انڈیا: ایلِیفینٹا کے غاروں میں چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے صنم

جزیرہ ایلِیفینٹا کے غاروں میں قدرتی چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے صنم ممبئی کے قدیم باسیوں کی دیوی دیوتاؤں سے عقیدت کا اظہار ہے۔

ایلِیفینٹا غار

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi

،تصویر کا کیپشناس جزیرے کا قدیم نام گھراپوری یعنی غاروں کی بستی تھا۔ لیکن جب سولہویں صدی میں پُرتگالی یہاں پہنچے تو انھوں نے ساحل پر ہاتھی کے ایک بڑے مجسمے کو دیکھ کر اس کا نام ایلِیفینٹا رکھ دیا (تحریر و تصاویر: عمر آفریدی)
ایلِیفینٹا غار

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi

،تصویر کا کیپشنانڈین شہر ممبئی سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جزیرہ ایلِیفینٹا کے ان غاروں کے بارے میں ماہرین آثارِ قدیمہ کا خیال ہے کہ ان کی تعمیر پانچویں سے ساتویں صدی عیسوی کے دوران کی گئی
لارڈ شیوا کا مجسمہ

،تصویر کا ذریعہumer afridi

،تصویر کا کیپشنجزیرہ ایلِیفینٹا میں کل سات غار ہیں جن میں سے بعض کے اندر چٹان کو نہایت نفاست کے ساتھ دیوی دیوتاؤں کے مجسموں کی شکل دی گئی ہے۔ ان میں ہندو دیوتا شیوا کا مجسمہ سب سے نمایاں ہے
ایلِیفینٹا غار

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi

،تصویر کا کیپشنخیال ہے کہ اپنی اصل حالت میں یہ مجسمے دلکش رنگوں میں رنگے ہوئے تھے
ایلِیفینٹا غار

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi

،تصویر کا کیپشنکہا جاتا ہے کہ سولہویں صدی میں جب پُرتگالی یہاں آئے تو انھوں نے کئی مجسموں کو مسخ کر دیا اور غاروں کو نقصان پہنچایا۔
ایلِیفینٹا غار

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi

،تصویر کا کیپشن26 دسمبر 1909 کو آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا نے ان غاروں کو قومی ورثہ قرار دے کر ان کی بحالی کا کام شروع کیا
ایلِیفینٹا غار

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi

،تصویر کا کیپشنجزیرے کا یہ ساتواں غار ہے جسے بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں
ایلِیفینٹا جزیرہ

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi

،تصویر کا کیپشنممبئی سے دس کلومیٹر دور بحیرۂ عرب میں واقع جزیرۂ ایلِیفینٹا کے یہ غار سطح سمندر سے خاصی بلندی پر واقع ہیں
ایلِیفینٹا غار

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi

،تصویر کا کیپشنپہاڑی نما اس جزیرے پر ان سیاحوں کے لیے ڈولی کا بندوست ہے جو چڑھائی نہیں چڑھ سکتے
گیٹ وے آف اِنڈیا

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi

،تصویر کا کیپشنجزیرۂ ایلِیفینٹا کے لیے لانچ گیٹ وے آف انڈیا سے ملتی ہے۔ یہ یادگار برطانوی بادشاہ جارج پنجم اور ملکہ میری کی 1911 میں انڈیا کے دورے کی یاد میں تعمیر کی گئی ہے۔ 1948 میں آخری انگریز فوجیوں کو بھی یہیں سے رخصت کیا گیا تھا۔