کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، وزیرِاعظم عمران خان کی دفتر خارجہ کو ووہان میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد کی ہدایت

بدھ کے دوز چین کے صوبے ہوبائی میں کورونا وائرس سے ہونی والی اموات کی تعداد 242 ریکارڈ کی گئی اور اسے وبا پھوٹنے سے لے کر اب تک کا سب سے خطرناک دن کہا جارہا ہے۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی زبردست اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر 14840 افراد میں وائرس کی تشخیص کی گئی۔

دوسری طرف پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے دفتر خارجہ اور وزارت سمندر پار پاکستانیز کو ہدایات دی ہیں کہ ووہان میں پھنسے ہوئے طلبہ و طالبات کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مصائب و امتحان کے ان لمحات میں پاکستان چینی حکومت اور عوام کے ساتھ ہے اور ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ اور ہم بالکل اسی جذبے اور انداز میں چین کی ہر ممکن اخلاقی و مادی معاونت کریں گے

یہ بھی پڑھیے

ہوبائی میں لوگوں کی تشخیص کے لیے نیا معیار طے کیا گیا ہے جس کی وجہ سے متاثرہ کیسز کی تعداد میں اضافہ سامنے آیا ہے۔

بدھ کے روز سامنے آئے اضافے تک، ہوبائی میں (جہاں یہ وبا پھوٹی) تشخیص شدہ لوگوں کی تعداد مستحکم تھی۔

لیکن صوبے میں سامنے آنے والے نئے کیسز اور ہونے والی اموات کے بعد قومی سطح پر ہلاکتوں کی تعداد 1350 سے اوپر ہو گئی ہے اور اس بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 60000 کیس ہے۔

تشخیص کا نیا طریقہِ کار کیا ہے؟

ہوبائی صوبہ جہاں اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد کا 80 فیصد ہے، وہاں اب نیولک ایسڈ کے طریقے پر انحصار کرنے کے بجائے اگر کسی شخص میں علامات ظاہر ہو رہی ہیں اور سی ٹی سکین میں ان کے پھیپھڑے متاثرہ دکھائی دے رہے ہیں، تو وہ تصیق شدہ کیس سمجھا جا رہا ہے۔

ووہان میں ہونے والی 242 نئی اموات میں 135 ایسے کیس تھے جن میں صرف علامات ظاہر ہوئی تھیں اور باقاعدہ تشخیص نہیں ہوئی تھی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بیماری کی نئی تعریف کے بغیر بھی ہوبائی میں بدھ کے روز ہلاکتوں کی تعداد 107 تھی، جو ایک بڑی تعداد ہے۔

صوبے میں سامنے آنے والے نئے متاثرہ افراد کی تعداد 13332 ہے جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن میں علامات سامنے آئی ہیں۔

مجموعی طور پر ہوبائی صوبے میں اب 48206 تصدیق شدہ متاثرہ افراد موجود ہیں۔

کروز شپ پر تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

ایک کروز شپ جس پر 2000 سے زیادہ افراد موجود ہیں کمبوڈیا کی بندرگاہ پر کھڑا ہے۔ پانچ ممالک کی طرف اس خدشہ کے سبب کے اس کے کچھ مسافر وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں، اس کا رخ موڑ دیا گیا تھا۔

جاپان، تائیوان، گوام، فلپائن اور تھائی لینڈ سے انکار کے بعد ایم ایس ویسٹرڈم نامی جہاز جمعرات کی صبح کمبوڈیا پہنچا۔

ان تمام ممالک نے اس جہاز کو اپنے پاس لنگر انداز ہونے سے روک دیا تھا حالانکہ جہاز پر کوئی بھی بیمار شخص موجود نہیں تھا۔

اس دوران جاپان کے شہر یوکوہاما میں ڈائمنڈ پرنسس نامی جہاز پر 44 کیسوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔

اس اضافے کا مطلب ہے کہ جہاز پر موجود 3700 افراد میں سے 218 وائرس کے شکار ہوئے ہیں، جبکہ اب تک تمام لوگوں کی ٹیسٹنگ نہیں کی گئی ہے۔

وائرس کے متاثرین کو جہاز سے اتار کر علاج کے لیے ہسپتالوں تک لے جایا جاتا ہے جبکہ جہاز پر موجود لوگ اپنے اپنے کیبنز تک ہی محدود ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کیا کہنا ہے؟

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ وبا کے خاتمے کی پیشگوئی کرنا ’انتہائی قبل از وقت‘ ہوگا۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم نے خبردار کیا ہے کہ ’وبا کوئی بھی موڑ لے سکتی ہے۔‘

عالمی ادارہ صحت کے سربراہِ ایمرجنسی مائیکل رائن نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت چین سے باہر سامنے آنے والے 441 کیسز میں سے آٹھ کو چھوڑ کر باقی تمام میں وائرس کی منتقلی کے ذریعے کا پتہ چلانے میں کامیاب رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اس وقت اس وبا کی شروعات اور اختتام کے بارے میں کوئی بھی پیشینگوئی کرنا انتہائی قبل از وقت ہوگا۔‘

منگل کو چین کے صفِ اول کے ماہرِ وبا ژونگ نینشن نے کہا کہ رواں ماہ وبا چین میں ممکنہ طور پر اپنے عروج پر پہنچ جائے گی جس کے بعد اس کی شدت میں کمی آنی شروع ہوگی۔

دوسری جانب ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنسدان سومیا سوامیناتھن نے میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ لیبارٹری میں تیاری اور آزمائش کے لیے چار ممکنہ ویکسینز کی فنڈنگ کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ہم ویکسین تلاش کر لیں گے۔ اس میں کچھ وقت لگے گا۔ ویکسین راتوں رات تیار نہیں کی جا سکتی۔‘

وائرس کو روکنے کے لیے دیگر اقدامات

  • سپین کے شہر بارسلونا میں دنیا کی سب سے بڑی موبائل فون نمائش موبائل ورلڈ کانگریس (ایم ڈبلیو سی) کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ نمائش منسوخ کر دی گئی ہے۔
  • امریکہ میں 13 کیسز کی تصدیق ہوجانے کے بعد امریکہ کے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے ممکنہ طور پر ’امریکہ میں قدم جمانے کے حوالے سے‘ تیاریاں کر رہا ہے۔
  • سنگاپور کے سب سے بڑے بینک ڈی بی ایس میں ایک شخص کے کورونا وائرس سے بیمار ہوجانے کے بعد 300 افراد کو دفتر سے نکال لیا گیا ہے۔ تمام 300 ملازمین ایک ہی منزل پر کام کرتے تھے اور ان سب کو گھر بھیج دیا گیا۔
  • فارمولا ون کی چینی گراں پری ریس جسے 19 اپریل کو شنگھائی میں منعقد ہونا تھا، اسے ملتوی کر دیا گیا ہے۔
  • وائرس کا پھیلاؤ روکنے کا چین کا تازہ ترین اقدام سکولوں میں بچوں کی واپسی کو ملتوی کرنا ہے۔ کئی صوبوں نے فروری کے اختتام تک سکول بند کر دیے ہیں۔