HisChoice#: ’اب آزاد پرندے کی طرح ہوں، شادی کا خیال چھوڑ دیا ہے‘

وہ انتہائی یادگار رات تھی کیونکہ 28 سالوں میں پہلی بار میں نے کسی خاتون کا لمس محسوس کیا تھا اور اس سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ وہ عورت میری بیوی کی بجائے ایک جسم فروش تھی۔ میری خواہشات پوری ہو رہی تھیں، لہذا میں خوش تھا۔

وہ تجربہ ایک ہفتے تک میرے ذہن میں گردش کرتا رہا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ میں کسی اور ہی دنیا میں ہوں اور ایسا ہوتا بھی کیوں ناں؟

میری اب تک شادی نہیں ہو سکی تھی۔ میرے شہر گجرات میں مردوں کے تناسب میں خواتین کی تعداد کم ہے اور تناسب کے اسی فرق نے مجھ جیسے بہت سے نوجوانوں کو شادی سے محروم رکھا ہے۔

میرے والدین کو بہت کچھ سننا پڑ رہا تھا۔ مثال کے طور پر، 'اگر آپ کا بیٹا سرکاری ملازمت کر رہا ہوتا تو حالات مختلف ہوتے لیکن پرائیوٹ کمپنی کا کیا بھروسہ؟' اور 'آپ کے پاس زیادہ زمین جائیداد بھی نہیں ہے!'

میں اس وقت مہینے میں 8،000 روپے کماتا تھا۔ میں گھر کا بڑا بیٹا تھا اور میری شادی بھی کہیں طے نہیں ہو رہی تھی۔ میرا خیال تھا کہ اگر کہیں بھی رشتہ طے ہو جاتا تو معاشرے میں ہماری عزت رہ جاتی۔

یہ بھی ایک عجیب بات تھی کہ میرے دوست نیرج (تبدیل شدہ نام) کی شادی ہو گئی جبکہ اس کی تنخواہ مجھ سے کم تھی۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ نیرج کے والد 20 ایکڑ زمین کے مالک تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ہم چار دوست شراب پینے کے لیے اکثر قریبی شہر جایا کرتے تھے۔ شاید میرے ایک دوست نے اس دن میری پریشانی بھانپ لی تھی۔

گلاس میں بیئر ڈالتے ہوئے اس نے کہا: 'ابے اتنا پریشان کیوں ہوتا ہے؟ چل میرے ساتھ! اگر تو شادی کرے گا تو بھی اتنا مزہ نہیں آئے گا۔ دیکھ تو دنیا کتنی رنگین ہے؟ اس کا مزا لے، تو چل میرے ساتھ۔'

میں کہیں جانے کے خيال پر متحیر تھا لیکن میرا دوست مجھے راضی کرنے لگا۔ بالآخر ہم ایک ہوٹل گئے۔

میں نے کئی بلیو (جنسی) فلمیں دیکھ رکھی تھیں، لیکن حقیقی زندگی میں کسی عورت کے ساتھ پہلی بار تھا۔ پھر کیا تھا، ہوٹلوں میں جانا میری عادت بن گئی۔ پانچ سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ جنسی سکون کے لیے یہ ایک آسان طریقہ تھا۔

لیکن ایک دن اس کی خبر میرے والد تک پہنچ گئی۔ ان کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا۔

ہاتھ اٹھا نہیں سکتے تھے، اس لیے چیخ چیخ کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 'تمہیں شرم نہیں آئی ایسا کرتے ہوئے۔ اپنی ماں اور بہن کے بارے میں تو ایک بار سوچا ہوتا، وہ لوگوں کو کیا منھ دکھائیں گی؟'

ماں اور بہن دوسری طرف رو رہی تھیں۔ بہن کے سسرال والوں کو بھی یہ بات پتہ چل گئی۔

میں نے کہا کہ دوستوں نے شراب پلا دی اور ہوٹل لے گئے۔ میں نشے میں تھا اس لیے پتہ نہیں کہ کیا ہو گیا۔ پھر اپنی غلطی کی معافی مانگی۔

'تو پھر اتنے برسوں تک ایک ہی غلطی کیوں دہراتا رہا؟' اپنے والد کے اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بہن اور بہنوئی علیحدہ ڈانٹ رہے تھے۔ ان کی باتیں سن کر ایسا لگتا تھا جیسے میں نے ایک سنگین جرم کیا ہے۔ کسی کا خون کیا ہے۔

