آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: تمل ناڈو کے فوٹو سٹوڈیوز کے ذریعے تاریخ میں جھانکنے کا منصوبہ
- مصنف, پرامیلا کرشنن
- عہدہ, بی بی سی تمل
ایک زمانہ تھا جب کوئی تقریب فوٹوگرافر کے بغیر شروع نہیں ہوتی تھی۔ انڈیا کے جنوبی شہر چنائی کے 78 سالہ فوٹوگرافر بالاچندرا راجو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب تقریب کے منتظمین اس وقت تک تقریب کا آغاز نہیں کرتے تھے جب تک فوٹوگرافر نہ آ جائے۔'
بالاچند راجو اپنے خاندان کے تیسرے نسل کے فوٹوگرافر ہیں اور چنائی میں واقع ستھیام سٹوڈیو کے لیے کام کرتے ہیں۔
'لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جس کے ہاتھ میں فون آ جائے وہ تصویر لے سکتا ہے۔'
ڈیجیٹل دور میں اب فوٹو سٹوڈیو کا استعمال کم سے کم ہوتا جا رہا ہے اور وہ تقریباً معدوم ہونے کے قریب ہیں۔ لیکن ایک ایسے وقت میں جب وہ اپنی دکانیں چلانے میں دشواری کا سامنا کر رہیں ہیں، ایک تحقیقی منصوبے کے تحت ان فوٹو سٹوڈیوز کی تاریخ زندہ رکھنے کے لیے ان کی پرانی تصاویر کو کمپیوٹر پر منتقل کرنے کا کام بھی جاری ہے۔
برٹش لائبریری کے تعاون سے جاری اس منصوبے کے تحت جنوبی انڈین ریاست تمل ناڈو کے 100 سے زائد فوٹو سٹوڈیوز کا دورہ کیا گیا اور ان کے پاس موجود 10000 پرانی تصاویر کو ڈیجیٹائز کیا گیا۔
ان میں سے بیشتر تصاویر 1880 اور 1980 کے درمیان لی گئی تھیں اور یہ عام عوام، ان کی گھریلو زندگیاں، خوشی اور غم کے مواقع، اور معروف شخصیات کی تصاویر پر مشتمل ہیں۔
اس منصوبے پر کام کرنے والی محقق زوئی ہیڈلی نے کہا کہ یہ اس طرز کا انڈیا میں پہلا منصوبہ ہے۔ 'اس منصوبے کے تحت ہم تاریخ میں جھانک سکتے ہیں اور معلوم کر سکتے ہیں کہ انیسوی صدر میں تمل ناڈو کیسا تھا۔'
ایک اور محقق رمیش کمار نے کہا کہ یہ منصوبہ فوٹوگرافرز کے لیے'سونے کی کان' ہے۔ 'اب تک کی جانے والی تحقیق میں ہم یہ معلوم کر چکے ہیں کہ اُس دور میں تصویر کشی کی مختلف تکنیک کیا تھیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس منصوبے پر کام کرنے والے محققین کو تحقیق کرتے ہوئے کئی دفعہ تصاویر کبھی سٹوڈیو میں الماریوں میں بند ملیں یا کبھی ان کے اوپر رکھی ہوئی۔ رمیش کمار نے کہا کہ 'کسی نے بھی ان تصاویر کو صاف کرنے کی زحمت نہیں کی اور 'تمل ناڈو کے گرم موسم اور ہوا میں نمی کی وجہ سے بہت سی تصاویر خراب ہو گئی تھیں۔'
ستھیام سٹوڈیو چنائی میں 1930 سے لے کر آج تک آر کے مٹ روڈ پر ہی قائم ہے۔ باہر سے فوٹو کاپی شاپ دکھنے والی دکان کے اندر دیواروں پر معروف بالی وڈ اداکارہ ہیما مالنی کی تصاویر، تمل اداکاروں کی تصاویر اور انڈیا کے سابق صدر وی وی گیری کی تصویر لگی ہوئی ہیں۔
سٹوڈیو چلانے والے آنندھ راجو نے اس دکان کو اپنے والد کے بعد سنبھالنا شروع کیا تھا۔
انھوں نے بتایا: 'اس کاروبار میں اب کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جب میرے دادا نے یہ کام شروع کیا تھا تو وہ شاہوں کی طرح رہتے تھے۔'
آنندھ راجو نے کہا کہ 'مجھے نہیں پتا کہ یہ تحقیقی منصوبہ میرے سٹوڈیو کو کچھ فائدہ دے گا یا نہیں لیکن جب ان محققین نے میرے سٹوڈیو میں چند گھنٹے گزارے تو میں نے ان کو پرانی تصویریں دیکھتے ہوئے خوشی سے سرشار دیکھا تو مجھے لگا کہ انھوں نے ان تصاویر کو ایک اور موقع دیا ہے۔'