سی اے اے: انڈیا میں ’کورونا وائرس سے جان کو خطرہ لیکن متنازع قوانین سے وجود کو خطرہ‘

نبیہ خان

،تصویر کا ذریعہShahid Tantray

    • مصنف, مہتاب عالم
    • عہدہ, صحافی، نئی دہلی

گذشتہ برس دسمبر میں انڈین پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں متنازع ترمیمی قانون سی اے اے کی منظوری سے قبل ہی ملک کے مختلف علاقوں میں اس کے خلاف مظاہروں کا آغاز ہو چکا تھا اور یہ سلسلہ رواں سال مارچ میں ملک گیر لاک ڈاؤن سے قبل ایک روزہ ’جنتا کرفیو‘ سے کچھ دن پہلے تک جاری رہا۔

ان مظاہروں کا ایک بڑا مرکز دلی کی مختلف مسلمان آبادیاں تھیں، جن میں شاہین باغ کا نام سرِ فہرست تھا۔ شاہین باغ جلد ہی ملک بھر میں مظاہرین کے لیے ماڈل بن گیا اور اس کے طرز پر 200 سے زیادہ مقامات پر احتجاج شروع ہوگئے۔

اس وقت کورونا وائرس کی وجہ سے بھلے ہی یہ مظاہرے بند ہو چکے ہیں لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کی لڑائی ختم نہیں ہوئی کیوںکہ متازع قانون ابھی تک واپس نہیں لیا گیا ہے۔

مظاہرین کے مطابق کورونا وائرس یقیناً ایک جان لیوا مرض ہے لیکن سی اے اے، این آر سی اور این پی آر اس سے کم نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کورونا سے جہاں ایک طرف ہماری جان کو خطرہ ہے، وہیں دوسری طرف ان متنازع قوانین سے ’وجود کو خطرہ ہے۔‘ اسی لیے جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے، ’ہم ایک بار پھر زور و شور کے ساتھ ان قوانین کے خلاف سرگرم ہو جائیں گے اور ہماری جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک یہ قوانین واپس نہیں لیے جاتے۔‘

شاہین پروین، جھارکھنڈ

شاہین پروین

،تصویر کا ذریعہShaheen Praveen

26 سالہ شاہین پروین اپنے شوہر امتیاز احمد کے ساتھ رانچی کے کڈرو علاقے میں رہتی ہیں۔ گذشتہ سال جب دسمبر کے مہینے میں انڈین پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے شہریت سے متعلق متنازع ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا اور ملک بھر سے احتجاج کا سلسلہ زور پکڑنے لگا تو شاہین نے اس قانون کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پڑھ کر ایسا لگا کہ یہ قانون نہ صرف مسلمانوں اور میرے وجود کے لیے خطرہ ہے بلکہ مجھے سمجھ میں آیا کہ یہ تمام کمزور طبقات کو نشانہ بنانے کا ہتھیار ہے۔‘

اس کے بعد انھوں نے اس قانون اور اس کے مضر اثرات کے بارے میں دوسری خواتین سے بات چیت شروع کی اور اسی دوران یہ طے پایا کہ ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح شاہین باغ کے طرز پر رانچی میں بھی سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔

اس کام میں شاہین کی مدد محلے کی نوشی بیگم اور دوسری خواتین نے کی۔ شاہین نے رانچی سے فون پر بتایا ہے کہ ’پورے دو مہینے جب تک ہمارا احتجاج جاری رہا نوشی بھابھی نظامت کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ اگر وہ نہ ہوتیں تو ہمارے لیے یہ سب کرنا شاید ممکن نہ ہو پاتا۔‘

یہ بھی پڑھیے

وہ آگے کہتی ہیں کہ اس کام میں نوشی کے علاوہ میرے شوہر نے میرا ہاتھ بٹایا۔ بقول شاہین ان کے شوہر دن میں نوکری کرتے تھے اور رات میں ان خواتین کے ساتھ مظاہرے میں شریک ہوتے تھے۔

واضح رہے کہ یہ احتجاج مسلسل دن رات چلتا تھا اور بہت ساری خواتین مظاہرے کی جگہ پر ہی قیام کرتی تھیں۔

