انڈیا: انتخابی مہم کے دوران اروند کیجریوال کو ’تھپڑ‘

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں انتخابی مہم کے دوران عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال کو موتی نگر کے علاقے میں ایک نوجوان نے 'تھپڑ' مار دیا۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال پر انتخابی ریلی کے دوران حملہ کیا گیا جب وہ اپنی پارٹی کے امیدوار بریجیش گویال کے حق میں مہم چلا رہے تھے۔

سوشل میڈیا میں جاری ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سرخ شرٹ پہنے ایک جوان جیپ پر چڑھتا ہے اور کیجریوال کو تھپڑ مارتا ہے، تاہم وہ خود کو بچاتے ہوئے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

رپورٹ کے مطابق حملہ آور کی شناخت 33 سالہ سریش کے نام سے ہوئی جو کیلاش پارک کے علاقے میں سپیئر پارٹس کا کاروبار کرتا ہے۔

عام آدمی پارٹی کے کارکنوں نے حملہ آور ک قابو کر کے پولیس کے حوالے کردیا جس کے بعد اسے قریبی موتی نگر پولیس سٹیشن منتقل کردیا گیا۔

دوسری جانب دہلی میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال پر انتخابی ریلی کے دوران حملہ کی سوشل میڈیا پر مذمت کی جا رہی ہے۔

اروند کیجریوال کی جماعت عام آدمی پارٹی نے ٹوئٹر پر لکھا ’یہ اروند کیجریوال پر حملہ نہیں ہے، یہ دہلی کے مینڈیٹ پر حملہ ہے، دہلی کے لوگ 12 مئی کو اس کا موزوں جواب دیں گے۔‘

آندھرا پردیش کے وزیر اعلی این چندراباب نایڈو نے ٹویٹ کیا ’یہ واقعہ ان کی مایوسی اور شکست کا اشارہ ہے۔ میں سختی سے اس طرح کے غیر معمولی عمل کی مذمت کرتا ہوں اور دہلی پولیس جمہوری طور پر منتخب وزیراعلی کو تھپڑ مارنے کے اس عمل کی ذمہ داری قبول کرے۔‘

ممتا بینر جی نے ٹوئٹر پر لکھا ’یہ سیاسی غنڈہ گردی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں پر حملہ یہ ثابت کرتا ہے کہ بی جے پی انتخابات ہار چکی ہے اور خطرناک کوششیں کر رہی ہے۔ ہم اروند کیجریوال پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں، اروند

خیال رہے کہ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے۔ گذشتہ سال نومبر میں ایک شہری نے دہلی سیکریٹریٹ میں ان کے دفتر کے باہر ان پر مرچیں چھڑک دی تھیں۔

کیجریوال پر 2016 میں ایک شہری نے جوتا اچھال دیا تھا، اسی طرح وہ ایک اسکیم کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کر رہے تھے اور اسی دوران ایک خاتون نے ان کے چہرے پر سیاہی پھینک دی تھی۔

عام آدمی پارٹی کے سربراہ 2014 میں اسی طرح کے حملے کی زد میں آئے تھے جب ایک آٹو رکشہ ڈرائیور نے دہلی اسمبلی کے انتخابات کی مہم کے دوران انہیں تھپڑ مارا تھا اور اس وقت کیجریوال شدید تنقید کی زد میں تھے۔