آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا الیکشن: الیکٹرانک ووٹنگ مشینیوں پر اپوزیشن جماعتوں کو تحفظات کیوں ہیں؟
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
دنیا کی ’سب سے بڑی جمہوریت‘ کا الیکشن کمیشن اس مہینے کے آخر میں انڈیا کے سب سے بڑے انتخاب کی تاریخ کا اعلان کرنے والا ہے اور خدشات یہی ہیں کہ یہ پارلیمانی انتخابات انتہائی تلخ ہوں گے۔
تاہم انڈیا میں پارلیمانی انتخابات سے قبل حزب اختلاف کی جماعتوں نے الیکٹرانک مشین کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے طریقے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے مطابق انتخابی نظام پر مکمل بھروسے کے لیے الیکٹرانک مشینوں پر ووٹنگ کے ساتھ ساتھ ایک متبادل نظام بھی ہونا چاہیے تاکہ کسی طرح کی دھاندلی کا امکان نہ رہے۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشینز، یعنی ای وی ایم کے بارے میں وقتًا فوقتاً انڈیا کی سیاسی جماعتیں آواز اٹھاتی رہی ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کی حزب اختلاف کی 21 جماعتوں کے رہنما ای وی ایم کے خلاف ایک ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یکم فروری کو کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ’سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن میں ای وی ایم کے صحیح ہونے کے بارے میں شکوک ہیں۔ ہم (مشین کے ذریعے ڈالے گئے) ووٹوں کا ایک متبادل نظام چاہتے ہیں تاکہ لوگوں کا انتخابی نظام میں اعتبار برقرار رہے۔‘
البتہ حکمران جماعت بی جے پی ان خدشات کو شکست خوردہ جماعتوں کی مایوسی سے تعبیر کر رہی ہے۔
پارٹی کے ترجمان سودیش ورما کا کہنا ہے: ’وہ جب انتخاب میں جیتتے ہیں تو ای وی ایم کی بات نہیں کرتے، لیکن جب ہارتے ہیں تو وہ اس (کی کارکردگی) کے بارے میں سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی بھی بہت سے انتخابات ہاری ہے۔ ’اگر ای وی ایم کے ساتھ دھندلی کی جاسکتی تو ہم انتخاب کیوں ہارتے؟‘
کیا ای وی ایم کو ہیک کیا جا سکتا ہے؟
ووٹنگ مشینز کے بارے میں حزب اختلاف کے شکوک کو گذشتہ ماہ اس وقت مزید تقویت ملی جب امریکہ میں مقیم ایک ٹیکنولوجسٹ سید شجاع نے لندن میں ایک پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا کہ کا انڈیا کی ووٹنگ مشینوں کو ہیک کیا جا سکتا ہے۔ اس نے یہ بھی دعوی کیا کہ 2014 کے انتخابات میں ان مشینوں کے ذریعے دھاندلی کی گئی تھی۔
انڈیا کی عدالتوں میں ان ووٹنگ مشینوں کے استعمال کے خلاف کئی کیس بھی زیر سماعت ہیں، لیکن الیکشن کمیشن ان دعووں اور خدشات کوسختی سے مسترد کرتا رہا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ یہ مشینیں مکمل طور پر ’فول پروف‘ ہیں۔
ای وی ایم مشینیں بیٹری سے چلتی ہیں اور ان کا سافٹ ویئر ایک سرکاری کمپنی کے انجینیئرز نے تیار کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ان مشینوں اور ان کے ڈیٹا تک ان لوگوں کے علاوہ کسی کو رسائی حاصل نہیں۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں کیسے کام کرتی ہیں؟
انڈیا کے انتخابات میں لگ بھگ 16 لاکھ مشینیں استعمال ہوتی ہیں۔ ایک مشین پر زیادہ سے زیادہ 2000 ووٹ ریکارڈ کیے جاتے ہیں اور ووٹنگ کے بعد ان مشینوں کو پرانے طرز پر سیل کر کے ان پر ایک سیریل نمبر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ مشینیں پھر کاؤنٹنگ سنٹر پر حکام اور پولنگ ایجنٹوں کی موجودگی میں کھولی جاتی ہیں۔
ملک میں اب تک تین پارلیمانی اور 113 اسمبلی انتخابات ای وی ایم کے ذریعے منعقد کیے جا چکے ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ کے استعمال سے ایک پارلیمانی نشست کا نتیجہ محض پانچ گھنٹے میں سامنے آ جاتا ہے۔ اس سے پہلے ووٹوں کی گنتی میں چالیس گھنٹے تک لگ جاتے تھے۔
محقیقن نے 2017 میں ریاستی انتخابات کے حوالے سے کی گئی ایک تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ ’ووٹنگ مشینز کے استعمال سے انتخابی دھاندلی کے واقعات تقریباً ختم ہو گئے۔ اس سے غریب اور کمزور طبقے ووٹ ڈالنے کے لیے باہر آنے لگے اور انتخابات میں مقابلہ پہلے سے بڑھا۔‘ اس رپورٹ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ای ووٹنگ سے حکمران جماعتوں کے ووٹ کے حصے میں کمی آئی۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹنگ مشینوں کے ذریعے انتخابات کو مزید معتبر بنانے کے لیے مشین پر ووٹ درج ہونے کے ساتھ وہ بیک وقت کاغذ پر بھی درج ہو، تاکہ کسی تنازعے یا شک کی صورت میں مشین اور پیپر ووٹ کو ٹیلی کیا جا سکے۔