زمانہ دیکھتا ہے ہر تماشا!

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, آمنہ مفتی
    • عہدہ, مصنفہ و کالم نگار

چند سال پہلے میں نے ایک ڈرامہ ’جہیز‘ لکھا، جس میں سسرال والے اپنی بہو کو جلا کر مار دیتے ہیں۔ بہت لے دے مچی۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ جلانے کا سین دیکھ کر مزا نہیں آیا، کچھ پھسپھسا سا تھا۔

سگریٹ نوشی ہمارے یہاں عام ہے۔ اگر سگریٹ میسر نہ ہو تو دیا سلائی جلا کر سیکنڈ کے ہزارویں حصے کے لیے انگلی پر رکھیے، بالکل مزا نہیں آئے گا۔ کئی روز تک تپک محسوس ہو گی اور فاضل کالم نگار کو اچھے کلمات سے یاد کیا جائے گا۔

اس اعتراض کا جواب نہ میں اس وقت دے پائی اور نہ آج دے سکتی ہوں جب میرے سامنے دو زندہ جلائی جانے والی لڑکیوں کی خبریں بار بار آ رہی ہیں۔

٭<link type="page"><caption> آلو میاں مٹالو!</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/06/160605_amna_mufti_column_zis.shtml" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> ہاسا نکلے ہی جا رہا ہے!</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160527_amna_mufti_column_zis" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> خبر ایک بار پھر گرم ہے!</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160520_amna_mufti_column_zis" platform="highweb"/></link>

ایک کو ماں نے جلایا، دوسری کو سسرال والوں نے، اور ایک تیسری بھی تھی، جسے رشتے کے خواہشمند نے جلایا، چوتھی کو اس کی بھاگ جانے والی سہیلی کے بھائی بندوں نے، اور ایک حلیمہ بھی تو ہے جسے اس کے عاشق نے گلا گھونٹ کر مار دیا۔ جلانے کا موقع نہ ملا، یقیناً وہ 72 روپے فی لیٹر کا پٹرول اس عورت کو جلانے پر ضائع نہیں کرنا چاہ رہا تھا جس سے وہ تین لاکھ لوٹ چکا تھا۔

کچھ ہفتے قبل ذبح کی جانے والی لڑکی کا قاتل اس کا بھائی تھا اورجانے تماشا دیکھنے والوں کو اس کے تڑپ تڑپ کے مرنے کا سین دیکھتے ہوئے مزا آیا، یا یہ سین بھی پھسپھسا رہا؟

پارلیمنٹ نے ان لڑکیوں پہ روا رکھے گئے سلوک کی مذمت کرتے ہوئے پانچ منٹ کی خاموشی اختیار کی اور کارروائی معطل رکھی، اچھا کیا۔ ان کی تقلید کرتے ہوئے پوری قوم لمبی چپ سادھ لے تواور بھی اچھا ہے۔

میڈیا کو پاناما لیکس کے چبائے ہوئے نوالے کی جگہ ایک تازہ پان مل گیا، جس کی دھڑی بھی خوب لال جمے گی اور دیکھنے والے اس حسین سوگوار بیوہ کے غم میں اداس بھی رہیں گے۔ لوگوں کو افطار پارٹیوں پر کرنے کو ایک بات مل جائے گی اور کچھ دن بعد ایک اور عورت کو وہ رشتے جن پہ وہ اعتماد کرتی ہے، ماں، بھائی، باپ، چاہنے والا، جلا کر یا گلا گھونٹ کر مار دیں گے۔

پارلیمنٹ پھر ان کے دکھ میں خاموشی اختیار کرے گی۔ لڑکیوں کو جلانے کے خلاف نئے قانون بنانے کے نعرے لگائے جائیں گے۔ کوئی اس کا ذمہ دار ’الباکستان‘ کو ٹھہرائے گا اور کوئی طالبان کو۔ کوئی اسے قتلِ غیرت کہے گا، کوئی سارا قصور جہالت پہ دھرے گا (ماریہ کی تعلیم اس کی موت کا باعث بنی)۔ عورتوں کی تعلیم اور انھیں ان کے حقوق کا احساس دلانے کا شور مچایا جائے گا۔

