آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغان طالبان کی ملا برادر کی پاکستانی قید سے رہائی کی تصدیق
افغان طالبان کے ترجمان نے تصدیق کر دی ہے کہ 2010 میں گرفتار کیے جانے والے تنظیم کے بانی رہنماؤں میں سے ایک ملا برادر کو پاکستانی حکام نے رہا کر دیا ہے۔
ملا عبدالغنی برادر ملاعمر کے دور میں دوسرے بڑے طالبان رہنما تھے اور وہ جنوبی افغانستان میں تنظیم کی فوجی کارروائیوں کے لیے رابطہ کار تھے۔
مزید پڑھیے
پاکستانی فوج نے فروری سنہ 2010 میں ملا برادر کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی جبکہ اس وقت وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ طالبان رہنما کو کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کی رہائی کا تعلق امریکہ کی جانب سے طالبان حکومت اور جنگجوؤں کے درمیان امن مذاکرات کے لیے کی جانے والی کوششوں سے ہو سکتا ہے۔
طالبان کے ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں اس لیے رہا نہیں کیا گیا کیونکہ وہ بیمار تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بھی چاہتا ہے کہ وہ امن مذاکرات میں کردار ادا کریں۔ وہ اچھی حالت میں ہیں اور توقع ہے کہ وہ قیام امن کے سلسلے میں کردار ادا کریں گے۔‘
2014 میں افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد ملک میں طالبان کی طاقت اور رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔ رواں برس جولائی میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ طالبان حکام نے قطر میں ایک امریکی سفارتکار سے خفیہ ملاقات کی تھی۔
افغان خبر رساں ادارے طلوع نیوز کے مطابق ملا برادر کے علاوہ بھی پاکستان نے افغان طالبان کے دو سینیئر رہنماؤں کو رہا کیا ہے۔
یہ پیش رفت امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے افغانستان کے حالیہ دوروں کے بعد ہوئی ہے جن کا مقصد قیامِ امن کے لیے بات چیت تھا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستانی خفیہ اداروں کے دو اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ ملا برادر کو اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد رہا کیا گیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ملا برادر کو قطر کے وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کے دورے کے بعد رہا گیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ قطر میں افغان طالبان کا دفتر بھی موجود ہے۔
ملا برادر کون ہیں؟
ملا برادر کا تعلق پوپلزئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ افغانستان میں انتہائی بااثر سمجھا جاتا ہے اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔ اس قبیلے کے افراد سرحد کے دونوں جانب یعنی پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پشاور میں بھی آباد ہیں۔
ان کا تعلق بنیادی طورپر افغانستان کے جنوبی ضلع اورزگان سے بتایا جاتا ہے لیکن وہ کئی سال طالبان کے مرکز کے طور پر مشہور افغان صوبہ قندھار میں مقیم رہ چکے ہیں۔
ملا عبد الغنی برادر افغانستان میں طالبان کارروائیوں کی نگرانی کے علاوہ تنظیم کے رہنماؤں کی کونسل اور تنظیم کے مالی امور چلاتے تھے۔
افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے افغان طالبان کے سابق امیر ملا عمر اور ملا برادر ایک ہی مدرسے میں درس دیتے تھے اور 1994 میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین میں سے تھے۔ملا برادر طالبان دور میں ہرات صوبے کے گورنر اور طالبان کی فوج کے سربراہ رہے ہیں۔
افغانستان پر کام کرنے والے اکثر صحافیوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ملا محمد عمر نے جب افغانستان میں طالبان تحریک کا آغاز کیا تو ملا برادر ان چند افراد میں شامل تھے جنھوں نے بندوق اٹھا کر طالبان سربراہ کا ہر لحاظ سے ساتھ دیا اور تحریک کی کامیابی تک وہ ان کے ساتھ ساتھ رہے۔
تاہم جب طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو ان کے پاس کوئی خاص عہدہ نہیں تھا۔ بعد میں انھیں ہرات کا گورنر بنا دیا گیا۔
ملا برادر طالبان تحریک میں اہم فوجی کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ طالبان کے آرمی چیف بھی رہ چکے ہیں۔ طالبان نے سنہ 1998 میں جب افغان صوبے بامیان پر قبضہ کیا تو اس حملے کے وقت ملا برادر طالبان کے کمانڈر تھے۔
یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے طالبان کمانڈروں کےلیے ایک کتابچے کی صورت میں ضابطۂ اخلاق بھی تحریر کیا تھا جس میں جنگی گرُ ، قیدیوں اور غیر ملکیوں سے سلوک اور دیگر طریقے بتائے گئے ہیں۔