انڈیا میں بغیر انجن کی ایک ٹرین میلوں تک چلتی رہی

انڈیا کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں 22 بوگیوں پر مشتمل ایک بغیر انجن والی ٹرین 11 کلو میٹر تک ٹریک پر واپس چلتی رہی۔

اس ٹرین پر تقریباً ایک ہزار مسافر سوار تھے اور وہ ٹرین اس وقت رکی جب ریلویز کے عملے نے پٹڑیوں پر پتھر رکھ کر رکاوٹ پیدا کیں۔

اس واقعے میں کسی بھی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ اس غلطی پر انڈین ریلویز نے اپنے سات ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ انڈیا میں ریلوے کا بڑا نیٹ ورک ہے اور تقریباً نو ہزار ٹرینوں پر روزانہ سوا دو کروڑ افراد سفر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

موبائل فون پر تیار اس واقعے کی ایک ویڈیو میں لوگوں کو اس وقت چیختے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب ٹرین ایک پلیٹ فارم سے گزرتی ہے۔

محکمۂ ریل کے ایک ترجمان جے پی مشرا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ معطل کیے جانے ملازمین نے پروٹوکول کی تکمیل نہیں کی اور اس بارے میں تحقیقات کا حکم دے دیا گيا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جب کوئی گاڑی انجن سے علیحدہ کی جاتی ہے تو اس میں بریک لگائے جاتے ہیں اور اس معاملے میں اس میں غلطی ہوئی ہے یا پھر بھول سے بریک نہیں لگائے جا سکے۔

جے پی مشرا نے کہا: 'ایسی صورت میں کوئی بڑا سانحہ ہو سکتا تھا لیکن مستعد سٹاف کی کوششوں سے کوئی حادثہ رونما ہونے سے بچ گیا۔‘

خیال رہے کہ انڈیا میں ایسے واقعات غیرمعمولی نہیں ہیں۔ ہر چند کے ریلوے سے لاکھوں افراد روزانہ سفر کرتے ہیں تاہم اس کے بہت سے پرزے اور مشینیں پرانی ہیں۔

گذشتہ سال نومبر میں ہندوستانی کسانوں کا ایک گروپ جب صبح کو بیدار ہوا تو معلوم چلا کہ ان کی ٹرین غلط سمت میں 160 کلو میٹر تک نکل گئی تھی۔

اس سے قبل اگست کے مہینے میں شمالی ریاست اترپردیش میں ایک ٹرین پٹڑی سے اتر گئی جس کے نتیجے میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