انڈیا میں کورونا وائرس لاک ڈاؤن: سوٹ کیس پر سوتے بچے کی ویڈیو وائرل

انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں ایک بچہ سوٹ کیس پر سو رہا ہے اور اس کی ماں اس سوٹ کیس کو کھینچتی ہوئی پیدل چلی جا رہی ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق وہ ماں اور بچہ ایک چھوٹے سے گروپ کا حصہ تھے جو پنجاب سے جھانسی کی طرف جا رہا تھا جو کہ 800 کلو میٹر کا سفر ہے۔

یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ ویڈیو کب بنائی گئی اور کس نے بنائی ہے تاہم جمعرات کو کئی لوگوں اور انڈین میڈیا نے بھی شیئر کیا ہے۔

یہ ویڈیو ٹائمز آف انڈیا کہ ایک صحافی اروند چوہان نے بھی شیئر کی ہے۔

ویڈیو میں ایک شخص خاتون سے پوچھتا ہے کہ وہ کہاں جا رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’جھانسی‘

وہ پھر پوچھتا ہے کہ لاک ڈاؤن میں ریاستی حکومت کی جانب سے مہاجرین کے لیے جو بسیں چل رہی ہیں وہ اس پر سوار ہو کر کیوں نہیں چلی جاتیں، پیدل کیوں جا رہی ہیں؟ خاتون آگے سے کوئی جواب نہیں دیتی اور اپنا پیدل سفر جاری رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ملک میں اچانک لاک ڈاؤن کی وجہ سے شہروں میں پھنس جانے والے مزدوروں سے متعلق بحث جاری ہی تھی کہ اس ویڈیو کے سامنے آنے سے حکام پر مزید تنقید ہو رہی ہے۔

بعض لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ ویڈیو لاک ڈاؤن میں اپنے گھروں کو پہنچنے کی کوشش کرنے والے افراد کی جدوجہد اور مشکلات کی منہ بولتی تصویر ہے۔

اکاش بینرجی نامی صارف نے شامی تارکین وطن کے بحران کے دوران ڈوب کر ہلاک ہونے والے 3 سالہ کرد مہاجر بچے ایلان کردی کی وہ دل دہلا دینے والی تصویر شیئر کی جس میں ایلان کردی کی لاش ساحل پر اوندھے منہ پڑی ہے۔ ساتھ ہی اکاش بینرجی نے اس سوتے ہوئے انڈین بچے کی تصویر پوسٹ کی اور کہا کیا ’اس پہلے کہ بہت دیر ہوجائے ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں‘۔

نتن مونگا کہتے ہیں کہ ’جب میں اس طرح اتنے برے حالات میں بچوں کو دیکھتا ہوں تو میرا دل رنجیدہ ہوجاتا ہے۔ حکومت ان غریبوں کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔‘

آئی ایم انڈین نامی ہینڈل سے ٹویٹ کی گئی کہ ’مہاجرین کے خاندان انڈیا کی سڑکوں پر ہیں۔ کتنا ہولناک منظر ہے۔ میں شرمندہ ہوں اور مجھے افسوس ہے کہ ہم نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ مرکزی اور ریاستی حکومت دونوں ناکام ہوگئی ہیں۔‘

صحافی ساکشی جوشی کہتی ہیں کہ سب کا سر شرم سے جھک جانا چاہیے۔ انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے 20 لاکھ کروڑ کی ریلیف پیکیج پر تنقید کی اور کہا کہ ان تصویروں کے ساتھ ’حکومت کے لیے تالی نہیں بجاؤں گی‘۔

پریتی یادو کہتی ہیں کہ ’آخر کب تک مزدور یہ سب برداشت کرے گا۔ اتنا مجبور کب تک۔ سرکار کو نہیں دیکھائی دیتا یہ سب‘۔

لاک ڈاؤن کے اعلان کے ساتھ ہی بڑے شہروں میں قصبوں اور دیہاتوں سے آئے مزدور پیدل اپنے اپنے علاقوں کی طرف واپس جانے پر مجبور ہوگئے تھے۔

دلی میں ایک ڈلیوری مین کے طور پر کام کرنے والے رنویر سنگھ کی کہانی پر بھی بہت غم وغصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ اُن کے پاس اپنے گاؤں واپس جانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا اس لیے وہ پیدل مدھیہ پردیش میں اپنے گاؤں کی طرف چل پڑے اور راستہ میں اگرا کے پاس اُن کی موت واقع ہوگئی تھی۔