سیاچن: انڈین فوجیوں کو خوراک اور کپڑوں کی کمی کا سامنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فیصل محمد علی
- عہدہ, بی بی سی ہندی
جس وقت انڈین وزیراعظم نریندر مودی دلی کے کڑ کڑ ڈوما علاقے میں انڈین فوج کی حالت سدھارنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی کمر تھپتھپا رہے تھے اسی وقت سیاچن، لداخ اور ڈوکلام میں موجود انڈین فوجیوں کو خوراک کی کمی، برف پر چمکتی تیز دھوپ سے بچنے کے لیے لگائے جانے والے خاص چشمے اور جوتے تک نہ مل پانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
18 سے 32 ہزار فٹ بلندی والے سیاچن اور دوسرے برفیلے فارورڈ پوسٹ میں جوانوں کے پاس ان چیزوں کی کمی کی بات ’کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل‘ یعنی سی اے جی کی تازہ رپورٹ میں کہی گئی ہے جسے کچھ دن پہلے ہی ایوانِ بالا میں پیش کیا گیا تھا۔
انڈیا میں سی اے جی آڈٹ کا مرکزی سرکاری ادارہ ہے۔
انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر موجود سیاچن فارورڈ پوسٹ انڈیا کے لیے حفاظی نقطتہ نظر سے بہت اہم پوسٹ ہے۔
سیاچن پر بی بی سی اردو کی خصوصی سیریز
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فوج کے سربراہ نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ سی اے جی کی رپورٹ میں 2015 اور 16 کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا ہے جو اب پرانی بات ہو چکی ہے 'میں آپکو یقین دلاتا ہوں کہ آج ہم پوری طرح تیار ہیں۔ اور ہم اس بات کو یقین بنائیں گے کہ جوانوں کی تمام ضرورتوں کا خیال رکھا جا ئے۔
فوج کے سابق میجر جنرل اشوک مہتہ نے بی بی سی سے کہا کے سی اے جی کی رپورٹ میں جو کہا گیا ہے وہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کسی بھی غیر متوقع صورتِ حال کے لیے تیار نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
حالانکہ جنرل اشوک مہتہ نے یہ بھی کہا کہ جوانوں کے پاس اس طرح کی چیزوں کی کمی پہلے بھی رہی ہے اور فوج کے پاس ہتھیاروں اور دیگر ساز و سامان کی کمی کا معاملہ واضح طور پر 1999 کی کارگل جنگ کے وقت سامنے آیا تھا۔
کارگل کے سولہ سال بعد جنرل وی پی ملک نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا تھا کہ حالانکہ حالات تب سے بہتر ہیں لیکن فوج آج بھی اسلحہ اور دیگر سازو سامان کی کمی سے پریشان ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی کے سبب فوج کو ان چیزوں کی قلت کا سامنا ہے حالانکہ حکومت ہر سال بجٹ میں فنڈز میں اضافے کا وعدہ کرتی ہے لیکن ایکسچینج ریٹ اورقیمتوں میں اضافے کے سبب فنڈز ناکافی ہوتے ہیں۔
گذشتہ دنوں مشہور انگریزی اخبار دی ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مسلح افواج کے 90 ہزار جوانوں کو پیسوں کی کمی کے سبب کئی طرح کی سہولیات نہیں مل سکیں۔
سی اے جی کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوانوں کو جو جوتے مل رہے ہیں وہ پرانے ہیں اور برف کے خاص چشموں کی کمی بھی سنجیدہ معاملہ ہے۔
سیاچن پر زندگی بہت سخت ہوتی ہے اور وہاں صحت مند خوراک اور دیگر سازو سامان کے بغیر رہنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔









