یورپی ممالک ایرانی جوہری معاہدہ قائم رکھنے کے لیے پرعزم

امریکہ کی جانب سے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے اعلان کے باوجود اس معاہدے میں شامل دیگر مغربی طاقتوں نے کہا ہے کہ وہ اسے قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا کہنا ہے کہ وہ ’بقیہ فریقین کے ساتھ مل کر کام کریں گے‘۔

انھوں نے امریکہ پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس عمل میں رکاوٹ نہ ڈالے۔اس معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک میں چین اور روس شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے اعلان کے بعد ایرانی صدر کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک امریکہ کے بغیر بھی اس جوہری معاہدے پر قائم رہے گا اور وہ اس حوالے سے چین، روس اور دیگر یورپی ممالک سے مشاورت کریں گے۔

صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی حکومتوں کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہماری حکومتیں پرعزم ہیں کہ یہ معاہدہ برقرار رہے اور ہم بقیہ فریقین کے ساتھ کام کرتے رہیں تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ حالات ایسے ہی رہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ایران کے صدر نے امریکی صدر کے اعلان کے بعد قوم سے ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ عوام اس فیصلے کے معاشی نتائج کی فکر نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب سے یہ معاہدہ ایران اور پانچ ممالک کے درمیان ہے اور ہم کسی فیصلے کا اعلان کرنے سے قبل چند ہفتے انتظار کریں گے اور 2015 کے معاہدے میں شامل دیگر ممالک برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، چین اور یورپی یونین کے ساتھ بات کریں گے۔‘

حسن روحانی نے مزید کہا کہ ’ہمیں یہ دیکھنے کے لیے انتظار کرنا ہو گا کہ پانچ عظیم ممالک کیا کرتے ہیں۔‘

انھوں نے اس بارے میں کہا کہ ’اگر ہمارے مفادات کو نظر میں نہ رکھا گیا تو میں لوگوں سے بات کروں گا اور انھیں ان فیصلوں سے آگاہ کروں گا جو لیے جا چکے ہیں۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران امریکی صدر کے اس فیصلے کے جواب میں یورینیئم کی ’لامحدود‘ افزودگی دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے ایرانی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کو مستقبل میں کارروائیوں کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے تاکہ ہم لامحدود صنعتی افزودگی دوبارہ شروع کر سکیں۔‘

ایرانی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کو ’ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ‘ قرار دیا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ان کا ملک 2015 میں ہونے والے ایران جوہری معاہدے سے نکل رہا ہے اور اب ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'ہم سخت معاشی پابندیاں عائد کریں گے۔ کوئی بھی ملک جو ایران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کے مقاصد میں مدد کرے گا، اسے بھی امریکہ کی جانب سے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ وہ 2015 میں ہونے والے معاہدے کے تحت ایران پر سے اٹھائی جانے والی معاشی پابندیاں دوبارہ سے عائد کریں گے۔ تاہم امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں چھ ماہ بعد نافذ کی جائیں گی جبکہ دیگر پابندیوں کا نافذ 90 دن کے بعد ہو گا۔

بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ اس جوہری معاہدے کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو محفوظ رکھنا تھا لیکن اس معاہدے نے ایران کو یورینئیم کی افزودگی جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

جوہری معاہدہ کیا ہے

یہ جوہری معاہدہ ایران اور سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممالک اور جرمنی کے درمیان طے پایا تھا۔

  • ایران یورینیم کی پانچ فیصد سے زائد افزودگی روک دے گا اور درمیانے درجے تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ناکارہ بنائے گا۔
  • آراک کے مقام پر بھاری پانی کے جوہری منصوبے پر مزید کام نہیں کیا جائے گا۔
  • جوہری ہتھیاروں کے عالمی ادارے کو نتنانز اور فردو میں واقع جوہری تنصیبات تک روزانہ کی بنیاد پر رسائی دی جائے گی۔
  • ان اقدامات کے بدلے میں چھ ماہ تک جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے ایران پر کوئی نئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔
  • قیمتی دھاتوں اور فضائی کمپنیوں کے سلسلے میں پہلے سے عائد کچھ پابندیاں معطل کر دی جائیں گی۔
  • ایران کو تیل کی فروخت کی موجودہ حد برقرار رہے گی جس کی بدولت ایران کو چار ارب بیس کروڑ ڈالر کا زرِمبادلہ حاصل ہو سکے گا۔