آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مسعود اظہر کی موت کی خبریں انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر
- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی نیوز، اسلام آباد
انڈین میڈیا میں افواہوں کا بازار گرم ہونے سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے مابین حالات کتنے کشیدہ ہیں۔ اتوار کے روز بھی انڈین میڈیا اسی جنونیت کا شکار رہا جو گذشتہ دنوں کی نسبت زیادہ پریشان کُن تھا۔
اتوار کے روز دوپہر میں اچانک ہی متعدد انڈین ٹوئٹر اکاؤنٹس پر یہ ’خبر‘ زبان زد عام ہو گئی کہ مسعود اظہر کی پاکستان میں موت واقع ہو چکی ہے۔ اس ’خبر‘ کو دیکھتے ہی دیکھتے انڈین میڈیا نے نشر کرنا شروع کردیا اور کئی میڈیا کے ادارے جن کو اس خبر کی صداقت پر شکوک بھی تھے انھوں نے بھی بغیر تصدیق شدہ بیانات پر مبنی اس خبر کو نشر کیا۔
رشی باگری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ’مسعود اظہر ہلاک، وہ ایئر سرجیکل سٹرائیکس میں مارے گئے۔‘ انڈین میڈیا کے ادارے ٹائمز ناؤ نے اس بیان کو جاری کردیا مگر کہا کہ ابھی اس خبر کی تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ واضح نہیں ہے کہ اس قیاس کا ذریعہ کیا تھا، مگر بظاہر یہ لگتا ہے کہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا سی این این کو دیا گیا حالیہ انٹرویو اس کی جڑ بنا ہوگا۔
خبر رساں ادارے سی این این کی کرسچیان امانپور کو دیے گئے انٹرویو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر پاکستان میں ہیں اور وہ بہت زیادہ بیمار ہیں، اس حد تک کہ وہ چل بھی نہیں سکتے اور اپنے گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی این این 18 نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ مسعود اظہر کی موت دو مارچ کو واقع ہوئی اور آرمی ہسپتال اسلام آباد سے اطلاع آنے کے بعد اس کا رسمی طور پر اعلان کیا جائے گا۔
البتہ کچھ انڈین ٹوئٹر اکاؤنٹس نے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی ہلاکت کو انڈین فضائی حملے سے جوڑا اور کہا کہ پاکستانی حکام حقائق کو چھپانے کی کوشش میں اب یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ انتہائی بیمار ہیں اور اس بیماری کے باعث ان کی موت واقع ہوئی ہے۔
ٹوئٹر صارف سنجے نے کہا کہ ’بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ مسعود اظہر ہلاک ہوگئے ہیں، ان کی ہلاکت انڈین فضائیہ کی بمباری سے ہوئی۔ پاکستانی اب خوفزدہ ہیں کہ یہ خبر دہشت گردوں کو پاکستانی اسٹیبلشمینٹ کے خلاف کارروائی کرنے پر اکسا سکتی ہے، شاید اس لیے مسعود اظہر کو آہستہ آہستہ مارا جا رہا ہے اور ایسے بیانات اس کی ایک کڑی ہیں کہ ’وہ بیمار ہیں،‘ ’بہت سخت بیمار ہیں،‘ اُن کے گردے ناکارہ ہوگئے ہیں۔‘ بظاہر لگ رہا ہے وہ انڈین فضائیہ کا نشانہ بنے ہیں۔
’کانگرس مکت بھارت‘ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’غیر تصدیق شدہ رپورٹس کے مطابق انڈین فضائیہ کی بمباری کے باعث مسعود اظہر کی ہلاکت ہوئی اور پاکستانی اسٹیبلشمینٹ اس کا اعلان نہیں کررہی تاکہ وزیر آعظم مودی کی بڑھتی مقبولیت میں کہیں اور اضافہ نہ ہو جائے۔ پاکستان اس کی بیماری کا ڈرامہ کررہا ہے تاکہ بعد میں قدرتی موت کا اعلان کرسکیں۔
البتہ بعد میں انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ایک افواہ بھی ہوسکتی ہے۔
’مسعود اظہر ڈیڈ‘ انڈیا میں اتوار کی شام ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا۔ البتہ اس خبر کی پاکستان کی جانب سے فوری تردید آ گئی۔
سبوخ سید ایک پاکستانی صحافی ہیں۔ وہ گذشتہ 18 برس سے مذہبی اور عسکری تنظیموں کے بارے میں رپورٹنگ کررہے ہیں۔
سبوخ سید نے اپنے اردو بلاگ میں دعوی کیا ہے کہ مسعود اظہر کی ہلاکت کے حوالے سے انڈین میڈیا میں چلنے والی تمام خبریں بے بنیاد اور غلط ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سبوخ سید نے کہا کہ ان کی جیش محمد کے ذرائع سے بات ہوئی ہے اور انھوں نے بتایا ہے کہ مسعود اظہر ٹھیک ہیں۔
سبوخ سید نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ درست ہے کہ مسعود اظہر سنہ 2010 سے گردوں کے مرض میں مبتلا ہیں اور اس کا علاج گذشتہ نو برس سے کروا رہے ہیں مگر یہ کہنا کہ انتہائی نگہداشت حالت میں ہیں درست نہیں۔‘
’سبوخ سید نے جیش محمد کے سربراہ کا تین مرتبہ انٹرویو کیا ہے البتہ انھوں نے یہ بھی دعوی کیا وہ سنہ 2016 کے پٹھان کوٹ حملے کے بعد سے میڈیا سے رابطے میں نہیں۔
اعزاز سید بھی وہ صحافی ہیں جو جیش محمد کی قیادت سے رابطے میں ہیں اور انھوں نے بھی ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ مسعود اظہر یقیناً زندہ ہیں اور ان کی موت کے حوالے سے خبر بے بنیاد ہے۔
اعزاز سید نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی مسعود اظہر کے خاندانی ذرائع سے بات ہوئی جنھوں نے موت کی خبر کی تردید کی ہے۔ اعزاز سید کے خیال میں انڈین میڈیا نے مسعود اظہر کی بیماری کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے وہ علیل ہیں مگر بسترِ مرگ پر نہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقامی میڈیا پر بھی اس خبر کی تردید کی ہے۔
مقامی چینل پر اینکر کے اس سوال پر کہ انڈین میڈیا نے مسعود اظہر کی موت کی خبر چلا دی ہے، شاہ محمود نے کہا کہ ’ہمارے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں۔‘
سکیورٹی تجزیہ کار عامر رانا عسکری تنظیموں پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے ایسے کوئی شواہد نہیں دیکھے جو مسعود اظہر کے ہلاک ہونے کی تصدیق کریں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جنگی حالات میں افواہیں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اور لوگوں کو غلط معلومات کے حوالے سے آگاہ ہونا چاہیے۔‘.
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈین میڈیا کی ساکھ کو سب سے سنگین بحران کا سامنا ہے۔ یہ ایسا ملک ہے جہاں غلط معلومات کی وجہ سے بے شمار زندگیاں ضائع ہوئی ہیں مگر پھر بھی یہاں بنا تصدیق کے معلومات کو پھیلایا جا رہا ہے۔ ایک عمومی رائے پائی جاتی ہے کہ اس تمام محاذ آرائی میں کولیٹرل ڈیمج ہوا ہوگا اور بیشتر لوگوں کی رائے میں صحافت یقیناً اس بحران میں بری طرح متاثر ہوا ہے۔