ممبئی کا سفر، ایک دیرینہ خواب کی تعبیر

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi
- مصنف, عمر آفریدی
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس، لندن
ممبئی سے میرا رشتہ روحانی ہے۔
ریس کورس، گودی (پورٹ)، سیوڑی، مدن پورہ اور حاجی علی درگاہ جیسے مقامات سے میرا غائبانہ تعارف بچپن میں ہی ہوچکا تھا۔
پاکستان کی خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ میں میرے دادا باغ شاہ آفریدی کے حجرے میں مقامی اکابرین آتے تو تنازعات پر بحث کے علاوہ ممبئی کا ذکر بھی ہو جاتا۔

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi
ممبئی والوں کا مزاج
ہم بچے یہ باتیں غور سے سنتے اور چائے کی پیالیوں کو اس وقت تک بھرتے رہتے جب تک مہمان اپنی پیالی الٹی نہ کرتا (سیدھی پیالی کا مطلب مزید چائے)۔
بزرگوں کے بقول ممبئی والے نرم مزاج اور احترام سے پیش آنے والے لوگ تھے۔

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi
دادا جنگ عظیم اوّل کے قصے بھی سناتے جن میں لندن، فرانس اور بیلجیئم کا ذکر آتا۔
یوں میں نے ممبئی، فرنگیوں اور لندن کا ایک تصور بنا لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لندن کئی برس پہلے بی بی سی کی ملازمت کے سبب دیکھ لیا تھا اور ممبئی گزشتہ نومبر جانا ہوا جب بی بی سی ہندی سروس کے ساتھ ڈیجیٹل صحافت کی تربیت کے لیے دلی جانا ہوا۔

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi
ممبئی کے 'اصل خان'
تقسیمِ ہند سے پہلے بہت سے قبائلی روزگار کے لیے ممبئی کا رخ کرتے تھے۔
کئی قبائلیوں نے مقامی عورتوں سے شادیاں کیں۔ بعض 'ہندوستانی' بیویوں کو گاؤں لے آئے، کچھ وہیں کے ہو رہے۔

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi
میں تعلیم کے لیے کراچی گیا تو والد سے بھی ممبئی کا ذکر سنا۔ روزگار کی تلاش انھیں 1940 میں بارہ برس کی عمر میں ممبئی لے گئی تھی۔ بارہ آنے یومیہ دیہاڑی ملتی تھی۔ تیراہ میں تعلیم تھی اور نہ ہی مالی استطاعت۔ ممبئی میں نوکری کے ساتھ مدن پورہ کے ایک سکول میں خود ہی داخل ہو کر کچھ پڑھنا لکھنا سیکھا۔ کہتے تھے کم عمر بچوں کے ساتھ بیٹھنے سے شرم آتی تھی۔ وہ 1953 میں کراچی منتقل ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi
انگریز کا انصاف
ایک بار والد صاحب نے بتایا کہ ایک صبح ریس کورس کے گیٹ پر چوکیدار تھے۔ آٹھ بجے سے پہلے کسی کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کے بقول مہاراجہ کشمیر دس منٹ پہلے پہنچ گئے اور گیٹ کھولنے کو کہا۔ میرے والد کے انکار پر انگریز سیکریٹری سے شکایت کر دی۔ تاہم سیکریٹری نے یہ کہہ کر انھیں خاموش کر دیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔
غالباً ایسے ہی واقعات عام لوگوں میں انگریزوں کی انصاف پسندی کی شہرت کا باعث بنے ہوں گے۔ بڑے بوڑھے اکثر کہتے تھے 'انصاف تو انگریز کرتے تھے!'
ممبئی میں پخیر راغلے
میرے رشتے کے ایک چچا نے ممبئی میں بھی شادی کی تھی۔ بس اتنا معلوم تھا کہ وہ ممبئی کی ایک پرانی بستی سیوڑی میں رہتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi
یہ حسنِ اتفاق ہے کہ وہاں ایک بند دکان پر خان آٹوز لکھا دیکھا تو ٹیکسی سے اتر کر ایک دکاندار سے پٹھانوں کا پوچھا۔ پتہ چلا کہ آگے بائیں مڑ کر پٹھانوں کی مسجد ہے۔
مغرب کی نماز کے بعد امام مسجد سے پٹھانوں کا پتہ کیا تو انھوں نے ایک ادھیڑ عمر شخص کی طرف اشارہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi
مذکورہ شخص نے پہلے زیادہ گرمجوشی نہیں دکھائی۔ میں نے رشتے کے چچا، ممبئی میں ان کی شادی، اور تیراہ کا ذکر کیا۔ کہنے لگے: 'پشتو آتی ہے؟'
پشتو میں میرے جواب پر یکدم گرمجوشی آگئی۔ کہنے لگے تم آفریدی تو کھڑی بولی بولتے ہو۔ پھر خود بھی وہی لہجہ اپنا لیا۔
سید شاہجہان کے والد سوات سے ممبئی گئے تھے۔ ان کے بقول ممبئی کے تمام پٹھان تِتربتر ہوچکے ہیں۔ بوڑھے رہے نہیں اور نوجوان پختونولی جانتے نہیں۔

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi
چچا پہلے ہی انتقال کر گئے تھے، بیٹے کہیں اور جا بسے تھے۔ البتہ کئی ٹیلی فون کرکے چچا کے ایک سالے سے بات کروائی۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ کھانے اور رات رکنے کی دعوت دی۔ میں نے شکریہ کے ساتھ معذرت کرلی۔
ممبئی میں مادری زبان میں بات کرنے کا لطف ہی اور تھا۔ ساحلی شہر ہونے کی وجہ سے ممبئی کراچی جیسا لگا اور پشتو میں بات کرکے تو رہی سہی اجنبیت بھی جاتی رہی۔ اور ممبئی کو بھی کراچی جیسا ہی غریب پرور شہر پایا۔
اور یہ تو بتانا بھول ہی گیا کہ جس شہر میں میرے والد نے بارہ آنے یومیہ اجرت پر کام کیا، 77 برس بعد اسی شہر کے ایک بڑے مہنگے ہوٹل میں میرا قیام رہا۔








