آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: دنیا کی سب سے بڑی رتھ یاترا کے پیچھے کہانی کیا ہے؟
انڈیا میں جگن ناتھ پوری رتھ یاترا کا مذہبی تہوار جمعرات سے منایا جارہا ہے۔ اس کا شمار ملک میں منائے جانے والے بڑے تہواروں میں ہوتا ہے، اور یہ اس لیے منفرد ہے کہ اس میں ہندو مذہب کے تین دیوتاؤں کو ان کے مندروں سے نکال کر ایک رنگا رنگ تقریب میں یاتریوں سے ملوایا جاتا ہے۔
بی بی سی کی پریانکا پاٹھک نے اس تہوار کی روایت اور اہمیت بیان کی ہے۔
تہوار کا سب سے بڑا جلوس انڈیا کی مشرقی ریاست اڑیسہ جبکہ باقی جلوس مغربی ریاست گجرات سے نکالے جاتے ہیں۔
اس یاترا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے پرانی رتھ یاترا ہے۔ اس تہوار میں ہندو دیوتاؤں بھگوان جگن ناتھ، ان کے بڑے بھائی بالبدھر اور چھوٹی بہن سبھدھرا کی مورتیوں کو اپنے مندر سے ایک دوسرے مندر لے جایا جاتا ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ان کی ’خالہ‘ کا گھر تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس رتھ یاترا کا ذکر ہزاروں برس قبل لکھی گئی مقدس ہندو تحریروں میں ملتا ہے۔
کیا چیز اسے دلچسپ بناتی ہے؟
یہ دنیا کا واحد تہوار ہے جہاں دیوتاؤں کو مندروں سے نکال کر یاتریوں کے پاس لے جایا جاتا ہے اور یہ دنیا کی سب سے بڑی رتھ یاترا ہے۔
لاکھوں افراد وہ منظر دیکھنے آتے ہیں جب ایک ’بادشاہ‘ سنہرے جھاڑو سے راستہ صاف کرتا ہے اور 18 پہیوں پر مشتمل تین رتھ ہجوم میں آہستہ آہستہ اپنا راستہ بناتے ہیں۔
یہ رتھ 42 سے زائد دنوں میں لکڑی کے 4,000 ٹکڑوں کی مدد سے تعمیر کی جاتی ہیں جسے صرف ایک خاندان بناتا ہے، جس کے پاس اس کے موروثی حقوق ہیں۔
روایت کے مطابق جس دن یہ جلوس نکلتا ہے اس روز ہمیشہ بارش ہوتی ہے۔
تہوار کے شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل اس مندر کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان بہن بھائیوں کو سورج میں غسل کرنے سے بخار ہو جاتا ہے۔
کیونکہ بخار کے اترنے کے بعد منظر تبدیل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے اس لیے جلوس کی صورت میں انھیں اپنی خالہ کے گھر لے جایا جاتا ہے۔
ان بہن بھائیوں کے بتوں کی روایت کیا ہے؟
خوبصورتی اور احتیاط سے تراشے گئے دھات کے دوسرے بتوں کے برعکس ان بہن بھائیوں کے بتوں کو لکڑی، کپڑے اور گوند سے بنایا جاتا ہے۔ ان بتوں کے سر بڑے ہوتے ہیں تاہم ان کے بازو نہیں ہوتے جو ایک بے صبر بادشاہ کی کہانی یاد دلاتے ہیں۔
یہ روایت مختلف طریقوں سے شروع ہوتی ہے۔
پہلی روایت پوری کے بادشاہ اندرا یمنا سے متعلق ہے، جنھوں نے ہندو دیوتا کرشنا کا دل چرانے کی کوشش کی تھی۔ ان کی آخری رسومات کے بعد اسے دوارکا کے سمندر میں بہا دیا گیا تھا۔
ان کا یہ دل بعد میں ایک بت کی صورت میں قبائلی لوگوں کے پاس نمودار ہوا۔ جب بادشاہ اندرا یمنا نے کرشنا کے دل پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو وہ غائب ہو گیا تھا۔
