آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
'قید اور کرفیو میں کشمیریوں کو یوم جمہوریہ کی مبارک باد'
انڈيا میں جمعرات کو 68ویں یوم جمہوریہ کی تقریب منائی گئی جس میں ابو ظہبی کے شہزادے محمد بن زید النہیان ملک کے خصوصی مہمان تھے۔
اس موقع پر انڈیا میں سوشل میڈیا پر#Republicday ٹرینڈ کر رہا ہے۔
ایک طرف لوگ ایک دوسرے کو 68 ویں یوم جمہوریہ کی مبارکباد پیش کر رہے ہیں تو کچھ لوگوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی گلابی پگڑی کے بارے میں تبصرے کیے۔
راجندر موریہ نے لکھا: 'کرنسی نوٹوں پر پابندی کے بعد منعقد ہونے والی یوم جمہوریہ کی پہلی تقریب کے موقع پر مودی نے 2000 روپے کی گلابی نوٹ کا استقبال کرنے کے لیے گلابی پگڑی پہنی ہے۔'
ایسی ٹویٹ بھی ہیں جو آپ کو اس دن کے بارے میں اور زیادہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
کافر نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا: 'آج کے دن مودی جی کو ایک مسلم ٹوپی پہننی چاہیے تھی۔ وہ آج کی پریڈ میں راجستھانی پگڑی پہنے ہوئے ہیں اور یہ کہیں سے بھی سیکولرازم نہیں لگتا۔'
یوگیش شرما نے غربت کی بات کرتے ہوئے لکھا: 'ریڈ لائٹ سگنل پر کچھ بچوں کو انڈین پرچم فروخت کرتے ہوئے دیکھا، ذہن میں آیا کہ غداری کا الزام انھیں پر لگا دوں۔ یہ کیا جانیں جمہوریت کی آزادی۔'
شان ہند نے لکھا: 'حکومت کی مخالفت میں بولنا غداری نہیں ہوتی ہے۔ یہ حب الوطنی ہوتی ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا ملک بکھر جائے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنکیت بھالےراؤ نے لکھا: 'انڈیا کے سب سے بڑے دن کی خوشی منانے کے لیے دبئی سے ہمارے مہمان آئے ہیں۔'
شجاع كمالی نام کے ایک ٹویٹر ہینڈل نے لکھا: 'آج کے دن بھارت کو کشمیریوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کے بارے میں یاد دلانا چاہتے ہیں، اندھے بچے، روتی بلکتی مائیں اور بکھرے ہوئے خاندان۔'
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی ٹویٹ کے جواب میں کشمیر نامی ایک ٹویٹر ہینڈل نے طنز کرتے ہوئے لکھا: 'قید اور کرفیو میں رہنے والے کشمیری لوگوں کو یوم جمہوریہ کی نیک خواہشات۔'