شاہین کا کہنا تھا ’میں نے ان دو مہینوں میں مشکل سے اپنے گھر پر وقت گزارا ہو گا۔ جلسہ گاہ ہی میرا گھر تھا اور وہاں کے لوگ ہی میری فیملی۔‘

کبھی ایل ایل بی کی طالبہ رہنے والی شاہین نے مزید کہا ’ہمارا احتجاج ابھی ختم نہیں ہوا کیونکہ جب تک مرکزی حکومت ان قوانین کو واپس نہیں لے لیتی ہم اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے کیوںکہ یہ قوانین ہمارے وجود کے لیے خطرہ ہیں۔‘

شاہین پروین

،تصویر کا ذریعہShaheen Praveen

’ہمیں اپنے گھر اور ملک سے بے دخل کر دینے کی سازش ہے، جس کو ہم کبھی قبول نہیں کر سکتے۔‘

غور طلب بات یہ ہے کہ ان مظاہروں کا ایک اثر یہ ہوا کہ کئی ریاستی حکومتوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنی ریاستوں میں ان قوانین کو نافذ نہیں کریں گے اور اس ضمن میں کئی ریاستی اسمبلیوں میں قرارداد بھی منظور کی گئی۔ ایسا کرنے والی ریاستوں میں جھارکھنڈ بھی ایک ریاست تھی۔

آگے کی تحریک کے بارے میں بتاتے ہوئے شاہین پروین کہتی ہیں ’ہم لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جیسے ہی لاک ڈاؤن ختم ہوگا ہم پھر سڑکوں پر ہوں گے۔ جب تک کہ یہ کالا قوانین واپس نہ لے لیا جائے۔‘

یہ پوچھے جانے پر کہ دلی اور دوسری ریاستوں میں مظاہرین کی گرفتاری کی خبر سن کر انھیں ڈر نہیں لگتا، شاہین کا جواب تھا ’ہم سوائے اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتے۔ اور ہم نے کیا غلط کیا ہے جو ہمیں ڈر اور خوف ہو؟ ہم تو اپنے حقوق کی لڑائی لڑ رہے ہیں، جو ہمارا دستوری حق اور فریضہ بھی ہے۔‘

ریحانہ سلطانہ، آسام

ریحانہ سلطانہ

،تصویر کا ذریعہNajib Mahfuz

انڈیا کے شمال مشرقی ریاست آسام کی رہنے والی ریحانہ سلطانہ کو گذشتہ سال کوئی ایک مہینے تک کسی اور کے گھر میں چھپ کر رہنا پڑا۔

گوہاٹی یونیورسٹی کی اس 29 سالہ پی ایچ ڈی سکالر کو ایسا اس لیے کرنا پڑا کیوںکہ ان کے خلاف چار مقدمات درج کیے جا چکے تھے اور یہ خدشہ تھا کہ انھیں گرفتار کر لیا جائے۔

ساتھ ہی لگاتار انھیں ریپ کی دھمکیاں بھی موصول ہو رہی تھیں۔ ریحانہ کے ساتھ ایسا اس لیے ہو رہا تھا کیونکہ وہ لگاتار نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے خلاف آواز بلند کر رہی تھیں اور اپنی بات کو مؤثر انداز میں کہنے کے لیے اپنی مقامی زبان، جو ریاست کی عام آسامی زبان سے مختلف ہے اور بنگلہ سے قریب ہے، میں احتجاجی شاعری (پروٹیسٹ پوئٹری) کر رہی تھیں۔

یہ شاعری ’میاں پوئٹری‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ دراصل آسام میں بنگلہ نژاد مسلمانوں کو تضحیک کے لیے 'میاں' بلایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ سی اے اے سے قبل این آر سی کا معاملہ پیش آیا تھا اور انڈیا میں سب سے پہلے اس کا استعمال آسام میں ہی ہوا تھا۔

اس عمل میں تقریباً 20 لاکھ افراد شہریت کی فہرست سے باہر کر دیے گئے، جس میں بنگلہ نژاد مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں بنگلہ نژاد ہندو بھی تھے۔

بعض تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان ہندوؤں کی شہریت کو برقرار رکھنے کے لیے ہی سی اے اے جیسا امتیازی سلوک پر مبنی قانون لایا گیا۔

