سلمان خان کو کالے ہرن کے غیر قانونی شکار کے جرم میں پانچ سال قید

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا کی ریاست راجستھان کی ایک عدالت نے نایاب کالے ہرنوں کے غیر قانونی شکار کے مقدمے میں معروف فلم اداکار سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالت کے فیصلے کے بعد انھیں جودھ پور کی سنٹرل جیل پہنچا دیا گیا ہے اور سیشن کورٹ میں ان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت جمعے کی صبح ہو گی۔
سلمان خان کو دو نایاب ہرنوں کے شکار میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے سلمان خان کو دس ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے علاوہ سیف علی خان، تبو، سونالی بیندرے اور نیلم بھی ملزمان تھے تاہم ان سب کو بری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مقدمے میں انھیں زیادہ سے زیادہ چھ برس قید کی سزا ہو سکتی تھی اور اس سزا کی استدعا سرکاری وکیل کی جانب سے بھی کی گئی تھی۔
تاہم سلمان خان کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے موکل کو تین برس سے کم سزا دی جائے کیونکہ اس صورت میں انھیں عدالت سے ہی ضمانت مل سکتی تھی تاہم پانچ برس سزا کی صورت میں انھیں ہر حالت میں جیل جانا ہو گا۔
نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا کہ جس وقت سلمان خان کو مجرم قرار دیا گیا اس وقت عدالت میں سلمان کے ساتھ ان کی بہنیں کھڑی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سماعت کے موقع پر جودھ پور کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کے باہر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ عدالت کے باہر لوگوں کے ہجوم اور میڈیا کو دور رکھنے کے لیے رکاوٹیں لگا دی گئی تھیں۔
ہرنوں کے شکار کا معاملہ 1998 کا ہے۔ سلمان خان، سیف علی خان، تبو، سونالی اور نیلم فلم 'ہم ساتھ ساتھ ہیں' کی شوٹنگ کے لیے جودھ پور میں تھے۔ سلمان خان پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک گاؤں کے نزدیک نایاب نسل کے دو چنکارا ہرنوں کا شکار کیا۔
شکار کے وقت مبینہ طور پر دوسرے اداکار بھی ان کے ساتھ تھے۔ 20 برس پرانے اس مقدمے کا فیصلہ 28 مارچ کو محفوظ کیا گیا تھا۔
سلمان خان اسی کیس سے متعلق آرمز ایکٹ کے تحت ایک دیگر معاملے میں پانچ برس کی سزا ہوئی تھی اور انھوں نے نے ایک ہفتہ جیل میں بھی گزارا تھا ۔ لیکن بعد میں راجستھان ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کر دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا ذریعہAFP








