ہانگ کانگ میں احتجاج: پولیس فائرنگ سے نوجوان زخمی، 180 مظاہرین حراست میں

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے 70 سال مکمل ہونے پر منگل کے روز ہانگ کانگ میں چار ماہ سے جاری احتجاج میں پولیس کی فائرنگ سے ایک 18 سالہ نوجوان زخمی ہو گیا ہے۔

ہانگ کانگ پولیس چیف کے مطابق چین میں کمیونسٹ پارٹی کی حکمرانی کی 70 ویں سالگرہ کا دن ہانگ کانگ کا سب سے پُرتشدد اور افراتفری کا دن تھا۔ تقریباً 180 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا جبکہ 104 افراد کو ہسپتال لے جایا گیا۔

پولیس چیف سٹیفن لو کے مطابق 25 پولیس اہلکار بھی ان مظاہروں میں زخمی ہوئے ہیں۔

ایک پولیس آفیسر پر ڈنڈے سے حملہ کرنے والے تسانگ چی کن پر فائرنگ کی ویڈیو کو آن لائن شیئر کیا گیا ہے۔

گولی لگنے کے بعد گرفتار ہونے والے 18 سالہ نوجوان نے کہا ’میرے سینے میں تکلیف ہو رہی ہے، مجھے ہسپتال جانا ہے۔‘ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی حالت اب بہتر ہے۔

پولیس چیف سٹیفن لو کے مطابق گولی چلانے کا اقدام ’قانون کے مطابق اور معقول‘ تھا کیونکہ آفیسر نے محسوس کیا کہ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی زندگیاں خطرے میں تھیں۔

جب مسٹر لو سے پوچھا گیا کہ کہ گولی اتنے قریب سے کیوں چلائی گئی تو ان کا کہنا تھا ’پولیس آفیسر نے حملہ آور اور اپنے درمیان فاصلے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔‘

ہانگ کانگ میں ہونے والے احتجاج کی تصویری جھلکیاں

بیجنگ میں پریڈ کی تصویری جھلکیاں

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار میں 70 سال مکمل ہونے کے موقع پر منگل کو ملک کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک شاندار فوجی پریڈ کا اہتمام کیا گیا۔

عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد ماؤ زے تُنگ نے سنہ 1949 میں رکھی تھی جب ان کی کمیونسٹ پارٹی دوسری جنگِ عظیم کے بعد چھڑنے والی خانہ جنگی میں فاتح بن کر ابھری۔

ان کی مخالف جماعت کاؤ من ٹانگ کے سربراہ چینگ کائی شیک شکست کے بعد تائیوان بھاگنے پر مجبور ہوئے اور اس طرح دونوں ممالک کے درمیان ’اصلی چین کونسا ہے‘ کا تنازعہ شروع ہوا۔

چین کا قومی دن ہر سال منایا جاتا ہے لیکن اس بار جوش و خروش کچھ زیادہ ہے جس کی وجہ چین کا عالمی سیاست میں بڑھتا کردار اور اثرورسوخ ہے۔ 10 برس قبل چین ایک عالمی طاقت بننے کی راہ پر تھا اور آج وہ امریکہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