ایک گروہ چلائے گا، اسلام تو 14 سو سال پہلے عورتوں کو زندہ دفن ہونے سے بچا چکا ہے۔

کوئی مغرب پہ طعنہ دھرے گا کہ وہاں بھی تو عورتوں کو جادوگرنی ہونے کے شبے میں زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ کوئی اس کا ذمہ دار عشقیہ فلموں کو ٹھہرائے گا (ہیر اور سوہنی کون سی فلمیں دیکھتی تھیں؟) کوئی کم عمری میں شادی کو سب مسائل کا حل بتائے گا (نادیہ کو شادی کے بعد ہی جلایا گیا) اتنی بحث ہو گی اتنی بحث ہو گی کہ سب ہانپ جائیں گے۔ آخر انسان ہیں، اب کیا جلنے والیوں کے ساتھ ستی ہو جائیں؟

اصل ذمہ دار کون ہے؟ چھوڑیے، ایک کمیٹی بنے گی جو ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دے گی۔ آپ اتنا بتائیے زینت کو جلانے اور مارنے کے سین کی سب جزئیات آپ پڑھ اور دیکھ چکے ہیں ، مزہ آیا؟ نہیں؟

ماریہ کو جلانے کا سین؟ عنبرین کو آگ لگانا؟ نادیہ کی موت؟ نہیں؟ سب ایک سے سین؟ بار بار دہرائے جانے والے۔ ارے ہاں کچھ سال پہلے یہ مناظر ذرا مختلف تھے۔ تب لوگ کہانی میں کچھ ٹوِسٹ رکھتے تھے اور سیدھا پٹرول ڈال کے جلانے کی بجائے تیل کا چولھا پھٹا کرتا تھا، جلنے والی عام طور پر بہو ہوتی تھی۔ لیکن اب وہ کوئی بھی ہو سکتی ہے، عورتوں کو آزادی ہے وہ ہر رشتے کے ہاتھوں جل سکتی ہیں۔

اچھا چھوڑیے، آپ کو ایک اور منظر دکھاتے ہیں۔ ملک کا سب سے باعزت ادارہ، ایک صاحب اور ایک خاتون۔ جو نہ ان کی ماں ہیں نہ بہن، نہ یہ ان کے باپ، نہ بھائی، نہ دوست کچھ بھی نہیں۔ نہ یہ خاتون گھر سے بھاگی، نہ جاہل تھی، نہ کسی پنچائت کے ہتھے چڑھی۔

اسے نہ صرف اپنے حقوق کا احساس ہے بلکہ یہ تو مردوں کو بھی ان کے حقوق لے کر دینے کو تلی کھڑی ہے۔ تھوڑی بد تہذیب ہے، اونچی آواز میں بولتی ہے، سمع خراشی کرتی ہے، کوئی تقریر کرنے کو کھڑا ہو تو شور مچاتی ہے، بات نہیں کرنے دیتی۔

اس کا کام تو گھر چلانا تھا جو یہ یقیناً نہیں کر پائی، اب یہ یہاں کیا کر رہی ہے، یار اس کو چپ کراؤ۔ جی تو چاہتا تھا ایک پٹرول کا کین ہو، تیزاب کی بوتل ہو، لیکن ہائے صرف الفاظ، الفاظ سے کیا ہوتا ہے جی؟ ایسی کیا قیامت آگئی؟ اتنا شور کیوں مچا رہے ہیں؟

یہ بتائیے، مزا آیا؟ کیسا سین تھا؟ نہیں؟ ری ٹیک، لائیٹس، کیمرا، ایکشن!