سری لنکا: مسلم مخالف فساد کے بعد دوسری شب بھی کرفیو نافذ، مسلمان خوفزدہ

سری لنکا میں مسیحی تہوار ایسٹر سنڈے کے بم دھماکوں کے نتیجے میں ابھرنے والے مسلم مخالف تشدد کے بعد مسلسل دوسری شب بھی ملک گیر سطح پر کرفیو نا‌فذ رہا۔

سوموار کے پر تشدد واقعات میں ایک مسلمان شخص کو چاقو مار کر ہلاک کردیا گيا جبکہ مسلمانوں کی املاک اور دکانوں کو نذر آتش کرنے کے ساتھ مساجد کی بے حرمتی کی گئی۔

پولیس نے اس معاملے میں 60 افراد کو گرفتار کیا ہے جس میں بودھ مذہب کے انتہائی دائيں بازو کے گروپ کے رہنما بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ نے امن قائم رکھنے اور 'نفرت کو مسترد کرنے' کی اپیل کی ہے۔

پولیس نے کہا شمال مغربی صوبے میں جہاں خطرناک قسم کا تشدد پھوٹ پڑا تھا منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے کے بعد کرفیو نا‌فذ کر دیا گیا۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہاں دیر تک کرفیو قائم رہے گا۔

یہ بھی پڑھیے

اس سے قبل منگل کے روز بعض علاقوں میں نافذ کرفیو کو جزوی طور پر ہٹا لیا گیا تھا۔

پولیس نے دارالحکومت کولمبو کے شمالی صوبے میں سینکڑوں فسادیوں کو پسپا کرنے کے لیے متعدد قصبوں میں ہوائی فائرنگ کرنے کے علاوہ اشک آور گیس بھی استعمال کی ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں گذشتہ ماہ 22 اپریل کو مسیحی تہوار ایسٹر سنڈے کے موقع پر اسلام پسند شدت پسندوں نے ہوٹلوں اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان حملوں کے بعد سے سری لنکا میں کشیدگی کا ماحول ہے۔

فساد کے پیش نظر کولمبو میں اقوام متحدہ کے دفتر نے سری لنکا کے حکام سے کہا ہے کہ وہ اس کے مرتکبین کو پکڑیں اور اس بات کی 'یقین دہانی کرائيں کہ صورت حال خراب نہ ہو۔' سری لنکن پولیس سربراہ چندنا وکرمارتنے نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس افسر فسادیوں کے ساتھ پوری قوت سے نمٹیں گے۔

سری لنکا کے وزیرِاعظم رانیل وکرماسنگھے نے بھی لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کی وجہ سے گذشتہ ماہ ہونے والے حملوں کی تحقیقات متاثر ہو رہی ہیں۔

سری لنکا کی دوکروڑ 20 لاکھ آبادی میں مسلمان دس فیصد ہیں جبکہ وہاں سنہالا بودھ مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہے۔

مسلمان خوفزدہ ہیں

ایک مسلمان تاجر نے بی بی سی کو بتایا کہ سری لنکا میں مسلم برادری بے یقینی اور مجرمانہ ماحول کے درمیان 'خوف کے سائے میں جی رہی ہے۔'

فسادیوں نے پیر کی رات کو کولمبو کے شمالی مضافات میں ان کی فیکٹری کو جلا کر راکھ کر دیا۔

نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر تاجر نے بتایا کہ پاس کے قصبے سے تقریبا 200 فسادی امڈ آئے اور ان کی فیکٹری کے دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔

اندر داخل ہو کر توڑ پھوڑ مچانے لگے اور چیخ و پکار میں انھوں نے ٹائر میں آگ لگا دی۔

پولیس کو چیخ و پکار پر آمادہ بھیڑ کو کنٹرول کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ بہت سے ملازمین کھڑکی کے راستے بھاگے ان میں ایک کو چوٹ بھی آئی جو 35 فیٹ سے کودا تھا۔

بالآخر سکیورٹی فورسز نے بھیڑ پر قابو پا لیا لیکن اس وقت تک وہ فیکٹری کو تباہ کر چکے تھے۔

انھوں نے کہا کہ 'وہ فیکٹری کو تباہ کر کے خوش نظر آ رہے تھے۔' ان کے مطابق ان کا سری لنکا کی کرنسی میں دسیوں لاکھ کا نقصان ہوا۔

انھیں خدشہ ہے کہ اگر سری لنکا کی حکومت ان نسلی تشدد کے خلاف احتیاطی تدابیر نہیں کرتی تو مسلمانوں پر مزید حملے ہوں گے۔

انھوں نے کہا: 'ہم خوفزدہ ہیں کہ یہ وہ سری لنکا نہیں جسے ہم پہچانتے ہیں۔'

تشدد کس طرح بھڑک اٹھا؟

دارالحکومت کولمبو کے شمالی میں واقع تین اضلاع میں زیادہ تر بدامنی مرکوز رہی۔

سری لنکا کے شمال مغربی قصبے کینی یاما کی ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کو زمین پر پھینک دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے چیلاؤ نامی شہر میں فیس بک پر شروع ہونے والی ایک بحث کے بعد فسادات میں اضافہ ہوا۔ کیتھولک عیسائی اکثریت پر مشتمل اس شہر میں مسلمانوں کی دکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق ایک 38 سالہ مسلمان کاروباری شخص کی متازع پوسٹ کے بعد تشدد کا آغاز ہوا جسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق حملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک گروپ نے ایک عمارت کی تلاشی کا مطالبہ شروع کردیا، اس سے قبل فوج نے ہتھیاروں کے لیے پاس کی جھیل کا معائنہ کیا تھا۔

سری لنکا کے جنوب مغربی علاقے پٹٹالم ضلعے میں ایک شخص چاقو کے زخموں کی تاب نہ لا سکا۔

ایک پولیس اہلکار نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: ’بھیڑ نے اس شخص کے ورک شاپ پر تیز دھار والے ہتیھار سے حملہ کر دیا۔۔۔ ان فسادات میں یہ پلی موت ہے۔'

ہیٹی پولا قصبے سے بھی تشدد کی اطلاعات ہیں جہاں کم از کم تین دکانوں کو نذر آتش کر دیا گيا ہے۔

حکومت کا ردعمل کیا رہا؟

حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے تشدد سے متاثرہ علاقوں میں امن و امان بحال کر دیا ہے اور کہا ہے کہ پولیس مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائی کو روک رہی ہے۔

سری لنکن صدر کے ایک مشیر شیرال لکھتی لکا نے بی بی سی کو بتایا: 'ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حکومت اس کو روکنے کے لیے پرعزم ہے اور آج رات کے بعد سے اس پر پورا کنٹرول حاصل کر لیا جائے گا۔'

تمام طرح کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے عوام امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ وہ سوشل میڈ یا پر افواہ کو نہ پھیلائيں۔

حکومت نے تشدد کو روکنے کے لیے فیس بک اور واٹس ایپ سمیت دیگر چیٹ ایپس پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سری لنکا کے وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے نے ایک ٹویٹ میں کہا ’میں امن برقرار رکھنے کے لیے شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ غلط معلومات پھیلانے میں ملوث نہ ہوں۔ سیکورٹی فورسز ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے انتھک کوشش کر رہی ہیں۔‘