این آر سی سے متعلق مسلمانوں میں اس لیے بھی اضطرابی کیفیت پیدا ہونے لگی کیونکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمان میں باضابطہ طور پر کہا کہ وہ پورے ملک میں این آر سی لائیں گے۔ تاہم بعد میں مرکزی حکومت کی طرف سے یہ صفائی بھی پیش کی گئی کہ ابھی پورے ملک میں این آر سی کو نافذ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

ریحانہ سلطانہ

،تصویر کا ذریعہFacebook/Rehana Sultana

اپنی روپوشی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے ریحانہ کہتی ہیں کہ ’وہ دن میری زندگی کے سب سے سیاہ دن تھے۔‘

’مجھے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کیا کروں۔ میں ایک ذہنی اضطراب میں مبتلا تھی۔ میں پوری دنیا سے کٹ چکی تھی کیونکہ مجھے اپنا فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے پڑے تھے۔‘

انھوں نے مجھے فون پر بتایا کہ ’ان دنوں میں اکثر سوچتی تھی کہ آخر میرا جرم کیا ہے؟ مجھے کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

’عورت ہونے کی وجہ سے میرے خلاف گندی افواہیں پھیلائی گئیں جس کی وجہ سے نہ صرف مجھے بلکہ میری فیملی کو بھی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔‘

ریحانہ اس وقت اپنے گاؤں میں ہیں اور لاک ڈاؤن کے درمیان غریب اور ضرورت مندوں کے ریلیف میں ان کی مدد کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد ایک بار پھر سے سی اے اے اور این آر سی مخالف تحریک کو آگے بڑھانے کی کوشش کروں گی۔‘

’ڈر اور خوف کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ اگر ہم ڈر گئے تو حکومت اور ان کے حامی اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔‘

نبیہ خان، دلی

24 سالہ نبیہ خان کا آبائی وطن لکھنؤ ہے لیکن 2011 سے وہ دلی میں مقیم ہیں۔ نبیہ گذشتہ سال تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طالبہ تھیں اور انھوں نے جامعہ سے تاریخ میں بی اے اور ایم اے کیا ہے۔

وہ اس وقت دلی کی ہی ایک نجی یونیورسٹی سے بی ایڈ کورس کر رہی ہیں۔ نبیہ طالبہ ہونے کے دنوں سے ہی سماجی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتی رہی ہیں۔ وہ دلت اور خانہ بدوش طبقات کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہیں۔

لیکن دھیرے دھیرے نبیہ کو لگنے لگا کہ مسلمانوں سے جڑے مسائل پر بھی بولنا اور سرگرم ہونا چاہیے۔

نبیہ خان، دہلی

،تصویر کا ذریعہShahid Tantray

انھوں نے مجھے بتایا کہ ’ایسا نہیں ہے پہلے مسلمانوں پر ظلم نہیں ہوتا تھا یا پھر ہمارے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی تھی۔ لیکن 2014 میں مودی حکومت آنے کے بعد اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’ملک بھر میں مسلمانوں کے ساتھ ماب لنچنگ کے واقعات (ہجومی تشدد) نے میری آنکھیں کھول دیں اور میں مسلمانوں کے مسائل پر بھی بولنے لگی۔‘

گذشتہ کچھ مہینوں میں وہ دلی کے مختلف علاقوں کے علاوہ ملک کے الگ الگ حصوں میں سی اے اے، این سی آر اور این پی آر مخالف ریلیوں اور احتجاجوں میں نہ صرف شریک ہوتی رہی ہیں بلکہ ان کو منظم کرنے میں بھی مدد کرتی رہی ہیں۔

ریحانہ کی طرح نبیہ نے بھی اپنی بات پر زور دینے کے لیے شاعری کا سہارا لیا ہے۔

حالیہ دنوں میں ان کی ایک نظم ’آئے گا انقلاب، پہن کے بندی، چوڑیاں، برقع، حجاب۔۔۔‘ بہت مقبول ہوئی۔ لیکن جیسے جیسے ان کو شہرت اور مقبولیت ملتی رہی نبیہ کی پریشانی بھی بڑھتی گئیں۔ انھیں لگاتار سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا گیا اور بنایا جارہا ہے۔

