آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خلیج فارس میں’ایرانی جہازوں نے امریکی جہاز کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا‘
اطلاعات کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی بحری جہازوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں حالیہ دنوں متعدد سنگین واقعات پیش آئے ہیں۔
امریکی حکام نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ایرانی بحری جہاز آبنائے ہرمز میں امریکہ کے میزائل تجربات پر نظر رکھنے والے جہاز کے قریب آئے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سنیچر کو ایرانی پاسدران انقلاب کے بحری جہاز امریکی جہاز کے چھ سو میٹر قریب پہنچ گئے۔
ایک امریکی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا ہے کہ ایرانی بحری جہازوں نے امریکی جہاز کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا۔
اہلکار کے مطابق ایرانی بحری جہازوں نے امریکی اور دوسری بحری جہازوں کے درمیان آنے کی کوشش کی۔
امریکی اہلکار کے مطابق وراننگ کے لیے فائرنگ یا روشنی کے گولے نہیں پھینکے گئے جبکہ اس سے پہلے رونما ہونے والے واقعے میں خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی اہلکار کے مطابق اس طرح کا واقعہ بالکل غیر محفوط اور غیر پیشہ وارانہ ہے۔
امریکی حکام کے مطابق تین دن پہلے ہی ایرانی بحریہ کا جہاز اسی امریکی جہاز کے قریب آیا تھا۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز میں یہ واقعات ایک ایسے وقت پیش آئے ہیں جب گذشتہ ماہ امریکہ نے ایران پر میزائل تجربات کرنے کی وجہ سے پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
دونوں ممالک کے تعلقات میں امریکی صدر ٹرمپ کا عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد کشیدگی آئی ہے۔
گذشتہ برس اگست میں بھی امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا تھا کہ خلیج فارس میں اس کے جنگی بحری جہاز کو اس وقت ایرانی بحری جہاز کو خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی جب وہ اس کے دو بحری جہازوں کے قریب پہنچ گیا۔
امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق خلیج میں متعدد سنگین واقعات پیش آئے ہیں اور حالیہ واقعہ ان میں سے ایک ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور اومان کے درمیان ایک تنگ بحری راستہ ہے جو سمندر کے راستے خام تیل کی تجارت کرنے والے تقریباً ایک تہائی ممالک کو ایک راستہ فراہم کرتا ہے۔