انڈیا: لڑکی کو چھیڑنے کے الزام میں مسلم نوجوان پر برہنہ کرکے تشدد

انڈیا کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے بوکارو ضلع میں ایک مسلم نوجوان کو پیٹے جانے کا پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے متعلق مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہے۔

بوكارو میں نائب پولیس سپرنٹنڈنٹ پونم منز نے بی بی سی کو بتایا: 'ہجوم کے ہاتھوں ایک نوجوان کی پٹائی کے متعلق مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزمان کی شناخت کر کے انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔'

انھوں نے کہا: 'ابھی تک اس معاملے میں کوئی گرفتاری نہیں ہوسکی ہے۔ جبکہ پولیس ویڈیو میں نوجوان کو پیٹنے والے تین افراد کی شناخت کر لی ہے۔'

ہجوم کے نرغے میں آنے والا نوجوان شاکر بوکارو ضلع کے كٹھارا گاؤں کے ایک کمپیوٹر سینٹر میں کام کرتا ہے۔

تشدد کا یہ واقعہ پیر کی صبح رونما ہوا تھا جب ایک ہجوم نے شاکر پر حملہ کیا۔ ویڈیو میں لوگ شاکر کو برہنہ کرکے پیٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

پونم منز نے بتایا: 'پولیس کو ایمرجنسی نمبر 100 پر کال کے ذریعے حملے کی اطلاع ملی تھی اور جائے واقعہ پر پہنچے پر پولیس اہلکاروں نے نوجوان کو بھیڑ سے چھڑا کر ہسپتال میں داخل کرایا ہے۔'

شاکر انصاری کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک نابالغ لڑکی نے شاکر کے خلاف شکایت کی ہے اور چھیڑ چھاڑ کے الزام لگائے ہیں جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

جبکہ شاکر کے اہل خانہ کا کہنا ہے شاکر پر حملہ مذہبی منافرت کا نتیجہ ہے اور مارنے والے تمام لوگ دوسری کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

جبکہ سماجی کارکن ندیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اس معاملے کو دوسرا رخ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر کوئی لڑکی ہے تو پہلے وہ سامنے نہیں آئی ہے۔ شاکر نے صبح اپنی دکان کھولی ہی تھی کہ آدھے گھنٹے میں ہی ایک ہجوم نے آ کر اسے پیٹنا شروع کر دیا۔'

حالیہ دنوں میں بھارت میں بھیڑ کے ہاتھوں حملوں کے کئی واقعات ہو چکے ہیں جن میں حملوں کے زیادہ تر شکار اقلیتی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے افواہ پھیلائی جاتی ہے اور لوگوں کو بہانہ بناکر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ فلاں 'بچہ چور' گروپ سے ہے تو فلاں گائے کی سمگلنگ کر رہا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہجوم کا شکار ہونے والے کو کسی نہ کسی طرح قصور وار ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