’بڑھتی ہوئی قوم پرستی پریشانی کا باعث‘

انڈیا میں ویل چیئر استمعال کرنے والے ایک معذور کارکن کو اس وقت مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب وہ سینیما ہال میں قومی ترانہ بجنے پر کھڑے نہیں ہو سکے۔

اس واقعے کے بعد انڈیا میں بڑھتی ہوئے جارحانہ قوم پرستی پر تنقید کی جا رہی ہے۔

معذور کارکن سلل چترویدی سنہ 1984 سے ہی وہیل چیئر استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ آخر سینیما ہال میں کیا ہوا ہے، ان کی ہی زبانی سنئیے۔

بھارت میں ویل چیئر کا استعمال کرنے والوں کے لیے سینیما جانا آسان نہیں ہے۔ میں نے اپنی بیوی مونیکا کے ساتھ بڑی سکرین والے تھیٹر میں کم ہی جا پاتا ہوں۔ تین مہینوں کے دوران ہم ایک بار ہی اس کے لیے ہمت کر پاتے ہیں۔

کچھ جگہوں تک رسائی آسان ہوتی ہے اور کچھ جگہوں تک رسائی غیر ضروری طور پر مشکل ہوتی ہے۔

چند ماہ پہلے اس اتوار کو سینیما ہال جانا ہماری منصوبہ بندی میں شامل تھا۔

میں كبالي دیکھنے کے لیے انتہائی پرجوش تھا جو کہ انڈیا کے سپر سٹار رجنی کانت کی تازہ ترین فلم تھی۔

میں نے اس سے قبل رجنی کانت کی کوئی فلم سینیما ہال میں نہیں دیکھی تھی۔

میں اپنی مخصوص گاڑی جس میں آٹو میٹک گیئر اور جسے ہاتھوں کی مدد سے چلایا جاتا ہے میرے لیے خاص طور پر بنائی گئی ہے۔

اس اتوار کو گوا میں بارش ہو رہی تھی اور موسم بہت خوبصورت تھا۔

ہم پنجم شہر اور سینیما تھیٹر سے 12 کلومیٹر دور كوراو جزیرے میں رہتے ہیں۔

پنجم میں ہمیں ایک دوست ملے اور ہم تینوں وہاں کے اينكس تھیٹر میں دوپہر کا شو دیکھنے پہنچے۔

فلم دیکھنے جانا ہمیشہ ایک اچھی منصوبہ بندی کو پورا کرنے جیسا ہوتا ہے۔ جب ہم سینیما ہال پہنچے تو مونیکا سب سے پہلے ان لوگوں کی متلاشتی تھیں جو ٹارچ کی روشنی میں لوگوں کو ان کی سیٹ تک پہنچاتے ہیں۔

اس دوران میں آنے والی فلموں کے پوسٹر دیکھتا رہتا رہا اور لوگ مجھے بے چین نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔

کچھ چھوٹے بچے میری جانب دیکھتے ہوئے اپنے ماں باپ سے پوچھتے کہ وہ آدمی کرسی پر کیوں بیٹھا ہوا ہے؟

اس دوران مونیکا دو لوگوں کو ڈھونڈ کر انھیں سمجھاتی ہے کہ وہ کس طرح مجھے سینیما ہال میں میری نشست تک پہنچا دیں۔

مونیکا ان لوگوں سے یہ درخواست عام لوگوں کے لیے سینیما ہال کا گیٹ کھولنے سے پہلے کرتی ہے تاکہ ہم آسانی سے اپنی سیٹ تک پہنچ سکیں۔

اس کے بعد ہم اپنی اپنی نشستوں تک پہنچ گئے، اسی دوران سینیما ہال لوگوں سے بھر چکا تھا۔

فلم شروع ہونے سے پہلے قومی ترانہ بجنے لگا اور ہر کوئی سنیما ہال میں کھڑا ہو گیا۔

یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب میں خود کو اکیلا محسوس کرتا ہوں کیونکہ اس وقت صرف میں ہی سنیما ہال کی نشست پر بیٹھا ہوا ہوتا ہوں۔

میرے پیچھے بیٹھے کچھ لوگ تیز آواز میں ترانہ گا رہے تھے اور میں ان کے جذبے کی تعریف کر رہا تھا۔

اچانک میرے سر پر پیچھے سے تیز جھٹکا لگا، میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ آدمی مجھے کھڑے ہونے کا اشارہ کر رہا تھا۔

میں سکتے میں آ گیا اور پھر سے سکرین کی جانب دیکھتے ہوئے قومی ترانہ مکمل ہونے کا انتظار کرنے لگا۔

مجھے غصہ آ رہا تھا لیکن میں نے اپنے بارے میں سوچا، میرے ہاتھ کانپنے لگے تھے۔

جب قومی ترانہ ختم ہوا تو میں نے اپنی سیٹ سے واپس مڑ کر اس شخص سے کہا 'آپ اپنی زندگی میں چین سے نہیں رہ سکتے؟'

