں پر پیسہ لگا ہوا ہے، اسی طرح ایکزیبیٹرز نے بھی سنیما گھروں میں کافی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے بہتر ہوتا کہ وہ سب کی پریشانی سمجھتے، پھر چاہے وہ پیسوں کے بارے میں ہو یا کوئی اور پریشانی۔ پہلے مذاکرات کرتے پھر کوئی فیصلہ کرتے۔’
نتن داتار کہتے ہیں کہ ‘ایکزیبیٹرز اور فلم انڈسٹری کو حکومت سے بات کرنی چاہیے۔ چھوٹی بجٹ کی فلموں میں ہم پروڈیوسر کو کمائی کا پچاس فیصد حصہ دیتے ہیں۔ ہم نے ان کا اتنا ساتھ دیا ہے۔ اب جب ان کے ساتھ دینے کا وقت آیا تو ایسا کام کرنے سے ہمارا بہت نقصان ہوگا۔’
انھوں نے کہا ’جب دو ماہ انتظار کیا تھا تو کیا دو ماہ مزید انتظار نہیں کر سکتے تھے؟ ایسے فیصلے سے لاکھوں افراد بےروزگار ہو جائیں گے کیوں کہ تھیٹر میں چین کا نظام چلتا ہے۔ مثال کے طور پر کھانے کی کینٹین میں کام کرنے والے، پارکنگ اور صفائی میں ملوث کارکنان، سیکیورٹی ورکرز جیسے متعدد افراد کا تعلق سنیما گھروں سے ہے۔ اگر یہی حال رہا تو بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔’
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نتن داتار نے کہا ’دوسری بات یہ کہ ویب سیریز کی طرح بغیر سینسر کے فلمیں او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر آ جائیں گی۔ ہم حکومت کے ساتھ مل کر اس کا حل نکال سکتے ہیں۔ اگر دیوالی کے تہوار کے بعد ممکن ہے تو دیوالی کے بعد ہی سہی یا اور بھی انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان نکات پر سرکار سے بات کی جا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔’
اس معاملے میں ممبئی کے جی سیون ملٹی پلیکس اینڈ مراٹھا مندر سنیما کے ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر منوج دیسائی کا کہنا ہے کہ ’بڑے بجٹ کی فلموں کے ساتھ چھوٹے بجٹ والی فلمیں بھی سنگل تھیٹر میں چل جایا کرتی تھیں۔ لیکن آنے والا وقت ہمارے لیے بہت بھاری ثابت ہوگا۔
مہاراشٹرا میں کورونا کے سب سے زیادہ متاثرین ہیں، ایسے میں کچھ پتا نہیں کہ یہاں تھیٹر کب کھلیں گے۔ اس لیے جن فلم سازوں کی فلمیں مکمل طور پر ریلیز کے لیے تیار تھیں وہ اپنا نقصان کیوں کریں گے؟ وہ تو ریلیز کریں گے ہی۔’