دوسری روایت کے مطابق کرشنا کی موت کے بعد صدمے سے نڈھال ان کے بھائی بال بدھرا اور چھوٹی بہن سبدھرا ان کی آدھی جلی ہوئی میت لے کر جلدی سے دوارکا کے سمندر کی طرف گئے تھے۔ اس ہی لمحے راجہ اندریمنا نے خواب دیکھا کہ کرشنا کی لاش ایک لکڑی کی صورت میں تیرتی ہوئی ساحل سے آ لگی ہے۔
یہاں دونوں روایات مل جاتی ہیں۔ بادشاہ اندرا یمنا نے اس لکڑی کے لیے ایک مندر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا اگلا کام کسی ایسے شخص کو تلاش کرنا تھا جو اس کے لیے بتوں کو تراش سکے۔
روایات کے مطابق بھگوان کے اپنے معمار وشواکرما ایک بوڑھے بڑھئی کے طور پر وہاں پہنچے۔ انھوں نے بتوں کو تراشنے پر اتفاق کیا لیکن اس شرط پر کہ انھیں پریشان نہ کیا جائے۔ تاہم جب وہ ہفتوں تک اپنی ورکشاپ سے باہر نہیں آئے اور انھوں نے کچھ کھایا، پیا نہیں اور آرام بھی نہیں کیا تو بادشاہ نے دروازہ کھول دیا۔
اس وقت تک مورتیاں آدھی مکمل ہوئی تھیں کہ بڑھئی غائب ہو گیا۔ پھر بھی اس یقین کے ساتھ کہ یہ بت خدا کے جسم سے بنائے گئے ہیں بادشاہ نے انھیں مندر میں رکھ دیا۔
جب یہ بت وقت کے ساتھ ٹوٹ جاتے ہیں تو انھیں ہر بارہ سال کے بعد اسی نامکمل شکل میں دوبارہ بنایا جاتا ہے۔ انھیں آخری بار سنہ 2015 میں دوبارہ بنایا گیا تھا۔
دو رتھ یاترا آپس میں کیسے منسلک ہیں؟
کہا جاتا ہے کہ جس جگہ کرشنا کے جسم کو دوارکا کے سمندر میں اتارا گیا وہ انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں واقع ہے، اور ان کا جسم لکڑی کی صورت میں جس مقام پر نمودار ہوا وہ مقام مشرقی ریاست اڑیسہ میں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
آج سے تقریباً 500 سال قبل گجرات میں واقع ہنومان مندر کے ایک پجاری، شری سارنگ داس جی اڑیسہ کے تاریخی جگن ناتھ مندر میں عبادت کے لیے داخل ہوئے۔
کہا جاتا ہے کہ اس مندر کے مہمان خانے میں سوتے ہوئے انھیں جگن ناتھ دیوتا سے ہدایت ملی کہ وہ ریاست گجرات کے شہر احمد آباد واپس جائیں اور جگن ناتھ مندر میں بھگوان جگن ناتھ، بال بدھرا اور سبھدھرا کے بتوں کو نصب کریں۔
اسی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے انھوں نے احمد آباد میں جگن ناتھ مندر تعمیر کیا۔
ایسا کرنے سے انھوں نے دو مقامات کو پاک کیا۔ ایک وہ جہاں سے کرشنا کی باقیات کو مغرب میں لے جانے کا سفر شروع ہوا اور دوسرا مشرق میں جہاں ان کے جگناتھ بھگوان بننے کا عمل شروع ہوا۔
142 سال قبل شری نرسندجی مہاراج کے ایک پیروکار نے احمد آباد رتھ یاترا شروع کی۔
سفر کے بعد رتھ اور ہاتھیوں کا کیا ہوتا ہے؟
تہوار کے اختتام پر رتھ کو توڑ دیا جاتا ہے اور ان کی لکڑی مندر کے باورچی خانوں میں بطور ایندھن استعمال ہوتی ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ان باورچی خانوں میں روزانہ 56 چیزیں پکائی جاتی ہیں اور اس سے روزانہ 2000 سے 200,000 افراد تک کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔
ہاتھیوں کو اگلے سال کی رتھ یاترا تک واپس مندروں کے زیرِ انتظام علاقوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