انڈیا کے چینل دوردرشن پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں اور گلگت بلتستان کے موسم کی خبریں کیوں

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

انڈیا نے گزشتہ ہفتے اپنے قومی ٹیلی ویژن دوردرشن اور آل انڈیا ریڈیو پر خبرنامے کے بعد موسم کی خبروں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے کو بھی شامل کر لیا ہے۔

ان علاقوں کے موسم کی پیش گوئی بھی اسی طرح کی جا رہی ہے جیسے ملک کے دوسرے خطوں کے موسم کا احوال بتایا جاتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کورونا کی وبا سے نبرد آزما ہے اور خود انڈیا میں کورونا کے ہزاروں مریض ہیں جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اچانک انڈیا کی طرف سے یہ قدم اٹھانے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

یہ پہلی بار ہے جب انڈیا کے محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہروں میرپور اور مظفرآباد کے موسم کی خبریں شروع کی ہیں۔ انڈیا کے محکمہ موسمیات (آئی آیم ڈی) کی ویب سائٹ پر شمال مغربی سب ڈویژن کے تحت مظفرآباد، سکردو اور وادی نیلم کے موسم کی اب روزانہ خبر دی جا رہی ہے۔

آئی ایم ڈی کے سربراہ مرتونجے موہا پاترا کا کہنا ہے کہ 'محکمہ موسمیات پورے جموں و کشمیر اور لداخ کے خطے کے موسم کی خبریں جاری کرتا ہے۔ ہم موسم کی خبروں میں گلگت بلتستان اور مظفرآباد کا ذکر کر رہے ہیں کیونکہ یہ انڈیا کا حصہ ہیں۔‘

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ فیصلہ حال ہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے گلگت بلتستان میں انتخابات کے انعقاد کی منظوری کے فیصلے کے ایک دن بعد کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے

انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے گزشتہ ستمبر میں کہا تھا پاکستان کا زیر انتظام کشمیر ’انڈیا کی ملکیت ہے اور ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ ایک دن یہ باضاطہ طور پر انڈیا کا حصہ بن جائے گا۔‘

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پاکستان کے بارے میں انڈیا کے موقف میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ انڈیا کے روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں بعض سرکاری اہلکاروں کے حوالے سے لکھا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام علاقوں کو ’انڈیا کے موسم کی خبروں میں شامل کرنے کا یہ تصور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کا ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق 'اس بارے میں ایک باضابطہ تجویز تین مہینے پہلے تیار کی گئی تھی۔ اسے قومی سلامتی کے نائب مشیر کے دفتر سے خارجہ اور داخلہ سکریٹریوں کے پاس بھیجا گیا۔ اسے انٹیلی جنس بیورو اور ریسرچ اینڈ انیلیسِس وِنگ (را) کے پاس بھی بھیجا گیا۔ اس کی حتمی منظوری تقریباً دو ہفتے پہلے آئی۔‘

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قدم کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ 'یہ میرا علاقہ ہے اور اپنے اقتدار اعلیٰ پر زور دینے کے لیے ہر قدم اٹھایا جا رہا ہے۔‘

اخبار نے ایک دوسرے اعلیٰ اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ انڈیا پاکستان اور اس کے اتحادیوں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتا ہے کہ 'اسلام آباد جموں وکشمیر کے 86 ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر غیر قانونی طور پر قابض ہے۔'

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے اس دور میں جب انڈیا اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ ہے تو حکومت نے کشمیر میں 'ڈومیسائل لا 'جیسے کئی بنیادی فیصلے کیے ہیں۔ یہ پہلو بھی اہم ہے کہ اپریل سے اب تک جموں وکشمیر میں سکیورٹی آپریشن میں تقریباً 25 شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

دلی میں دائیں بازو کے حامی ٹی وی چینلوں نے کشمیر سے متعلق حکومت کے اقدامات کی ستائش کی ہے۔ کشمیر میں شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے کمانڈر کی ہلاکت کے بعد حزب المجاہدین اور جیش محمد کے حوالے سے پاکستان ان دنوں ایک بار پھر ٹی وی چینلوں پر بحث اور خبروں میں آنے لگا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کشمیر سے متعلق اقدامات کا تعلق کورونا کی صورتحال سے بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں حکومت نے جس طرح دوسرے شہروں سے بڑِ شہروں میں آئے مزدوروں کی صورتحال کو ہینڈل کیا اور جو موجودہ صورتحال ہے اس سے حکومت کی امیج کو نقصان پہنچا ہے اور ملک کی ایک بڑی آبادی ناراض ہوئی ہے اور ان حالات میں کشمیر اور پاکستان کورونا کی مشکل صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