انھیں موصول ہونے والے پیغامات میں آج بھی درجنوں گالیاں، دھمکیاں ملتی ہیں اور انھیں آن لائن جنسی ہراس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ان چیزوں سے ان کے حوصلے پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ بلکہ ہر روز ان کی سرگرمیوں میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

میرے یہ پوچھے جانے پر کہ جس طرح سے ٹرولنگ ہو رہی ہے اور دلی میں سی اے اے مخالف کارکنان کی گرفتاری ہو رہی ہے، اس سے ڈر نہیں لگتا، تو نبیہ کا کہنا تھا کہ ’میں شروع سے اس کے لیے تیار تھی کیوںکہ مجھے پتا تھا کہ ان سب کی ایک قیمت ہوتی ہے۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ کچھ مہینوں میں دلی میں آدھے درجن سے زیادہ سرکردہ مسلم کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں تین خواتین بھی ہیں۔

ان میں سے ایک خاتون صفورہ زرگار تین مہینے کی حاملہ ہے۔ اس باوجود ان کی ضمانت کی عرضی مسترد کر دی گئی ہے۔

صفورہ کا تعلق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ہے اور وہ جامعہ میں ایم فل کی طالبہ ہیں۔ نبیہ صفورہ اور دیگر کارکنان کی رہائی کے لیے بھی سرگرم ہیں۔

شیبا مینائی، تلنگانہ

شیبا مینائی، تلنگانہ

،تصویر کا ذریعہShiba Minai

انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں رہنے والی 33 سالہ شیبا مینائی گذشتہ سال تک ایک فُل ٹائم صحافی تھیں۔

انھوں نے انگریزی روزنامہ ڈیکن کرانیکل کے علاوہ مائیکرو سافٹ کمپنی کے ساتھ کام کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یوں تو میں ہمیشہ سے ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہوں لیکن سی اے اے اور این آر سی جیسے قوانین کا منطور ہونا تابوت میں آخری کیل جیسا تھا۔‘

’اس کے بعد لگا کہ نہیں، مجھے اب فل ٹائم سماجی سرگرمیوں میں آنا چاہیے۔‘

وہ آگے کہتی ہیں کہ ’میں نے لوگوں کو منظم کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے مجھے تعریف اور حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ چونکہ سی اے اے مخالف ہر احتجاج میں نہ صرف میں شریک ہوتی تھی بلکہ اس کو کامیاب بنانے کی ہرممکن کوشش کرتی تھی اس کی وجہ سے میں بہت جلد پولیس کی نظر میں آ گئی اور کئی دفعہ مجھے حراست میں لیا گیا۔‘

غور طلب ہے کہ انھیں اس سال جنوری میں دوسرے کارکنان کے ساتھ گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں 65 سالہ خالدہ پروین بھی شامل ہیں۔

شیبا مینائی، تلنگانہ

،تصویر کا ذریعہShiba Minai

ان کے خلاف تعزیرات انڈیا کی دفعات 147 (فساد برپا کرنا )، 353 (سرکاری ملازم کو اس کے فرائض انجام دینے سے روکنا ) اور 341 ( غیر قانونی طور پر جمع ہونا) کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا۔

اس کے بعد بھی شیبا، خالدہ اور دوسرے افراد کو گھنٹوں حراست میں لیا جاتا رہا ہے۔ شیبا کے مطابق ان پر اور کئی سارے مقدمات ہیں اور حکومت جب چاہے ان لوگوں کو گرفتار کر سکتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جس طرح سے دلی اور اتر پردیش میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ایسے میں خدشہ تو رہتا ہی ہے لیکن اس سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں۔‘

شیبا، خالدہ اور دوسرے کارکنان ابھی ریلیف کے کام میں مصروف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی لاک ڈاؤن ختم ہوتا ہے ہم ایک بار پھر سی اے اے اور این سی آر مخالف مہم کو تیز کریں گے ’جب تک کہ یہ قوانین واپس نہ ہو جائے۔‘

بقول شیبا '’چاہے سو صفوراؤں اور شیباؤں کو جیل جانا پڑے، مشقتیں برداشت کرنی پڑیں، یہ تحریک اب رُکنے والی نہیں ہے۔ ہم بس لاک ڈاؤن کے ختم ہونے اور حالات بہتر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