چین ہماری سوچ سے بھی آگے ہے: انڈین آرمی چیف

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گزشتہ سال ہی بھارتی فوج کے سربراہ وِپن راوت نے کہا تھا کہ انڈیا ایک ساتھ دو محاذوں پر جنگ کرنے کا اہل ہے اور ان کے اس بیان کو چین اور پاکستان کے میڈیا میں کافی توجہ ملی تھی لیکن اب وپن راوت نے چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق بدھ کے روز وپن راوت نے کہا ہے کہ چین اپنی اقتصادی طاقت کے ساتھ ساتھ فوجی طاقت بھی بڑھا رہا ہے اور امریکہ تک کو چیلنج کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ چین ہماری سوچ سے آگے ہے۔
وپن راوت جو کل تک دو محاذوں پر ایک ساتھ لڑنے کی بات کر رہے تھے ان کا ایسا بیان خود بھارتی فوج کی طاقت پر سوالیہ نشان ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ابزرور ریسرچ فاونڈیشن کے سوشانت سرین کہتے ہیں کہ پارلیمان کے سامنے فوجی سربراہ نے کہا تھا کہ فوج کا 68 فیصد سازو سامان پرانا ہو چکا ہے اور فوج کو جدید بنانے میں درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا تھا۔ ایسے میں ان کے اس طرح کے بیانات کا کیا مقصد ہے۔
سوشانت سرین کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ چین اور پاکستان کی بڑھتی دوستی سے انڈیا کو دو جانب سے خطرہ ہے لیکن کیا بھارتی فوج کی تیاری اس سطح کی ہے۔اور اگر ہے بھی تو کیا دو مورچوں سے سامنا کرنا مناسب ہوگا یا پھر سفارتی طریقہ اپنانا چاہئیے۔ان حالات میں فوجی سربراہ کو بیانات سے پرہیز کرنا چاہئیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انکا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھارتی فوج کے سربراہ بیان بازی سے دور رہتے تھے لیکن راوت صاحب زیادہ ہی بیان دیتے ہیں اب معلوم نہیں کہ وہ خود ایسا کرتے ہیں یا پھر حکومت ان سے بیان دینے کو کہتی ہے جو بھی ہو یہ ملک کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ پچھلے ہفتے گلوبل انڈیکس 2017 کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 133 ممالک کی فہرست میں فوجی طاقت کے لحاظ سے انڈیا چوتھے نمبر پر ہے صرف روس امریکہ اور چین ہی اس سے آگے ہیں لیکن اس رپورٹ کے بعد سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ آئی جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ برآمد کرنے والا ملک ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پچھلے پانچ سالوں میں بھارت میں اسلحہ کی برآمد میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے اور بھارت سب سے زیادہ روس اور اس کے بعد امریکہ سے اسلحہ خریدتا ہے۔اور مبصرین کو تشویش ہے کہ اس دوران بھارتی فوج میں جو ریسرچ اور جدید کاری کی جانی تھی وہ نہیں ہوئی اور بھارت کو اپنی فوجی ضرورت کا سامان حود ہی بنانا چاہئیے تھا وہ اسے بہت بڑی ناکامی تصور کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوشانت سرین کا کہنا ہے کہ جب دنیا میں حالات بدلتے ہیں تو دوسرے ممالک سے دوستیاں اور دشمنیاں بھی بدلتی ہیں اب چونکہ ہمارا ساٹھ سے ستر فیصد فوجی سامان روس سے آتا ہے اور اگر مستقبل میں روس کی نییت بدلتی ہے تو ہم کیا کریں گے۔
2014 میں جب مودی حکومت آئی تو دفاع کے شعبے میں بھارت کو خود انحصار بنانے کے لیے میک ان انڈیا پروگرام شروع کیا گیا لیکن بات اگے نہیں بڑھی۔







