آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ ایران پر تیل کی فروخت پر پابندیاں آہستہ آہستہ لگائے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران پر تیل کی فروخت پر پابندیاں آہستہ آہستہ لگائے گا تاکہ توانائی کے شعبے کو دھچکا نہ لگے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک دم بہت زیادہ اضافہ نہ ہو جائے۔
صدر ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تیل کا معاملہ بہت دلچسپ ہے۔ ہم نے ایران پر سخت ترین پابندیاں عائد کی ہیں لیکن جہاں تک تیل کی فروخت کا معاملہ ہے ہم تھوڑا آہستہ جائیں گے کیونکہ ہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایسا ایران کے لیے نہیں کیا جا رہا ہے ۔۔۔ میں چاہوں تو ایران کی فروخت صفر کر دوں لیکن ایسا کرنے سے عالمی منڈی پر برے اثرات مرتب ہوں گے اور میں نہیں چاہتا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو۔‘
صدر ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نوٹس کریں تو کہ باوجود اس کے کہ ایران کی تیل کی فروخت آدھی ہوگئی ہے تیل کی قیمتوں میں آہستہ آہستہ کمی واقع ہو رہی ہے۔ تیل پر پابندی آہستہ آہستہ لگائی جائے گی۔‘
اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ ایران پر لگنے والی یہ پابندیاں اس پر لگائی جانے والی ’اب تک کی سخت ترین پابندیاں ہوں گی’۔ ان پابندیوں کا نشانہ ایران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے تمام ملک ہوں گے۔
امریکی فیصلے کے تحت 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد جو پابندیاں ختم ہوئی تھیں وہ دوبارہ عمل میں آ جائیں گی۔ تمام آٹھ ممالک کو وقتی طور پر ایران سے تیل کی خریداری کے لیے ان پابندیوں سے چھوٹ دی گئی ہے۔
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای ٹوئٹر پر کہہ چکے ہیں کہ امریکی فیصلہ اس کے اپنے مقام اور لبرل جمہوریت کے لیے باعث ’ذلت ہے۔‘
پابندیوں کو توڑیں گے: ایران
ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے دوبارہ عائد کی گئی اقتصادی پابندیوں کو توڑیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ 2015 میں جوہرے معاہدے کے تحت ایران کے خلاف جو پابندیاں ہٹائی گئی تھیں انھیں دوبارہ لاگو کیا جا رہا ہے۔ ان پابندیوں کا ہدف ایران میں تیل کی صنعت اور بنکاری کا شعبہ بھی ہے۔
تاہم ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ایران تیل کی فروخت جاری رکھے گا۔ اقتصادی امور کے اہلکاروں کے ایک اجلاس میں انھوں نے کہا کہ ’ہم فخر سے یہ پابندیاں توڑیں گے۔‘
وہ یورپی ممالک جو ابھی بھی جوہری معاہدے کا حصہ ہیں، کہہ چکے ہیں کہ وہ ایرانی بزنسز کی پابندیوں کے باوجود کام جاری رکھنے میں مدد کریں گے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایسا کس حد تک ممکن ہو سکے گا۔
اس سے قبل ایران میں وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اپنے اقتصادی معاملات چلانے کی صلاحیت اور علم رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا امریکہ اس طرح کے اقدامات سے کبھی اپنے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔
ایران میں پیر کی صبح اس حوالے سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ سخت گیر موقف رکھنے والے ان مظاہرین کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت بھی کی گئی۔
مزید پڑھیے
ادھر ایران کے ایک طاقتور ادارے گارڈین کونسل (شورائے نگہبان) نے پارلیمان کو ایک بِل پر دوبارہ غور کرنے کا حکم دیا جس کے تحت ایران اقوام متحدہ کی دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف معاہدے کا حصہ بن جائے گا۔
اس کا مقصد بظاہر انٹرنیشنل فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کو یقین دہانی کروانا تھا کہ ایران عالمی تقاضوں کو پورا کر رہا ہے۔
پابندیوں کی تفصیل
امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے شعبوں میں جہاز رانی، سمندری جہاز بنانے کی صنعت، مالیات اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ادائیگیوں کا نیٹ ورک ’سوفٹ‘ بھی ایران سے تعلق ختم کر دے گا اور اس صورت میں ایران بین الاقوامی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر کٹ جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل مئی میں بھی ایران پر کچھ پابندیاں دوبارہ لگا دی تھیں اور یہ پابندیوں کی دوسری کھیپ ہے۔
کون پابندیوں کی زد میں نہیں
امریکی سیکریٹری خارجہ نے ان آٹھ ممالک کا نام نہیں بتایا جنھیں وقتی طور پر پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ وہ ایران سے تیل خرید سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ان آٹھ ممالک نے ایران کے ساتھ تعاون اور اس سے تیل کی خرید میں بہت حد تک کمی کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان آٹھ ممالک میں امریکی اتحادی اٹلی، جاپان اور جنوبی کوریا بھی شامل ہیں۔ روئٹرز کے مطابق ترکی کو بھی چھوٹ دی گئی ہے۔
تاہم بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق تیل کی اس فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن ایک خاص اکاؤنٹ میں جائے گی اور ایران اس سے صرف وہ اشیا خرید سکے گا جس کی اجازت ہو گی، یعنی ایران کو اس سے نقد رقم نہیں ملے گی۔
یورپی یونین کا موقف
برطانیہ، جرمنی اور فرانس اور یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ نے ایک مشترکہ بیان میں امریکہ کی طرف سے ایران پر پابندیاں بحال کرنے کے اقدام پر ’انتہائی‘ افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جائز قانونی کاروبار کرنے والے افراد کو یورپی یونین کے قانون اور اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
ایرانی تیل کی کمی کیسے پوری ہو گی؟
واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کے مطابق گذشتہ چھ ماہ میں امریکہ نے ایران سے تیل کی درآمد صفر کے قریب لانے کی پوری کوشش کی ہے۔ تاہم وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ پانچ نومبر کو مارکیٹ سے ایران کا تیل مکمل طور پر غائب ہو جائے اور تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں۔ اس سے ایران کو فائدہ ہو گا اور امریکی اس صورتحال سے خوش نہیں ہوں گے۔
امریکہ نے ایرانی تیل کی کمی پوری کرنے کے لیے تیل کی اپنی پیداوار بڑھا دی ہے اور دوسروں کو خاص طور پر سعودی عرب سے بھی ایسا ہی کرنے کے لیے کہا ہے۔
امریکہ مظاہرہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی اقتصادی طاقت کے بل پر کیا حاصل کر سکتا ہے لیکن ایران کو اپنے پرانے ساتھیوں کی عدم موجودگی میں صرف طاقت کے بل پر تنہا کرنا ایک مشکل کام ہو گا۔