#CitizenshipAmendmentBill2019: شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے خلاف آسام میں اجتماعی بھوک ہڑتال

    • مصنف, روی پرکاش
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، گوہاٹی

انڈیا کے صدر رام ناتھ کووند کی جانب سے متنازع شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے بعد سینکڑوں افراد نے انڈین ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں اجتماعی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

دھند کے باوجود لوگوں نے صبح سویرے چھ بجے سے ہی شہر کے مرکزی چاند مری میدان میں آنا شروع کر دیا اور صبح سات بجے لوگ یہاں بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔

اس بھوک ہڑتال کی کال آل آسام سٹوڈنٹس یونین (اے اے ایس یو) کی جانب سے دی گئی ہے۔ تاہم اس میں دیگر کئی اور تنظیموں کے افراد بھی شامل ہیں۔ بھوک ہڑتال کی قیادت آل آسام سٹوڈنٹس یونین کے سربراہ سمودجل بھٹہ چاریہ کر رہے ہیں۔

انھوں نے رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر آئین کے پاسبان ہیں۔ ہمیں امید تھی کہ وہ آئینی شقوں کا خیال رکھتے ہوئے اس بل کو منظور نہیں کریں گے، لیکن انھوں نے رات کو ہی اس متنازع بل کی منظوری دے دی۔ ہمیں اس پر دکھ ہے۔‘

دوسری جانب انڈیا کی ریاست آسام کے وزیر اعلیٰ سربانند سونووال نے کہا ہے کہ ان کی حکومت شہریت ترمیمی بل (سی اے بی) کی مخالفت کرنے والے مظاہرین سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا ہے کہ ’ان کی حکومت نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج بپلاب شرما کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے ، جو آسام کی موجودہ صورتحال پر ایک رپورٹ پیش کرے گی اور اس ضمن میں آئینی حل کی تجاویز بھی پیش کرے گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس سے قبل جمعرات کو انڈیا میں شہریت کے ترمیمی بل کے خلاف آسام کے شہر گوہاٹی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان ٹکراؤ میں دو افراد کی ہلاکت ہو گئی۔

آسام کے پولیس اہلکار بھاسکر جیوتی مہنتا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ جھڑپ میں چند پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم پولیس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ ان افراد کی ہلاکت پولیس کی گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی۔

ڈی جی پی پولیس نے بتایا کہ ’دونوں افراد گولی سے زخمی ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ ہم تفتیش کر رہے ہیں کہ انہیں گولی کیسے لگی۔ متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ٹکراؤ ہوا۔ ان میں 7-8 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست کے چند دیگر علاقوں میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان ٹکراؤ اور فائرنگ کے واقعات پیش آئے ہیں۔‘

انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق آسام کے میڈیکل کالج اور ہسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص نے ہسپتال لے جائے جانے سے پہلے ہی دم توڑ دیا جبکہ دوسرے کی علاج کے دوران موت ہو گئی۔

جمعرات کو شہر میں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود جگہ جگہ لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

مظاہرین نے گواہاٹی ہائی کورٹ کے سامنے ایک بڑے میدان میں جلسہ کیا اور پر امن مظاہرہ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

حکومت بنام مظاہرین

ریاست کے وزیر اعلیٰ سرو آنند سونووال نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ حکومت نے مظاہرین کو مذاکرات کا پیغام بھیجا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے عوام سے امن کی اپیل کی ہے۔

تاہم مظاہرین کے ایک رہنما سموجل بھٹاچاریا نے بی بی سی سے کہا کہ ان کے پاس ایسا کوئی پیغام نہیں پہنچا ہے۔

سموجل نے کہا کہ ’ہم لوگ اس معاملے کے قانونی زاویے بھی معلوم کر رہے ہیں۔ ضرورت پڑی تو شہریت کے ترمیمی بل کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔ یہ دراصل آئین کے بنیادی جذبے اور آسام کے لوگوں کی پہچان کے خلاف ہے۔ ہماری تحریک اس بل کو ختم کیے جانے تک جاری رہے گی۔ ہم اپنی شناخت کو مشکل میں نہیں ڈال سکتے۔‘

اس درمیان آسام کے دس اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس پر پابندی کو سنیچر تک کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔ تین علاقوں ڈبروگڑھ، گوہاٹی اور تن سوکیا میں کرفیو بھی نافذ ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق وزارت داخلہ کے سینیئر اہلکاروں نے بتایا کہ ہمسایہ ریاست میگھالیا میں موبائل انٹرنیٹ اور میسیجنگ سروس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