اس شخص کا دوست میرے اوپر چیخا 'تم قومی ترانہ کے وقت بھی کھڑے نہیں ہو سکتے۔'

میں نے اسے جواب دیا 'دیکھو تمہیں میری کہانی معلوم نہیں ہے، تمہیں زندگی میں امن سے رہنا سیکھنا چاہیے، لوگوں پر جسمانی حملے نہیں کرنے چاہئیں۔'

مونیکا حیرت سے ہم لوگوں کو دیکھ رہی تھی کہ کیا ہوا کیا ہے؟ میرے دوست کو بھی کچھ معلوم نہیں تھا کہ آخر ہوا کیا؟

جب مونیکا نے ہٹ کا لفظ سنا تو اسے غصہ آ گیا۔

وہ چیخی ’کیا تم نے میرے شوہر کو مارا ہے‘ ؟ پیچھے سے ایک اور خاتون چلائی، 'وہ قومی ترانہ بجنے کے وقت کھڑا کیوں نہیں ہوا؟'

مونیکا نے چیختے ہوئے جواب دیا، 'کیا تم جانتے ہو کہ یہ معذور ہے؟' اس نے غصے میں کچھ برا بھلا بھی کہہ دیا۔

اس شخص کو اپنی غلطی کا فوری احساس ہو گیا، اس نے مجھ سے معافی مانگی، لیکن وہ عورت میری بیوی سے الجھی رہی۔ میں یہی سوچ رہا تھا کہ خدایا ایسا نہ ہو، ہم فلم انجوائے کرنے آئے تھے۔

اس دوران ایک شخص ٹارچ جلا کر ہماری جانب آیا اور کہنے لگا کہ آپ آرام سے فلم دیکھیں کیونکہ باقی لوگ بھی ڈسٹرب ہو رہے تھے۔

وہ عورت اس شخص سے پوچھ رہی تھی کہ کیا منیجر سینیما ہال میں موجود ہے، جس پر اس شخص نے اس عورت بیٹھنے کو کہا۔

مونیکا نے مجھ سے پوچھا، 'کیا تم ٹھیک ہو؟'

میں نے جھوٹ بولا ' میں ٹھیک ہوں۔' میں نے اس سے کہا پلیز فلم دیکھو، اگرچہ میں اپنے گھر واپس جانا چاہتا تھا۔

اچانک میرے پیچھے بیٹھا ہوا جوڑا سینیما ہال سے نکل گیا جس کی وجہ سے مجھے تھوڑی خوش محسوس ہوئی۔

اس دن رجنی کانت مجھے اپنی طرف متوجہ نہیں کر پائے کیونکہ میری توجہ بار بار میرے پیچھے والی کرسی پر جا رہی تھی جو خالی ہو گئی تھی۔

میں سوچ رہا تھا کہ وہ آدمی اس نتیجے پر کب پہنچا ہوگا کہ وہ میرے سر پر مار سکے؟ وہ یہ کس طرح جانتا ہو گا کہ میں اسے مار نہیں سکتا؟

کیا اس شخص نے کچھ سوچا ہوگا؟

کیا اپنے ملک (جو کہ میرا بھی ہے) کے ساتھ میری محبت اتنی تھی کہ کسی کو بھی مارنے میں اسے کوئی خرابی نہیں لگی ہو گی؟

اگر اگلی بار ایسا ہو تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟

کیا مجھے سینیما ہال میں اپنے پیچھے بیٹھے لوگوں کو پہلے بتانا چاہیے کہ میں معذور ہوں اس لیے قومی ترانے کے دوران کھڑا نہیں ہو سکتا؟

کیا مجھے ایسا کوئی بیج پہنناچاہیے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ میں معذور ہوں؟

کیا سینیما ہال میں قومی ترانہ چلانا چاہیے؟

فلم ختم ہونے کے بعد ہم سینیما ہال کے خالی ہونے کا انتظار کرتے رہے تب مونیکا وہیل چیئر لینے گئی اور پھر وہ ان ٹارچ جلانے والوں کو ویل چیئر نیچے لانے کے لیے تلاش کرنے لگی۔

وہ لوگ ہمیشہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ مجھے اوپر بٹھا کر گئے تھے اور اب مجھے نیچے بھی لانا ہے؟

اگلی صبح میں نے اپنے گھر کے قریب ایک سکول کے بچوں کو قومی ترانہ پڑہتھے سن رہا تھا۔

میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا ان کی معصوم آوازوں کو سن رہا تھا جن میں فخر موجود تھا۔

میں نے مقامی اخبار کے ایڈیٹر کو خط لکھا اور سینیما ہال کی انتظامیہ کو ای میل بھیجی۔

میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ سینیما ہال میں ایک سلائیڈ چلائیں جس میں اپیل کی گئی ہو کہ وہ دوسروں کو زبردستی کھڑے ہونے کے لیے مت کہیں۔