تین دن تک میرے والد نے مجھ سے بات نہیں کی اور تیسرے دن براہ راست کہا: 'تمہارے لیے ایک بیوہ کا رشتہ آیا ہے۔ اس کا پانچ سال کا بیٹا ہے، لیکن لڑکی اچھے گھر سے ہے۔'

'لڑکی کے والد کو تمہاری ان حرکتوں کا علم ہے لکین وہ شادی کے لیے تیار ہے۔ تمہاری عمر ہو چکی ہے۔ اب تم 31 کے ہو۔ یہ رشتہ منظور کر لو۔'

'اب تو تم اچھا پیسہ کما لیتے ہو۔ گھر بسا لو۔ ہم بھی خوش ہوں گے۔'

لیکن مجھے تو کوئی دوسری پسند آ چکی تھی۔ وہ اس ہوٹل میں کام کرتی تھی جہاں میں جسم فروشوں کے لیے جایا کرتا تھا۔ وہ ہاؤس کیپینگ کا کام کرتی تھی۔ کم پیسے کماتی تھی لیکن اس میں عجیب کشش تھی۔ جب وہ مسکراتی تو بے حد خوبصورت نظر آتی تھی۔

لیکن وہ بھی میرے اعمال سے ناراض تھی۔ اس نے مجھ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ جب اس نے کسی دوسرے سے شادی کر لی تو میں صدمے میں چلا گیا۔

مجھے ادھورا پن محسوس ہونے لگا۔ کسی ایسے کی کمی محسوس ہونے لگی جو میرے جذبات کو سمجھے اور زندگی بھر میرے ساتھ رہے۔ اب شادی کی کمی کھلنے لگی تھی۔

گھر کے لوگوں کو بھی دوسروں سے ملنے جلنے میں دشواری ہو رہی تھی تو میں نے گھر چھوڑ دیا لیکن دو ہفتوں کے بعد میں والدین کے بلانے پر واپس آ گیا۔

میری شادی کے بارے میں سوال جوں کا توں تھا اور گھر کے لوگ پریشان تھے۔ ہمارے معاشرے کو انھی سوالوں میں زیادہ مزہ آتا ہے جو زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہیں۔

اس بار میں نے ہمیشہ کے لیے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ نیا شہر، نئے لوگ لیکن میری عادتیں وہی پرانی۔ کبھی پڑوس کی عورت تو کبھی پاس کے شہروں میں جا کر دل بہلایا۔

کئی بار تو میرے باس بھی ساتھ ہوتے۔ انھیں مجھ پر بہت اعتماد تھا۔ آج میں 39 سال کا ہوں لیکن تنہائی محسوس نہیں کرتا۔

شادی کے جو خواب سجائے تھے وہ بیوی کے ساتھ نہ سہی لیکن دوسری عورتوں کے ساتھ پورے کیے۔ زندگی رواں دواں ہے۔ اب تو گھر والوں نے بھی سمجھوتہ کر لیا ہے اور چھوٹے بھائی نے ایک قبائلی عورت سے شادی کر لی ہے۔

میں اب کسی آزاد پرندے کی طرح ہوں۔ شادی کا خیال چھوڑ دیا ہے کیونکہ یہ 'طرزِ زندگی' مجھے راس آ رہی ہے۔

آج میری تنخواہ 40،000 روپے ماہانہ ہے۔ تھوڑا بہت میں دوسرے ذرائع سے بھی کما لیتا ہوں۔ چیزوں کی کوئی کمی نہیں ہے لہذا کوئی تاسف بھی نہیں ہے۔

اگر شادی ہو جاتی تو پتہ نہیں زندگی کیسی ہوتی۔ آج میں سماج کے لعن طعن سے کوسوں دور ہوں اور میری آزاد زندگی بہتر ہے۔

(یہ کہانی ایک شخص کی زندگی پر مبنی ہے جس سے بی بی سی کے صحافی رشی بنرجی نے بات کی۔ ان کی شناخت پوشیدہ رکھی گئی ہے اور اس سیریز کے پروڈیوسر سوشیلا سنگھ ہیں)