افغان پناہ گزینوں کی واپسی پر سہ فریقی اجلاس

 پاکستان میں پندرہ لاکھ کے قریب افغان پناہ گزین مختلف علاقوں میں مقیم ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن پاکستان میں پندرہ لاکھ کے قریب افغان پناہ گزین مختلف علاقوں میں مقیم ہیں
    • مصنف, خدائے نورناصر
    • عہدہ, بی بی سی افغان سروس، اسلام آباد

پاکستان، افغانستان اور یو این ایچ سی آر حکام کے درمیان منگل کو مری میں سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی پاکستان میں قیام کی تاریخ میں توسیع اور ان کی رضاکارانہ واپسی پر بات چیت ہوئی۔

اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی سٹیٹ اینڈ فرنٹیئر ریجن کے وزیر جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ، افغانستان کی طرف سے مہاجرین کے وزیر سید حسین عالمی بلخی اور یواین ایچ سی آر کی پاکستان اور افغانستان میں سربراہان نے شرکت کی۔

یواین ایچ سی آر پاکستان کی ترجمان دنیا اسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس اجلاس میں دونوں حکومتوں نے ایک دوسرے کو بریف کیا۔ پاکستان نے اجلاس کو افغان پناہ گزینوں کے معاملے کے حل بارے میں پیش رفت سے آگاہ کیا جبکہ افغان حکومت نے ان پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور ان کی آبادکاری کے حوالے سے ہونے والےاقدامات کے بارے میں اجلاس کو بریف کیا۔

دنیا اسلم خان کے مطابق اجلاس میں باضابطہ طور پر پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے قیام کی آخری تاریخ میں چھ ماہ کی توسیع اور رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے ان پناہ گزینوں کو دی جانے والی رقم کو بڑھانے پر دستخط کیے گئے۔

تین اعشاریہ نو ملین افغان پناہ گزین واپس افغانستان جا چکے ہیں: یو این ایچ سی آر
،تصویر کا کیپشنتین اعشاریہ نو ملین افغان پناہ گزین واپس افغانستان جا چکے ہیں: یو این ایچ سی آر

وزیراعظم نوازشریف نے گذشتہ ماہ ملک میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے قیام کی آخری تاریخ میں چھ ماہ کی توسیع کر دی تھی۔

یواین ایچ سی آر کے مطابق اس وقت پاکستان میں لگ بھگ پندرہ لاکھ افغان پناہ گزین مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔ تاہم اتنی ہی تعداد میں غیرقانونی طور پر آباد افغان پناہ گزیں پاکستان میں موجود ہیں۔

پاکستان کی جانب سے تورخم بارڈر پر بارڈرمنیجمنٹ اور اسی بارڈر پر پاکستانی اور افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ کے بعد یہ پہلا اجلاس تھا۔

یواین ایچ سی آر کے مطابق انہی اجلاسوں کی بدولت ابھی تک تین اعشاریہ نو ملین افغان پناہ گزین واپس اپنے ملک جاچکے ہیں۔