آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کس کی صحافت زیادہ آزاد، انڈیا یا پاکستان؟
انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں دونوں ملکوں کے باشندوں میں ایک اور حریفانہ چشمک بھی جاری ہے۔ اور وہ یہ کہ کس کا میڈیا زیادہ آزاد ہے؟
دہلی کے صحافی شووم وج بتاتے ہیں کہ یہ مباحثہ بذات خود ستم بالائے ستم کے مترادف ہے۔
پاکستانی اخبار ڈان حکومت اور فوج کے درمیان واضح فرق پر مبنی اپنی خبر پر قائم ہے، تاہم انڈیا اور پاکستان میں بہت سے لوگوں نے شواہد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی میڈیا انڈین میڈیا کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔
دریں اثنا انڈیا کے سب سے زیادہ لبرل کہے جانے والے چینل این ڈی ٹی وی نے قومی سلامتی کے پیش نظر انڈیا کے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کا انٹرویو نشر نہیں کیا۔ اطلاعات کے مطابق چدمبرم نے انڈیا کی مبینہ سرجیکل سٹرائیکٹس پر سوال اٹھایا تھا۔
این ڈی ٹی وی کی شریک بانی اور چیئرمین رادھیکا رائے نے اپنی آن لائن اشاعت دا وائر پر لکھا: این ڈی ٹی وی میں ہم جو فیصلے کرتے ہیں وہ ادارتی اور صحافتی دیانتداری کی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ سرجیکل سٹرائيکس کے بارے میں بغیر کسی شواہد کے جو سیاسی رسہ کشی ہو رہی ہے وہ ہماری قومی سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔‘
پاکستانی صحافی بھی حکومت کے موقف کے سامنے آسانی سے سپر ڈال دیتے ہیں حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ وہ زیادہ بہادر ہیں اور ہندوستانی صحافیوں کے مقابلے پر زیادہ آزادی کے ساتھ حکومت سے اختلاف کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔
انڈیا خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے اور اس کا ڈھنڈورا پیٹتا رہتا ہے لیکن 2016 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں اس کا نمبر بہت نیچے ہے۔ صحافت کی آزادی کے معاملے میں وہ دنیا کے 180 ممالک میں سے 133 ویں نمبر پر ہے اور اس کی حالت خراب تر ہو رہی ہے۔ یہ فہرست رپورٹرز وداؤٹ بورڈرز نےجاری کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ حکومت اس مسئلے لاتعلق نظر آتی ہے۔
انڈیا میں گذشتہ سال چار صحافی قتل ہوئے جب کہ تقریباً ہر ماہ ایک صحافی پر حملہ ہوتا ہے۔ ہتک کا ظالمانہ قانون صحافیوں پر ڈباؤ ڈالتا ہے جس کے نتیجے میں لوگ از خود سینسرشپ کی راہ اختیار کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میڈیا پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ داہوٹ کی گیتا سیشو کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ قومی سلامتی کا بیانیہ حاوی ہے جس کے نتیجے میں کشمیر میں انٹرنیٹ اور اخباروں پر پابندی عائد ہو جاتی ہے، جب کہ کارپوریٹ فراڈ کو افشا کرنے پر ہتک کا مقدمہ سر پر منڈلاتا ہے۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تشدد کی حالیہ لہر کے دوران حکومت نے پریس کی آزادی پر کئی طرح کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ کرفیو پاس نہیں دیے گئے، صحافیوں پر حملے ہوئے ہیں، ریاست میں کئی دنوں تک اخباروں کی اشاعت معطل رہی ہے اور ایک اخبار کشمیر ریڈر پر تو پابندی ہی عائد کر دی گئی ہے۔
دنیا کے کسی دوسرے حصے میں اخباروں پر پابندی کے خلاف بہت شور اٹھا ہوتا لیکن انڈیا میں میڈیا نے اسے بڑی حد تک نظر انداز کرنا ہی مناسب سمجھا۔
پاکستان کی کمزور جمہوریت اور وسیع پیمانے پر دہشت گردی کے سبب پاکستان پریس کی آزادی کے معاملے میں اور بھی نیچے یعنی 147ویں نمبر پر ہے۔ یہ درجہ بندی اس بات سے متصادم ہے کہ پاکستانی میڈیا نسبتاً زیادہ آزاد ہے۔
آر ایس ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کو شدت پسند اسلامی تنظیموں اور پاکستان کے انٹیلیجنس اداروں کا خوف کا سامنا رہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نشریاتی اداروں کی جانب سے وسیع پیمانے پر از خود سینسرشپ اپنائی جاتی ہے۔
پاکستانی صحافی رضا رومی 2014 میں خود پر قاتلانہ حملے کے بعد خود اختیار کرد جلاوطنی کے تحت امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'جہاں تک پاکستان میں قومی سلامتی کے معاملے کی بات ہے تو انگریزی زبان کے اخباروں میں اختلاف کی آواز سنائی دی جا سکتی ہے، لیکن ٹی وی پر اسٹیبلشمنٹ سے انحراف خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سادہ لفظوں میں، اس کی اجازت نہیں ہے۔‘
رومی ایک ٹی وی شو کی میزبانی کرتے تھے جس میں وہ ملک کی خارجہ پالیسی سے اختلاف رکھتے تھے اور اقلیت کے حقوق کی باتیں اٹھاتے تھے۔
بلوچستان میں انسانی حقوق پر رپورٹنگ کرنے کے لیے معروف نیوز اینکر حامد میر پر اسی سال قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور ان کے بھائی نے فوراً ہی اس کا الزام پاکستان فوج پر لگا دیا تھا۔
جان کا خطرہ اور براہ راست سینسرشپ اس مسئلہ ایک صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جن خبروں میں حکومت یا فوج پر تنقید کی جاتی ہے وہ معمول کے بجائے کمیاب ہوتی جا رہی ہیں اور میڈیا اسٹیبلشمنٹ کے موقف پر ہی گامزن ہے۔
مانینی چیٹرجی نے دا ٹیلیگراف اخبار میں لکھا: ’اب کسی کو سینسرشپ اور خودساختہ سینسرشپ، سچ اور پروپیگنڈا، جرنلزم اور جنگوازم (یعنی جنگجویانہ وطن پرستی) کے درمیان فرق کی تمیز نہیں رہی۔‘
انڈیا میں نریندر مودی کی حکومت نے صحافیوں کی رسائی کم کر دی ہے اور پی آر کی حوصلہ افزائی کی ہے تاکہ اس کے بیانیے پر بہتر کنٹرول رکھا جا سکے۔ جبکہ پاکستان میں زیادہ تر دباؤ فوج کی جانب سے ہی ہے۔
اس بحث میں کوئی بھی فاتح نہیں کیونکہ انڈیا اور پاکستان دنوں جگہ پریس کی آزادی دباؤ میں ہے۔